SHAWORDS
Hosh Jaunpuri

Hosh Jaunpuri

Hosh Jaunpuri

Hosh Jaunpuri

poet
18Shayari
18Ghazal

Popular Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

محبت کر کے شرمندہ نہیں ہوں میں اس دنیا کا باشندہ نہیں ہوں حساب دلبراں مجھ سے نہ مانگو میں اک شاعر ہوں کارندہ نہیں ہوں میں اک آزاد و خود روشن ستارہ کسی سورج سے تابندہ نہیں ہوں طلسم غم سے پتھر ہو گیا ہوں میں زندہ ہوں مگر زندہ نہیں ہوں یہ میرا عہد مجھ میں جی رہا ہے میں بس اپنا نمائندہ نہیں ہوں

mohabbat kar ke sharminda nahin huun

غزل · Ghazal

پھول پتھر کی چٹانوں پہ کھلائیں ہم بھی آپ کہیے تو کوئی شعر سنائیں ہم بھی ریت پر کھیلتے بچوں کی نظر سے بچ کر آؤ اک خواب کی تصویر بنائیں ہم بھی اب کے موسم کی ہواؤں میں بڑی وحشت ہے زرد پتوں کی طرح ٹوٹ نہ جائیں ہم بھی قافلے اور بھی اس دشت سے گزرے ہوں گے لے کے آئے ہیں فقیروں سے دعائیں ہم بھی لوگ جلتے ہوئے گھر دیکھ کے خوش ہوتے ہیں اپنا گھر ہو تو کبھی آگ لگائیں ہم بھی منتظر ہے کوئی وادی کوئی بستی کوئی دشت اب پہاڑوں سے پگھل کر اتر آئیں ہم بھی ہم سے کیا کہتے ہو فیاضیٔ دست خیرات اسی کوچے میں لگاتے ہیں صدائیں ہم بھی

phuul patthar ki chaTaanon pe khilaaein ham bhi

غزل · Ghazal

باہر کا ماحول تو ہم کو اکثر اچھا لگتا ہے شام سے اک دن گھر میں رہ کر دیکھیں کیسا لگتا ہے کس کی یادیں کس کے چہرے اگتے ہیں تنہائی میں آنگن کی دیواروں پر کچھ سایہ سایہ لگتا ہے جسموں کے اس جنگل میں بس ایک ہی رام کہانی ہے غور سے دیکھو تو ہر چہرہ اپنا چہرا لگتا ہے موسم کی عیاش ہوا نے کچے پھل بھی توڑ لیے شاخ پہ لرزاں پتا پتا سہما سہما لگتا ہے دانہ دانہ دام لگا ہے جال بچھا ہے پانی پر ہائے رے یہ معصوم کبوتر کتنا بھولا لگتا ہے سرخ پرندہ ڈوب رہا ہے کالی جھیل کے پانی میں سچ کہنا اے ساحل والو تم کو کیسا لگتا ہے سائے کی امید نہ رکھیے پتھر کی چٹانوں سے بوسیدہ دیوار کا سایہ پھر بھی سایہ لگتا ہے محرومی کی تصویریں بھی کتنی دلکش ہوتی ہیں تھک کر سونے والے کو ہر خواب سنہرا لگتا ہے اڑ کے پرندے پار نہ پائیں شام کو تھک کر لوٹ آئیں ہوشؔ مجھے یہ سارا عالم ایک جزیرہ لگتا ہے

baahar kaa maahaul to ham ko aksar achchhaa lagtaa hai

غزل · Ghazal

اس سے پہلے کہ ہوا مجھ کو اڑا لے جائے اپنی زلفوں میں کوئی آ کے سجا لے جائے جس کو اس عہد میں جینے کا ہنر آتا ہو اس سے کہہ دو کہ مری عمر لگا لے جائے چاندنی کھڑکی سے کمرے میں اتر آتی ہے کوئی تصویر نہ البم سے چرا لے جائے حوصلہ دیو سے لڑنے کا کسی میں بھی نہیں چاہتے سب ہیں پری آ کے جگا لے جائے اپنی خاطر نہ سہی کچھ تو بچا کر رکھو لوٹنے کوئی اگر آئے تو کیا لے جائے ابن آدم نہ کہو اس کو فرشتہ سمجھو خود کو جو دانۂ گندم سے بچا لے جائے

is se pahle ki havaa mujh ko uDaa le jaae

غزل · Ghazal

بچپن تمام بوڑھے سوالوں میں کٹ گیا اسکول کی کتابوں سے اب جی اچٹ گیا لکھے ہوئے تھے سارے فرشتوں کے جس پہ نام شاید وہی ورق کسی بچے سے پھٹ گیا تازہ ہوا کی آس میں پردے اٹھا دیے بس یہ ہوا کہ گرد میں سامان اٹ گیا کل کارنس پہ دیکھ کے چڑیوں کا کھیلنا بے وجہ ذہن اس کے خیالوں میں بٹ گیا اک بچہ اس کھلی ہوئی کھڑکی میں جھانک کر شرما کے گھر جو بھاگا تو ماں سے لپٹ گیا کیا کہتا اور چارہ گروں سے وہ بے زبان زخمی پرندہ اپنے پروں میں سمٹ گیا صحرا دہائی دیتا رہا اپنی پیاس کی بادل برس کے خشک چٹانوں پہ چھٹ گیا

bachpan tamaam buDhe savaalon mein kaT gayaa

غزل · Ghazal

پیاسا رہا میں بالا قدی کے فریب میں دریا بہت قریب تھا مجھ سے نشیب میں موقعہ ملا تھا پھر بھی نہ میں آزما سکا اس کی پسند کے کئی سکے تھے جیب میں پردیس جانے والا پلٹ بھی تو سکتا ہے اتنا کہاں شکیب تھا اس نا شکیب میں سنتا تو ہے بدن کی عبادت پہ آیتیں آتا نہیں ہے پھر بھی کسی کے فریب میں کھلتا ہے اس کے جسم پہ قاتل کا بھی لباس کیا عیب ڈھونڈھتا کوئی اس جامہ زیب میں بھوکا پرندہ شاخ پہ بیٹھا اور اڑ گیا شاید کوئی مٹھاس نہ تھی کچے سیب میں

pyaasaa rahaa main baalaa-qadi ke fareb mein

Similar Poets