na vo iqraar kartaa hai na vo inkaar kartaa hai
hamein phir bhi gumaan hai vo hamin se pyaar kartaa hai

Hasan Rizvi
Hasan Rizvi
Hasan Rizvi
Popular Shayari
5 totalye us ke pyaar ki baatein faqat qisse puraane hain
bhalaa kachche ghaDe par kaun dariyaa paar kartaa hai
kabhi kitaabon mein phuul rakhnaa kabhi darakhton pe naam likhnaa
hamein bhi hai yaad aaj tak vo nazar se harf-e-salaam likhnaa
thaa jo ek lamha visaal kaa vo riyaaz thaa kai saal kaa
vahi ek pal mein guzar gayaa jise umr guzri pukaarte
ab us se baDh ke bhalaa mo'tabar kahein kis ko
zamaana us kaa hai maazi-o-haal us ke hain
Ghazalغزل
تمام شعبدے اس کے کمال اس کے ہیں شکاری اور ہے ظاہر میں جال اس کے ہیں وہ ایک شخص جو اوجھل ہوا ہے آنکھوں سے ہر ایک چہرے پہ اب خد و خال اس کے ہیں بسر کیا ہے جسے ہم نے زندگی کی طرح متاع عمر کے سب ماہ و سال اس کے ہیں وہ خوش نصیب ہے کتنا کہ اتنے برسوں سے ستارے برج میں سب حسب حال اس کے ہیں اب اس سے بڑھ کے بھلا معتبر کہیں کس کو زمانہ اس کا ہے ماضی و حال اس کے ہیں بدلتی رت میں جسے میں نہ بھول پایا حسنؔ نشان دل پہ مرے لا زوال اس کے ہیں
tamaam shobade us ke kamaal us ke hain
محبت کا عجب زاویہ ہے ہوائیں چار سو اور اک دیا ہے ہم اہل درد خود سے پوچھتے ہیں وطن کو ہم نے اب تک کیا دیا ہے ستم گر کے ستم اتنے بڑھے ہیں لبوں کو آج ہم نے سی لیا ہے اچانک بول اٹھے دیوار و در بھی یہ کس کا نام میں نے لے لیا ہے تمہارے خواب آخر کیا ہوئے ہیں حقیقت آشنا کس نے کیا ہے تمہاری پیاس کیوں بجھتی نہیں ہے یہ کس کی اوک سے پانی پیا ہے مری آنکھوں سے آنسو کس نے پونچھے گریباں چاک یہ کس نے سیا ہے سبھی کو لوٹنا ہے اک نہ اک دن حسنؔ دنیا میں کون اتنا جیا ہے
mohabbat kaa ajab zaaviya hai
پھر نئے خواب بنیں پھر نئی رنگت چاہیں زندہ رہنے کے لئے پھر کوئی صورت چاہیں نئے موسم میں کریں پھر سے کوئی عہد وفا عشق کرنے کے لئے اور بھی شدت چاہیں ایک وہ ہیں کہ نظر بھر کے نہ دیکھیں ہم کو ایک ہم ہیں کہ فقط ان کی ہی صورت چاہیں بات سننے کے لئے حوصلہ دل میں رکھیں بات کہنے کے لئے حرف صداقت چاہیں ان کو پانے کے لئے تیشۂ فرہاد بنیں قیس بننے کے لئے قیس سی وحشت چاہیں سانس قربان کریں دیس پہ اک دن ہم بھی ایسی تقدیر ملے ایسی سعادت چاہیں ہم ملیں ایسے کہ جوں رنگ ملے پانی میں ان کی قربت میں حسنؔ ایسی رفاقت چاہیں
phir nae khvaab bunein phir nai rangat chaahein
انیس جاں ہیں ابھی تک نشانیاں اس کی بھلائے بھول نہ پائے کہانیاں اس کی ہر ایک لہجے میں شامل ہے ذائقہ اس کا صدا صدا میں ہیں گوہر فشانیاں اس کی کسی کو مار گیا اس کا تند و تیز مزاج ہمیں تو مار گئیں قدر دانیاں اس کی ذرا سی بات پہ اس کا سمٹ سمٹ جانا وہ بات بات پہ نظراں جھکانیاں اس کی کیے ہیں جب بھی تقاضے نئے نئے اس سے سنی ہیں پھر وہی باتاں پرانیاں اس کی کسی کی بات پہ اس کا مہک مہک اٹھنا وہ میرے ذکر پہ کچھ بدگمانیاں اس کی نظر میں حسن کسی کا حسنؔ سماتا نہیں کہ ہم نے دیکھی ہیں اٹھتی جوانیاں اس کی
anis-e-jaan hain abhi tak nishaaniyaan us ki
کھلنے لگے ہیں پھول اور پتے ہرے ہوئے لگتے ہیں پیڑ سارے کے سارے بھرے ہوئے سورج نے آنکھ کھول کے دیکھا زمین کو سائے اندھیری رات کے جھٹ سے ہرے ہوئے مل کر کریں وہ کام جو پہلے کئے گئے! عرصہ ہوا ہے کام بھی ایسے کرے ہوئے کیسی عجیب رت ہے پرندے گھروں سے اب نکلے نہیں ہیں خوف کے مارے ڈرے ہوئے آتا ہے روز خواب میں وہ پیکر جمال آنکھوں کی گاگروں کو حیا سے بھرے ہوئے پھر سے کسی پہ ظلم کسی نے کیا ہے آج دیکھے ہیں گھونسلوں میں پرندے مرے ہوئے مشعل لئے ہوئے کوئی آئے گا اب حسنؔ بیٹھے ہیں کب سے طاق میں آنکھیں دھرے ہوئے
khilne lage hain phuul aur patte hare hue
میں نے اس کو برف دنوں میں دیکھا تھا اس کا چہرہ سورج جیسا لگتا تھا یوں بھی نظریں آپس میں مل لیتی تھیں وہ بھی پہروں چاند کو تکتا رہتا تھا وہ گلیاں وہ رستے کتنے اچھے تھے جب وہ ننگے پاؤں گھوما کرتا تھا چاروں جانب اس کی خوشبو بکھری تھی ہجر کا اک موسم بھی اس کے جیسا تھا دور کہیں آواز کے گھنگھرو بجتے تھے اور میں کان لگائے سنتا رہتا تھا سبز رتوں میں اکثر مجھ کو یاد آیا اس نے خط میں سوکھا پتا بھیجا تھا
main ne us ko barf dinon mein dekhaa thaa





