main ne bheji thi gulaabon ki bashaarat us ko
tohfatan us ne bhi khushbu-e-vafaa bheji hai
Hamid Sarosh
Hamid Sarosh
Hamid Sarosh
Popular Shayari
2 totalkitne gham hain jo sar-e-shaam sulag uThte hain
chaara-gar tu ne ye kis dukh ki davaa bheji hai
Ghazalغزل
ہر شخص اپنے آپ میں سہما ہوا سا ہے دیکھو تو شہر سوچو تو ویرانیاں بہت لیٹا ہوا پنگوڑے میں تکتا ہے آسماں لکھی ہوئی ہیں آنکھوں میں حیرانیاں بہت زائیدگان شب کو گوارا نہیں سحر ڈستی ہیں ان کو صبح کی تابانیاں بہت دیں کیسے اس کا ہاتھ زمانے کے ہاتھ میں اب تک تو کی ہیں اس کی نگہبانیاں بہت پل بھر خوشی بھی ہم نے غنیمت شمار کی رہتی ہیں یوں بھی دل کو پریشانیاں بہت کن پتھروں سے ہم نے تراشے ہیں روز و شب کام آ گئیں ہماری گراں جانیاں بہت
har shakhs apne aap mein sahmaa huaa saa hai
سانس لینے کے لیے تازہ ہوا بھیجی ہے زندگی کے لیے معصوم دعا بھیجی ہے میں نے بھیجی تھی گلابوں کی بشارت اس کو تحفۃً اس نے بھی خوشبوئے وفا بھیجی ہے میں تو قاتل تھا بری ہو کے بھی قاتل ہی رہا مجھ کو انصاف نے جینے کی سزا بھیجی ہے کتنے غم ہیں جو سر شام سلگ اٹھتے ہیں چارہ گر تو نے یہ کس دکھ کی دوا بھیجی ہے مرحلے اور بھی تھے جاں سے گزرنے کے لیے کربلا کس نے پس کرب و بلا بھیجی ہے
saans lene ke liye taaza havaa bheji hai
رات کاٹی ہے جاگ کر بابا دن گزارا ہے دار پر بابا ہاتھ آیا نہ روشنی کا سراب دور تھا چاند کا نگر بابا اپنے مرکز سے دور ہو کر ہم ہو گئے اور در بدر بابا چوٹ کھا کر سنبھل نہ پائے ہم پھول پھینکا تھا تاک کر بابا ہم فقیروں میں مل کے بیٹھ کبھی تخت طاؤس سے اتر بابا راستوں کے عذاب سے ڈر کر یوں نہ ہر ہر قدم پہ مر بابا تھی دھنک دور آسمانوں میں اور ہم تھے شکستہ پر بابا
raat kaaTi hai jaag kar baabaa
شہر طرب میں آج عجب حادثہ ہوا ہنستے میں اس کی آنکھ سے آنسو چھلک پڑا حیران ہو کے سوچ رہا تھا کہ کیا کہوں اک شخص مجھ سے میرا پتہ پوچھنے لگا ہالہ نہیں ہے آتش فرقت کی آنچ ہے تارا نہ تھا تو چاند کا پہلو سلگ اٹھا اب یاد بھی نہیں کہ شکایت تھی ان سے کیا بس اک خیال ذہن کے گوشے میں رہ گیا کتنے ہی تارے ٹوٹ کے دامن میں آ گرے جب چودھویں کا چاند گھٹاؤں میں جا چھپا باد خزاں چمن سے شبستاں تک آ گئی تکیے کا سرخ پھول بھی مرجھا کے رہ گیا سوچا تھا اس سے دور کہیں جا بسیں گے ہم لیکن سروشؔ ہم سے پشاور نہ چھٹ سکا
shahr-e-tarab mein aaj ajab haadisa huaa





