SHAWORDS
Jalee Amrohvi

Jalee Amrohvi

Jalee Amrohvi

Jalee Amrohvi

poet
3Shayari
9Ghazal

Popular Shayari

3 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

نفس سے جو لڑا نہیں کرتے روح پر وہ جلا نہیں کرتے کیوں نہ ہو پھر فساد دنیا میں لوگ خوف خدا نہیں کرتے اہل دل اہل ظرف اہل نظر بات دل کی کہا نہیں کرتے ان کا جینا عبث ہے دنیا میں جو کسی کا بھلا نہیں کرتے بزم عشرت میں عاشقان طرب نالۂ دل سنا نہیں کرتے دوستی کیا کروں میں پھولوں سے یہ ہمیشہ کھلا نہیں کرتے درس لو ٹوٹتے حبابوں سے سر اٹھا کر چلا نہیں کرتے اے جلیؔ دہر کے ستائے ہوئے زندگی کی دعا نہیں کرتے

nafs se jo laDaa nahin karte

غزل · Ghazal

وحشتوں میں عشق کی وہ شانہ فرمائیں گے کیا زندگی الجھی ہوئی ہے بال سلجھائیں گے کیا خود ہی تم سوچو جو دنیا میں اسیر ذات ہیں وہ دکھوں کی بھیڑ میں آرام پہنچائیں گے کیا دور استبداد میں اے دل فغاں بے سود ہے گرمیٔ فریاد سے پتھر پگھل جائیں گے کیا سونے چاندنی کی یہ نہریں یہ فلک پیما محل بعد مرنے کے ترے محشر میں کام آئیں گے کیا ہم نے صدیوں کا چمن چھوڑا وفا کی آس پر اب تمہارے دیس میں بھی ٹھوکریں کھائیں گے کیا طاقت ضبط و تحمل کب کی رخصت ہو چکی ناتوان عشق کو وہ اور تڑپائیں گے کیا اے شعاع مہر تاباں جلوہ ریزی سے تری سنگریزے راہ کے الماس بن جائیں گے کیا جو مسلسل عصر نو سے برسر پیکار ہیں وہ بھی تھک کر وقت کے سانچے میں ڈھل جائیں گے کیا

vahshaton mein 'ishq ki vo shaana farmaaeinge kyaa

غزل · Ghazal

دونوں عالم سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا تو ہی تو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھا قلب مضطر میں مرے مہر و وفا کی صورت نور کا ایک جہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا درد‌ کونین اٹھا رکھا تھا اللہ اللہ دل مرا کتنا جواں تھا مجھے معلوم نہ تھا تو مری محفل افکار سجانے کے لیے روح میں نور فشاں تھا مجھے معلوم نہ تھا زینت فرش رہا یا سر قوسین رہا تیرا محبوب کہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا جو بہا فرط ندامت سے حضوری میں تری کتنا وہ اشک گراں تھا مجھے معلوم نہ تھا لالہ و گل میں فضاؤں میں مہ و انجم میں تیرا ہی نور نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا باغ ہستی میں جلا میرا وجود ہستی صورت فصل خزاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

donon aalam se ayaan thaa mujhe maalum na thaa

غزل · Ghazal

دل ہے وابستہ مرا حسرت ناکام کے ساتھ تازہ ہو جاتے ہیں سب زخم ترے نام کے ساتھ اس نے ہر حلق تمنا پہ چلایا خنجر یوں ہے پیکار مری گردش ایام کے ساتھ درد الفت مرا کرتا ہے ترنم ریزی کرنیں رو رو کے گلے ملتی ہیں جب شام کے ساتھ سنگ بن جاتا اگر میں بھی برائے عشرت زندگی پھر تو گزرتی بڑے آرام کے ساتھ ہر جہت سے رہا دنیا میں سراسر ناکام جی رہا ہوں میں خوشی سے اسی الزام کے ساتھ راہیٔ زیست اگر عزم سفر ہے پرجوش پھر تو وابستہ ہے منزل ترے ہر گام کے ساتھ یہ بنا دیتا ہے انساں کو مکمل پتھر یوں رہی دہر میں نفرت مجھے آرام کے ساتھ آتش غم نے تپا کر کیا کندن مجھ کو اسی باعث تو جلیؔ عشق ہے آلام کے ساتھ

dil hai vaabasta miraa hasrat-e-naakaam ke saath

غزل · Ghazal

اتنا پرجوش میرے درد کا دھارا تو نہ تھا کیا پس پردہ کہیں قرب تمہارا تو نہ تھا تم نے القاب بدل کر مجھے مکتوب لکھا اس تغیر میں کہیں تلخ اشارا تو نہ تھا لازمہ قطع مراسم سے یہ تفریق ہوئی ورنہ یہ عشق مجھے آپ سے پیارا تو نہ تھا بال کھولے ہوئے کیوں آ گئے پردے کے قریب میں نے آواز سنائی تھی پکارا تو نہ تھا ہم تو موزوں تھے کسی عالم الفت کے لئے زر کی دنیا میں جلیؔ کام ہمارا تو نہ تھا

itnaa pur-josh mere dard kaa dhaaraa to na thaa

غزل · Ghazal

بستی بستی کوچہ کوچہ شہر کو لالہ فام کیا دیکھو تو ان اہل ہوس نے کیسا قتل عام کیا ہم تو جہاں کے سلطانوں سے بہتر اس کو جانے ہیں جس نے روکھی سوکھی کھا کر گدڑی میں آرام کیا حرص و ہوا کے اس جنگل میں صرف وہی ہے مرد جری نفس کا طائر جس انساں نے زیست میں زیر دام کیا قریہ قریہ خاک اڑا کر شام و سحر درویشوں نے کیسے کیسے سنگ دلوں کو حسن عمل سے رام کیا ظلم کی کالک خون سے دھو کر حق کی خاطر ولیوں نے لوگ ہمیشہ یاد رکھیں گے ایسا اونچا کام کیا دیکھ کے نیرنگیٔ گلشن ٹھنڈے دل سے سوچو تو کس نے فروغ ظلمت دے کر نور سحر کو شام کیا جب بھی رویا صدق دل سے رب کی حب میں زار و زار اشک جلیؔ نے میرے حق میں رحمت بن کر کام کیا

basti basti kucha kucha shahr ko laala-faam kiyaa

Similar Poets