"abr-e-bahar ab bhi jachta nahin nazar men kuchh ansuon ke qatre ab bhi hain chashm-e-tar men"
Imdad Ali Bahr
Imdad Ali Bahr
Imdad Ali Bahr
Sherشعر
See all 91 →abr-e-bahar ab bhi jachta nahin nazar men
ابر بہار اب بھی جچتا نہیں نظر میں کچھ آنسوؤں کے قطرے اب بھی ہیں چشم تر میں
yaar tak le na ga.e ashk baha kar ham ko
یار تک لے نہ گئے اشک بہا کر ہم کو اس کو بھی دیکھ لیا دیدۂ تر کچھ بھی نہیں
mire qatl par tum ne biiDa uThaya
مرے قتل پر تم نے بیڑا اٹھایا مرے ہاتھ کا پان کھایا تو ہوتا
bhala hua ki na haath aaya jama-e-pur-zar
بھلا ہوا کہ نہ ہاتھ آیا جامۂ پر زر گزی کے کپڑے بدلتے تو ہم بدل جاتے
kya hai mujhe dete ho gilauri
کیا ہے مجھے دیتے ہو گلوری چونے میں کہیں نہ سنکھیا ہو
qaazi ko jo rind kuchh chaTa den
قاضی کو جو رند کچھ چٹا دیں مسجد کی بغل میں مے کدہ ہو
Popular Sher & Shayari
182 total"yaar tak le na ga.e ashk baha kar ham ko is ko bhi dekh liya dida-e-tar kuchh bhi nahin"
"mire qatl par tum ne biiDa uThaya mire haath ka paan khaya to hota"
"bhala hua ki na haath aaya jama-e-pur-zar gazi ke kapDe badalte to ham badal jaate"
"kya hai mujhe dete ho gilauri chune men kahin na sankhiya ho"
"qaazi ko jo rind kuchh chaTa den masjid ki baghal men mai-kada ho"
kyaa hai mujhe dete ho gilauri
chune mein kahin na sankhiyaa ho
ek bosa miri tankhvaah mile na mile
aarzu hai ki na qadmon se ye naukar chhuTe
duniyaa mein 'bahr' kaun ibaadat-guzaar hai
saum-o-salaat daakhil-e-rasm-o-rivaaj hai
bhaTak ke koi gayaa dair ko koi kaabe
ajiib bhul-bhulayyaan hai marhala dil kaa
puchhe rindon se koi in muftiyon kaa jhuuT sach
do dalilon se ye kar lete hain daavaa jhuuT sach
nahin ji chaahtaa milne ko subuk-vazon se
kyaa karein ham jo mizaaj apnaa giraani maange
Ghazalغزل
sina-kubi kar chuke gham kar chuke
سینہ کوبی کر چکے غم کر چکے جیتے جی ہم اپنا ماتم کر چکے دیکھیے ملتے ہیں کس دن یار سے عید بھی کر لیں محرم کر چکے دھیان ان آنکھوں کا جانے کا نہیں یہ ہرن پالے ہوئے رم کر چکے دل لگا کر دکھ اٹھائے بے شمار دم شماری بھی کوئی دم کر چکے اب تو زلفوں کو نہ رکھو فرد فرد دفتر عالم کو برہم کر چکے واعظو جو چاہو فرماؤ ہمیں بیعت پیر مغاں ہم کر چکے بحرؔ مستغنی ہیں فکر و شعر سے گوہر معنی فراہم کر چکے
har taraf majma-e-aashiqaan hai
