SHAWORDS
Hasrat Azimabadi

Hasrat Azimabadi

Hasrat Azimabadi

Hasrat Azimabadi

poet
26Sher
26Shayari
41Ghazal

Sherشعر

See all 26

Popular Sher & Shayari

52 total

Ghazalغزل

See all 41
غزل · Ghazal

hai yaad tujh se meraa vo sharh-e-haal denaa

ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینا اور سن کے تیرا اس کو ہنس ہنس کے ٹال دینا کر کر کے یاد اس کی بے حال ہوں نہایت فرصت ذرا تو مجھ کو تو اے خیال دینا اس زلف کج کے عقدے ہرگز کھلے نہ مجھ پر کیوں اس کو شانہ کر کے ایک ایک بال دینا میں مدعا کو اپنے محمل کہوں ہوں تجھ سے گوش دل اپنا ایدھر صاحب جمال دینا اس عمر بھر میں تجھ سے مانگا ہے ایک بوسہ خالی پڑے نہ پیارے میرا سوال دینا ہم سے رکھائیاں اور منہ جھلسے مدعی کا بوسہ پہ بوسہ ہر دم دوں بے سوال دینا یارب کسی پہ ہرگز عاشق کوئی نہ ہو جو دل ہاتھ دلبروں کے ہے بد مآل دینا وہ مہرباں کہ ہم کو الطاف بر محل سے پاس اپنے سے تھا اس کو اٹھنے محال دینا دیکھے ہے دور سے تو کہتا ہے بے مروت یہ کون آ گھسا ہے اس کو نکال دینا قابو ہے تیرا حسرتؔ مت چھوڑ مدعی کو دشمن کو مصلحت نیں ہرگز مجال دینا

غزل · Ghazal

aae hain ham jahaan mein gham le kar

آئے ہیں ہم جہاں میں غم لے کر دل پر خوں و چشم نم لے کر ساغر مے کہاں ہے اے گردوں کیا کریں تیرا جام جم لے کر وعدہ اقسام کر چکا تو خلاف اب کے چھوڑوں گا میں قسم لے کر اس کی محفل سے کب اٹھے گا رقیب یہ سعادت بھرے قدم لے کر تر و خشک جہاں پہ قانع رہ دست دوراں سے بیش و کم لے کر سر سے مارا کریں پڑے اپنے گو شہاں طبل اور علم لے کر راہ میں تیری ضعف سے حسرتؔ چلے ہر ہر قدم میں دم لے کر

غزل · Ghazal

kare aashiq pe vo bedaad jitnaa us kaa ji chaahe

کرے عاشق پہ وہ بیداد جتنا اس کا جی چاہے رکھے دل کو مرے ناشاد جتنا اس کا جی چاہے ہمیں بھی صبر خاطر خواہ داد حق ہے الفت میں وہ دے جور و جفا کی داد جتنا اس کا جی چاہے یہ مظلوم محبت داد رس ہرگز نہ پاوے گا کرے دل داد اور فریاد جتنا اس کا جی چاہے عدم ہے اور وجود اس مشت پر کا بھی مساوی سا ستم ہم پر کرے صیاد جتنا اس کا جی چاہے بلائے ناگہاں گریہ گرفتاری نہیں غافل وہ ہو غم سے مرے آزاد جتنا اس کا جی چاہے نہیں ہے سر نوشت اس کی لب جاں بخش شیریں کی کرے جاں کندنی فرہاد جتنا اس کا جی چاہے ہمیں حسرتؔ فراموشی بھی اس کی یادگاری ہے کرے گو ہم کو کمتر یاد جتنا اس کا جی چاہے

غزل · Ghazal

har taraf hai us se mere dil ke lag jaane mein dhuum

ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھوم بلبل و گل میں ہے چہ چہ شمع و پروانے میں دھوم فتنہ گر ہے ناز و عشوہ اس کی چشم شوخ میں جوں مچاویں پی کے مے بدمست مے خانے میں دھوم یاد میں اپنی ہے شاید وہ فرامش کار بھی دل کرے ہے مجھ سے اس کی یاد دلوانے میں دھوم جس طرح باد خزاں دیدہ میں آتی ہے بہار شہر میں ہوتی ہے اس کے میرے گھر آنے میں دھوم نوبت اوروں کی تو اے ساقی سبو پرداز ہے کیا مچائی ہے ہمارے ایک پیمانے میں دھوم جوں بلندی سے گرے ہے خاک پر کوئی ضعیف ہے مری اس شوخ کی نظروں سے گر جانے میں دھوم دیکھ تو لے سیر ہو کر تجھ کو یہ خانہ خراب آتے ہی کیا ہے تری اتنی بھی گھر جانے میں دھوم برہمن ہونے کو آتا ہے نیا شیخ آج کون ہو رہی ہے ہر طرف حسرتؔ صنم خانے میں دھوم

غزل · Ghazal

rakhaa paa jahaan mein nagaaraa zamin par

رکھا پا جہاں میں نگارا زمیں پر بہت سر کو واں ہم نے مارا زمیں پر جنوں جوش مارے ہے دیوار و در سے ہوا کس پری کا گزارا زمیں پر نہیں ہے یہ آہ فلک سا کہ ہم نے علم شور سودا کا گاڑھا زمیں پر قدم جس جگہ رکھا اس سنگ دل نے نہ ہو واں بجز سنگ خارا زمیں پر نظر سے تری جس نے ہم کو گرایا فلک سے اٹھا کر کے مارا زمیں پر تو روئے زمیں دیکھ لے سیر ہو کر نہ ہوگا گزر پھر دوبارا زمیں پر ترے نقش پا کو کہے اپنا ہم سر نہیں ہے یہ منہ تو ہمارا زمیں پر وہ زہرہ جبیں مہرباں ہووے حسرتؔ کہاں ہے یہ اپنا ستارا زمیں پر

غزل · Ghazal

kab talak ham ko na aavegaa nazar dekhein to

کب تلک ہم کو نہ آوے گا نظر دیکھیں تو کیسے ترساتا ہے یہ دیدۂ تر دیکھیں تو عشق میں اس کے کہ گزرے ہیں سر و جان سے ہم اپنی کس طور سے ہوتی ہے گزر دیکھیں تو کر کے وہ جور و ستم ہنس کے لگا یہ کہنے آہ و افغاں کا تری ہم بھی اثر دیکھیں تو صبر ہو سکتا ہے کب ہم سے ولے مصلحتاً آزمائش دل بیتاب کی کر دیکھیں تو ڈھب چڑھے ہو مرے تم آج ہی تو مدت بعد جائیں گے آپ کہاں اور کدھر دیکھیں تو کس دلیری سے کرے ہے تو فدا جان اس پر دل جانباز ترا ہم بھی ہنر دیکھیں تو کیا مجال اپنی جو کچھ کہہ سکیں ہم تجھ سے اور تجھ کو بھر کر نظر اے شوخ پسر دیکھیں تو ہو چلیں خیرہ تو اختر شمری سے آنکھیں شب ہماری بھی کبھی ہوگی سحر دیکھیں تو عشق کے صدمے اٹھانے نہیں آساں حسرتؔ کر سکے کوئی ہمارا سا جگر دیکھیں تو

Similar Poets