"jab saaya bhi shishe ki tarah TuuT gaya divar ne dekha ye tamasha na kabhi"
Iqbal Khusro Qadri
Iqbal Khusro Qadri
Iqbal Khusro Qadri
Sherشعر
jab saaya bhi shishe ki tarah TuuT gaya
جب سایہ بھی شیشے کی طرح ٹوٹ گیا دیوار نے دیکھا یہ تماشہ نہ کبھی
band ankhon men saara tamasha dekh raha tha
بند آنکھوں میں سارا تماشہ دیکھ رہا تھا رستہ رستہ میرا رستہ دیکھ رہا تھا
main nahin milta kisi se
میں نہیں ملتا کسی سے بند پھاٹک بولتا ہے
rota hai koi kisi ke gham men
روتا ہے کوئی کسی کے غم میں سب اپنے ہی دکھ بچارتے ہیں
sarhad-e-jan talak qalam-rau dil
سرحد جاں تلک قلمرو دل اس سے آگے نظام درد کا ہے
Popular Sher & Shayari
10 total"band ankhon men saara tamasha dekh raha tha rasta rasta mera rasta dekh raha tha"
"main nahin milta kisi se band phaTak bolta hai"
"rota hai koi kisi ke gham men sab apne hi dukh bicharte hain"
"sarhad-e-jan talak qalam-rau dil is se aage nizam dard ka hai"
jab saaya bhi shishe ki tarah TuuT gayaa
divaar ne dekhaa ye tamaasha na kabhi
band aankhon mein saaraa tamaasha dekh rahaa thaa
rasta rasta meraa rasta dekh rahaa thaa
rotaa hai koi kisi ke gham mein
sab apne hi dukh bichaarte hain
sarhad-e-jaan talak qalam-rau dil
is se aage nizaam dard kaa hai
main nahin miltaa kisi se
band phaaTak boltaa hai
Ghazalغزل
bakhshe na gae ek ko bakhshaa na kabhi
بخشے نہ گئے ایک کو بخشا نہ کبھی رستے پہ مگر آئی یہ دنیا نہ کبھی لاچار خود اپنا ہی قصیدہ لکھا قابل کوئی میزان پہ اترا نہ کبھی گردن بھی رعایا کی جھکائے رکھی اٹھنے دیا احسان کا پلڑا نہ کبھی بھرتے ہی رہے سود میں اک اک دھڑکن منسوخ کیا درد کا سودا نہ کبھی اب کس کو پتہ بام پہ چہرہ تھا کہ چاند کوئی سر اٹھائے ہوئے گزرا نہ کبھی بانوئے سبا خاک نشیں پر بھی نگاہ ناچیز پہ کرنا پڑے تکیہ نہ کبھی پرچھائیوں کی جنگ تھی خوں کا دریا ہم زاد رجز خواں ہوا ایسا نہ کبھی پھینک آؤ خلاؤں میں شکستہ کشکول اس برج میں ٹھہرے گا ستارہ نہ کبھی جب سایہ بھی شیشے کی طرح ٹوٹ گیا دیوار نے دیکھا یہ تماشہ نہ کبھی
aankhon ke charaagh vaarte hain
آنکھوں کے چراغ وارتے ہیں آ تیری نظر اتارتے ہیں چلو بھر خون بھیک مل جائے ہم کاسۂ سر پسارتے ہیں رکھتے نہیں سادہ صفحۂ دل ناخون کے نقش ابھارتے ہیں ہر رات دفاع شہر جاں کو ہاری ہوئی فوج اتارتے ہیں محنت سے بسا دیا ہے صحرا اب گھر کی طرف سدھارتے ہیں بنتے ہیں لکیریں کالی نیلی کاغذ کی جبیں سنگھارتے ہیں روتا ہے کوئی کسی کے غم میں سب اپنے ہی دکھ بچارتے ہیں جیسی کہ گزر رہی ہے خسروؔ کچھ اس سے الگ گزارتے ہیں
khvaab barfaani chitaa hai
خواب برفانی چتا ہے دھوپ میں رکھا ہوا ہے ہم کو پتھر جانتے ہو خیر اپنا بھی خدا ہے میرے دکھ سکھ کا تمسخر سب کا ذاتی مسئلہ ہے ایک سناٹا ہے دل میں ایک نے میں گونجتا ہے میں نہیں ملتا کسی سے بند پھاٹک بولتا ہے سخت ارزاں ہیں دعائیں بیش قیمت بد دعا ہے جیب میں بارہ بجے ہیں زائچہ اچھا بنا ہے صرف اس کے در سے امید صرف اپنا آسرا ہے پھول سی ننھی ہتھیلی وقت پتھر توڑتا ہے
band aankhon mein saaraa tamaasha dekh rahaa thaa
بند آنکھوں میں سارا تماشہ دیکھ رہا تھا رستہ رستہ میرا رستہ دیکھ رہا تھا کالی رات اور کالے تارے کالا چندا دھرتی کا نا بینا لڑکا دیکھ رہا تھا ٹوٹی پھوٹی قبریں دھندلے دھندلے کتبے ہر کتبے میں اپنا چہرہ دیکھ رہا تھا مٹی دینے والے ہاتھوں کو یہ خبر کیا کس حسرت سے ذرہ ذرہ دیکھ رہا تھا رگ رگ فرط دہشت سے سوکھی جاتی تھی پرچھائیں سے خون ابلتا دیکھ رہا تھا سوکھے پتوں پر جلتی شبنم کے قطرے ٹھنڈا سورج سہما سہما دیکھ رہا تھا چپکے سے ہیجان اٹھا کر پیاسا قطرہ طغیانی پر آئی ندیا دیکھ رہا تھا احساسات کی ٹوٹتی سرحد پر میں خسروؔ خواب سے آگے بھی جو کچھ تھا دیکھ رہا تھا