ہر طرف مجمع عاشقاں ہے تیرے دم کا یہ سارا سماں ہے اتنا مغرور کیوں باغباں ہے یہ چمن چار دن میں خزاں ہے عشق میں بے خبر ہو گیا ہوں کس سے پوچھوں مرا دل کہاں ہے کچھ نہیں سوجھتی سیر گلشن میری آنکھوں سے وہ گل نہاں ہے دھیان آٹھوں پہر ہے اسی کا میں یہاں ہوں مرا دل وہاں ہے سینے پر رکھ کے سوتا ہوں اس کو اس کی تصویر آرام جاں ہے آنسو بہنے لگے دیکھتے ہی زلف محبوب ہے یا دھواں ہے جان پروانہ ہے اس پری پر شمع سوزاں ہر اک استخواں ہے بے مروت ہے وہ بے وفا ہے ساری محنت مری رائیگاں ہے کیا تڑپتے گزرتے ہی اپنے درد دل میں ہے لب پر فغاں ہے ہجر میں کیوں نہیں موت آتی ہائے کیا داغ دل مرض جاں ہے ڈھونڈھتا ہوں میں یوسف کو اپنے خاک میرے پس کارواں ہے جام مل ہاتھ میں وہ بغل میں بحرؔ اپنی یہ قسمت کہاں ہے
khurshid-rukhon kaa saamnaa hai
خورشید رخوں کا سامنا ہے شبنم صفت آبرو ہوا ہے دل زخمیٔ عشق ہے سزا ہے بھر دوں جو نمک تو پھر مزا ہے اب تو دل اس پر آ گیا ہے اچھا ہے برا ہے یا بھلا ہے بین العد میں آدمی ہے دنیا ایک بیچ کی سرا ہے ایسی ہے ملاحت اس کے منہ پر رخسار کا سبزہ لو نیا ہے اکسیر ہے دل کی خاکساری کشتہ ہو جو نفس کیمیا ہے منعم نہ کر اعتبار دولت اقبال کا قلب لا بقا ہے وہ دل نہ رہا جا ناز اٹھاؤں میں بھی ہوں خفا جو وہ خفا ہے کم ہے جو ستم ہو تجھ پر اے دل بے رحم سے اور مل سزا ہے دل تم کو تو پھر کسی دن پیار کوئی تم سے بھی سوا ہے اچھی نہیں یہ خلش رقیبو کانٹے بو کر کوئی پھلا ہے ہم دیکھیں مزے رقیب لوٹے یوں اس سے بھی تو کیا مزا ہے دم سینے سے کیوں نہیں نکلتا کیا جسم نزار خار پا ہے دولت سے کبھی نہ سیر ہوں گے شاہوں کو فقیر کی دعا ہے چھپتا نہیں کوئی اپنے دل میں آنکھوں میں وہی کھٹک رہا ہے اس رنج میں بھی نباہ دیں گے اپنا ابھی اتنا حوصلہ ہے اے بحرؔ غزل کہی جو تم نے یہ طرز کلام میرؔ کا ہے
ifshaa hue asraar-e-junun jaama-dari se
افشا ہوئے اسرار جنوں جامہ دری سے چھاپے گئے اخبار مری بے خبری سے دم ناک میں آیا ہے اب اس نوحہ گری سے دل پک گیا اے آہ تری بے اثری سے کیا دن ہیں جو گل کھلتے ہیں شعلے ہیں دہکتے لو چلتی ہے باغوں میں نسیم سحری سے سونے کے نوالوں سے نہ کر پرورش روح اتنی بھی محبت نہیں کرتے سفری سے کب اہل دول سے ہوئی معبود پرستی باطل ہے اگر سجدہ کریں تاج زری سے ہر حال میں رہتی ہے خدا پر نظر اپنی یہ مرتبہ حاصل ہے ہمیں بے ہنری سے مغرور نہ ہو چاند سے رخسار پر اپنے یہ قمقمہ روشن ہے چراغ سحری سے تو وہ ہے شہ حسن اگر باج طلب ہو لے حور سے گلدستہ طبق شاہ پری سے منہ چڑھتے ہیں بد اصل تمیز ان کو نہیں ہے دانتوں سے لڑی سلک گہر بد گہری سے آنکھوں سے نکلوایے آنکھیں ہرنوں کی چیتوں کی کمر توڑیئے نازک کمری سے نوبت تو کہیں قتل گناہ گار کی آئی نقارے بجاؤں گا میں تیروں کی سری سے پشت لب شفاف سے جوبن ہے مسوں کا سبزے نے نمو کی ہے عقیق شجری سے پیری میں بھی ہم سے نہ ہوئی خانہ نشینی باز آئے نہ بزموں سے نہ گزرے گزری سے قد تیر سا تلوار تواضع سے ہوا ہے وہ ہاتھ اٹھاتے نہیں بے داد گری سے جب چاہو چلے آؤ یہ وعدہ نہیں اچھا دل آنکھ چراتا ہے بہت منتظری سے اب ضعف جنوں کوچۂ جاناں میں بہا دے کب تک یہ ورم پاؤں پر آشفتہ سری سے وہ چوٹ کلیجے میں لگی ہے کہ نہ پوچھو تڑپوں گا تہ خاک بھی درد جگری سے رونے کا نہ لے نام غم یار میں اے بحرؔ الٹے نہ زمانے کا ورق لب کی تری سے
