tujh se dil mein jo gila thaa vo na laae lab par
phir se ham bhar gae zakhmon ko haraa kyaa karte

Fayyaz Farooqi
Fayyaz Farooqi
Fayyaz Farooqi
Popular Shayari
8 totaljab un ki bazm mein har khaas o aam rusvaa hai
ajiib kyaa hai agar meraa naam rusvaa hai
ye sochaa hai ki tujh ko sochnaa ab chhoD dungaa main
ye laghzish mujh se lekin be-iraada ho hi jaati hai
raah mein us ki chalein aur imtihaan koi na ho
kaise mumkin hai ki aatish ho dhuaan koi na ho
kaise mumkin hai ki qisse jis se sab vaabasta hon
vo chale aur saath us ke daastaan koi na ho
baDhaanaa haath pakaDne ko rang muTThi mein
to titliyon ke paron kaa daraaz ho jaanaa
jugnu havaa mein le ke ujaale nikal paDe
yuun tirgi se laDne jiyaale nikal paDe
kahaani ho koi bhi teraa qissa ho hi jaati hai
koi tasvir dekhun teraa chehra ho hi jaati hai
Ghazalغزل
راہ میں اس کی چلیں اور امتحاں کوئی نہ ہو کیسے ممکن ہے کہ آتش ہو دھواں کوئی نہ ہو اس کی مرضی ہے وہ مل جائے کسی کو بھیڑ میں اور کبھی ایسے ملے کہ درمیاں کوئی نہ ہو جگمگاتا ہے ستارہ بن کے تب امید کا بجھ گئے ہوں سب دیے اور کہکشاں کوئی نہ ہو خانۂ دل میں وہ رہتا کب کسی کے ساتھ ہے جلوہ گر ہوتا ہے وہ جب میہماں کوئی نہ ہو کیسے ممکن ہے کہ قصے جس سے سب وابستہ ہوں وہ چلے اور ساتھ اس کے داستاں کوئی نہ ہو سارے عالم پر وہ لکھ دیتا ہے اس کا نام جب کوئی خود کو یوں مٹا لے کہ نشاں کوئی نہ ہو بن کے لشکر ساتھ ہو جاتا ہے وہ فیاضؔ جب ہم سفر کوئی نہ ہو اور کارواں کوئی نہ ہو
raah mein us ki chalein aur imtihaan koi na ho
1 views
نکلا جو چلمنوں سے وہ چہرہ آفتابی اک آن میں افق کا آنچل ہوا گلابی رخ سے نقاب ان کے سرکا ہوا ہے کچھ کچھ دیوانہ کر نہ ڈالے یہ نیم بے حجابی سو جام کا نشہ ہے ساقی تری نظر میں کہتے ہیں بادہ کش بھی مجھ کو ترا شرابی بیکار لگ رہی ہیں دنیا کی سب کتابیں دیکھی ہے جب سے میں نے صورت تری کتابی مرجھائے پھول سب ہیں کلیوں نے سر جھکائے گلشن میں اک ستم ہے یہ تیری بے نقابی کب چین سے رہا ہے یہ فکر کا پرندہ فیاضؔ کی ہے فطرت کس درجہ اضطرابی
niklaa jo chilmanon se vo chehra aaftaabi
1 views
شکوہ ہم تجھ سے بھلا تیز ہوا کیا کرتے گھر تو اپنے ہی چراغوں سے جلا کیا کرتے تم تو پہلے ہی وفاؤں سے گریزاں تھے بہت تم سے ہم ترک تعلق کا گلہ کیا کرتے گل میں رنگت تھی نظاروں میں جوانی تجھ سے ہم ترے بعد بہاروں کا بھلا کیا کرتے تجھ سے دل میں جو گلہ تھا وہ نہ لائے لب پر پھر سے ہم بھر گئے زخموں کو ہرا کیا کرتے ہم تو کر دیتے گلہ تجھ سے نہ آنے کا ترے گھونٹ دیتی تھی پر امید گلا کیا کرتے جس کی الفت میں ہر اک چیز لٹا دی فیاضؔ ہم کو سمجھا گئے آداب وفا کیا کرتے
shikva ham tujh se bhalaa tez havaa kyaa karte
کہانی ہو کوئی بھی تیرا قصہ ہو ہی جاتی ہے کوئی تصویر دیکھوں تیرا چہرہ ہو ہی جاتی ہے تری یادوں کی لہریں گھیر لیتی ہیں یہ دل میرا زمیں گھر کر سمندر میں جزیرہ ہو ہی جاتی ہے گئی شب چاند جیسا جب چمکتا ہے خیال اس کا تمنا میری اک چھوٹا سا بچہ ہو ہی جاتی ہے سجا ہے تاج میرے سر پہ لیکن یہ نظر میری جو اس کی سمت جاتی ہے تو کاسہ ہو ہی جاتی ہے جتن کرتا ہوں کتنے روک لوں سیلاب آنکھوں میں مگر تعمیر میری یہ شکستہ ہو ہی جاتی ہے یہ سوچا ہے کہ تجھ کو سوچنا اب چھوڑ دوں گا میں یہ لغزش مجھ سے لیکن بے ارادہ ہو ہی جاتی ہے جو ہے فیاضؔ اس کو دیکھ کر مبہوت حیرت کیا تڑپتی ہے جو بجلی آنکھ خیرہ ہو ہی جاتی ہے
kahaani ho koi bhi teraa qissa ho hi jaati hai
جگنو ہوا میں لے کے اجالے نکل پڑے یوں تیرگی سے لڑنے جیالے نکل پڑے سچ بولنا محال تھا اتنا کہ ایک دن سورج کی بھی زبان پہ چھالے نکل پڑے اتنا نہ سوچ مجھ کو ذرا دیکھ آئینہ آنکھوں کے گرد حلقے بھی کالے نکل پڑے محفل میں سب کے بیچ تھا ذکر بہار کل پھر جانے کیسے تیرے حوالے نکل پڑے
jugnu havaa mein le ke ujaale nikal paDe





