shahr ki bhiiD mein shaamil hai akelaa-pan bhi
aaj har zehn hai tanhaai kaa maaraa dekho
Hasan Najmi Sikandarpuri
Hasan Najmi Sikandarpuri
Hasan Najmi Sikandarpuri
Popular Shayari
4 totalham ko is ki kyaa khabar gulshan kaa gulshan jal gayaa
ham to apnaa sirf apnaa aashiyaan dekhaa kiye
maango samundaron se na saahil ki bhiik tum
haan fikr o fan ke vaaste gahraai maang lo
mausam kaa zulm sahte hain kis khaamushi ke saath
tum pattharon se tarz-e-shakebaai maang lo
Ghazalغزل
کوئی غمگیں کوئی خوش ہو کر صدا دیتا رہا رات شہر دل کا ہر منظر صدا دیتا رہا سنگساری کی سزا ٹھہری تھی جن کے واسطے ان کو پہلے ہی سے ہر پتھر صدا دیتا رہا میرے کرب تشنگی پر رات شیشے رو پڑے خشک ہونٹوں کو مرے ساغر صدا دیتا رہا نشۂ صحرا نوردی میں تجھے کب ہوش تھا تجھ کو شہر گل کا اک اک گھر صدا دیتا رہا کھو گئی جب آنکھ نجمیؔ یاد آیا خواب میں ہم کو شاید اک پری پیکر صدا دیتا رہا
koi ghamgin koi khush ho kar sadaa detaa rahaa
لوگ صبح و شام کی نیرنگیاں دیکھا کیے اور ہم چپ چاپ ماضی کے نشاں دیکھا کیے عقل تو کرتی رہی دامان ہستی چاک چاک ہم مگر دست جنوں میں دھجیاں دیکھا کیے خنجروں کی تھی نمائش ہر گلی ہر موڑ پر اور ہم کمرے میں تصویر بتاں دیکھا کیے ہم تن آسانی کے خوگر ڈھونڈتے منزل کہاں دور ہی سے گرد راہ کارواں دیکھا کیے ہم کو اس کی کیا خبر گلشن کا گلشن جل گیا ہم تو اپنا صرف اپنا آشیاں دیکھا کیے موسم پرواز نے نجمیؔ پکارا تھا مگر پر سمیٹے ہم قفس کی تیلیاں دیکھا کیے
log subh o shaam ki nairangiyaan dekhaa kiye
آئنوں سے پہلے بھی رسم خود نمائی تھی دل شکار ہوتے تھے ایسی دل ربائی تھی پھول پھول بام و در راستے ہیں گل پیکر وہ ادھر سے گزرے تھے یا بہار آئی تھی پاس کا مسافر کیوں اٹھ کے دور جا بیٹھا نام پوچھ لینے میں ایسی کیا برائی تھی کچھ شفق شفق عارض کچھ افق افق چہرے آرزو نے بزم اپنی رات یوں سجائی تھی کتنا محترم تھا میں بھولتا نہیں نجمیؔ بھوک بھی مرے گھر میں سر جھکا کے آئی تھی
aainon se pahle bhi rasm-e-khud-numaai thi
اہل ہوس کے ہاتھوں نہ یہ کاروبار ہو آباد ہوں ستارے زمیں ریگزار ہو اک شان یہ بھی جینے کی ہے جی رہے ہیں لوگ طوفان سے لگاؤ سمندر سے پیار ہو حالات میں کبھی یہ توازن دکھائی دے غم مستقل رہے نہ خوشی مستعار ہو نفرت کے سنگ ریزوں کی بارش تھمے کبھی دیر و حرم کے بیچ سفر خوش گوار ہو صدیوں سے گھل رہی ہے اسی فکر میں حیات رہزن سے پاک زیست کی ہر رہ گزار ہو باد سموم لوٹ لے چہروں کی تازگی اگلی صدی کی ایسی نہ فصل بہار ہو نجمیؔ جو اپنے عہد کی تاریخ بن گئے ان شاعروں میں کاش مرا بھی شمار ہو
ahl-e-havas ke haathon na ye kaarobaar ho
عشق کو پاس وفا آج بھی کرتے دیکھا ایک پتھر کے لیے جی سے گزرتے دیکھا پست غاروں کے اندھیروں میں جو لے جاتی ہیں وہ اڑانیں بھی تو انسان کو بھرتے دیکھا جبھی لائی ہے صبا موسم گل کی آہٹ برگ افسردہ ہوئے شاخوں کو ڈرتے دیکھا تری دہلیز پہ گردش کا گزر کیا معنی تجھ کو جب دیکھا ہے کچھ بنتے سنورتے دیکھا بے صدا ہی سہی پر سنگ صفت ہیں لمحے ان کی آغوش میں ہر شے کو بکھرتے دیکھا جو بھی بیتی سر فرہاد پہ بیتی نجمیؔ کسی پرویزؔ کو تیشے سے نہ مرتے دیکھا
ishq ko paas-e-vafaa aaj bhi karte dekhaa
ہر زخم دل سے انجمن آرائی مانگ لو پھر شہر پر ہجوم سے تنہائی مانگ لو موسم کا ظلم سہتے ہیں کس خامشی کے ساتھ تم پتھروں سے طرز شکیبائی مانگ لو حسن تعلقات کی جو یادگار تھے ماضی سے ایسے لمحوں کی رعنائی مانگ لو مانگو سمندروں سے نہ ساحل کی بھیک تم ہاں فکر و فن کے واسطے گہرائی مانگ لو سمجھو انہیں جو دیتے ہیں یہ مشورہ تمہیں نرگس سے ہاتھ جوڑ کے بینائی مانگ لو وہ سو کے جیوں ہی اٹھیں پہنچ جاؤ ان کے پاس اور ان سے انقلاب کی انگڑائی مانگ لو نجمیؔ سنا ہے تم پہ بھی موسم ہے مہرباں باد سموم سے کبھی پروائی مانگ لو
har zakhm-e-dil se anjuman-aaraai maang lo