aabla khaar-e-sar-e-mizhgaan ne phoDaa saanp kaa
آبلہ خار سر مژگاں نے پھوڑا سانپ کا سیلیٔ زلف رسا نے کلا توڑا سانپ كا پنجۂ دنداں تری کنگھی نے موڑا سانپ کا کر کے گیسوئے کلائی ہاتھ توڑا سانپ کا کودکی سی میرے سر پر عشق گیسو ہے سوار چوب کی بدلی بناتا تھا میں گھوڑا سانپ کا بار فرعونی پہ تیری زلف اگر باندھے کمر اژدر موسی کے توسن پر ہو کوڑا سانپ کا میں ہوں وہ رنجور گیسو عکس اگر میرا پڑے مہرۂ ہر استخواں بن جائے پھوڑا سانپ کا جب سیہ بوتل سے مے ریزی ہوئی دور فراق میں یہ سمجھا زہر ساقی نے نچوڑا سانپ کا ہے قدم اس کا ہوا پر پاؤں اس کا خاک پر زلف کے مشکی کو کب پاتا ہے گھوڑا سانپ کا عاشق زلف سیہ کو اس طرح تعزیر دو سانپ کی رسی بناؤ اور کوڑا سانپ کا زلف کج رفتار کی کب چال چل سکتا ہے وہ ایسی ٹھوکر کھائے سر بن جائے روڑا سانپ کا ایک دن ہو جائے گا روشن سیہ کاری کا حال دونوں بغلوں میں جریدے ہیں کہ جوڑا سانپ کا جانتا ہوں میں ترے راس و ذنب کو اے فلک میرے ڈسنے کے لیے پالا ہے جوڑا سانپ کا کیا تعجب حسن جاناں سے اگر پوچھے گزند خال میں بچھو کا جوڑا زلفیں جوڑا سانپ کا سانپ کے کاٹے کی لہر آئے جو وصف زلف میں بحرؔ نے پھر تو کوئی مضموں نہ چھوڑا سانپ کا
kiyaa salaam jo saaqi se ham ne jaam liyaa
کیا سلام جو ساقی سے ہم نے جام لیا پڑھے درود جو پیر مغاں کا نام لیا چہ ذقن میں گرا چاہتا تھا دل میرا دراز عمر ہو زلف رسا نے تھام لیا کسی کا زور زبردست پر نہیں چلنا فلک نے ظلم کیا کس نے انتقام لیا نصیب ور تھی زلیخا جو پایا یوسف کو کنیز ہو گئی اس شکل کا غلام لیا بھرا لبوں نے برابر دم مسیحائی جب اس کے ابروؤں نے حکم قتل عام لیا مزاج پوچھا کسی کا تو ان کا منہ دیکھا کسک سے ہاتھ میں آئے اگر سلام لیا لگایا تھا کہیں دل ہم نے وہ مزا چکھا زباں نے پھر نہ کبھی عاشقی کا نام لیا بھرا ہے آنکھ میں جادو کھلا اشارے سے زبان کا مژہ بے زباں سے کام لیا بہت کمر کے لچکنے کا ہے خیال ان کو جو دو قدم بھی چلے پائینچوں کو تھام لیا چڑھا خمار جو سر پر اتر گئی عزت عمامہ رکھ کے گرو ساغر مدام لیا اٹھا کے داغ لیا حق سعی کا پیسا نہ مرتشی کی طرح ہم نے زر حرام لیا ہوا کو جان دی میں نے زمین کو مٹی ادا کیا دم رخصت جو قرض دام لیا معاف کی ہے خدا نے ضعیف پر تکلیف ستم کیا اگر اب دست و پا سے کام لیا قسم نہ کھاؤں گا تیسوں کلام کی اے بحرؔ کسی کا خواب میں بوسہ تو لا کلام لیا





