SHAWORDS
Jaleel Manikpuri

Jaleel Manikpuri

Jaleel Manikpuri

Jaleel Manikpuri

poet
344Shayari
81Ghazal

Popular Shayari

344 total

Ghazalغزل

See all 81
غزل · Ghazal

بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دی تمہارے لیے زندگانی لٹا دی صبا نے تو برسائے گل فصل گل میں گھٹا نے مئے ارغوانی لٹا دی اداؤں پہ کر دی فدا ساری ہستی نگاہوں پہ دنیائے فانی لٹا دی عجب دولت حسن پائی تھی دل نے نہ مانی مری اک نہ مانی لٹا دی نہ کھونا تھا غفلت میں عہد جوانی عجب رات تھی یہ سہانی لٹا دی نہ کی حسن کی قدر اے ماہ کامل فقط رات بھر میں جوانی لٹا دی حسینوں نے رنگنیئی خواب شیریں سنی جب ہماری کہانی لٹا دی عجب حوصلہ ہم نے غنچہ کا دیکھا تبسم پہ ساری جوانی لٹا دی جلیلؔ آپ کی شاعری پر کسی نے نگاہوں کی جادو بیانی لٹا دی

bahaarein luTaa diin javaani luTaa di

غزل · Ghazal

قفس میں ہوں کہ طائر آشیاں میں ترا کرتے ہیں ذکر اپنی زباں میں چمن یوں ہی رہے گا نذر صرصر ہے اک تنکا بھی جب تک آشیاں میں ہجوم اشک میں ملتا نہیں دل مرا یوسف ہے گم اس کارواں میں مذکر اور مؤنث کی ہیں بحثیں بڑا جھگڑا ہے یہ اردو زباں میں جلیلؔ اس باغ میں کانٹے کی صورت کھٹکتا ہے نگاہ باغباں میں

qafas mein hon ki taair aashiyaan mein

غزل · Ghazal

قفس میں اشک حسرت پر مدار زندگانی ہے یہی دانے کا دانا ہے یہی پانی کا پانی ہے ملے تھے آج برسوں میں مگر اللہ کی قدرت وہی صورت وہی رنگت وہی جوش جوانی ہے ہمیں وہ جان بھی لیں گے ہمیں پہچان بھی لیں گے اتر جائے گا سب نشہ ابھی چڑھتی جوانی ہے کلیجے سے لگا رکھوں نہ کیوں درد جدائی کو یہی تو اک دل مرحوم کی باقی نشانی ہے یہ سچ ہے یا غلط ہم نے سنا ہے مرنے والوں سے ترے خنجر میں قاتل چشمۂ حیواں کا پانی ہے بتائے جاتے ہیں اوصاف وہ اپنی اداؤں کے یہ شان دل رباعی ہے یہ طرز جاں ستانی ہے یہاں کیا جانیے کس طرح دیکھا ہے تصور میں وہاں اب تک وہی پردے کے اندر لن ترانی ہے کریں تسخیر آؤ مل کے ہم تم دونوں عالم کو ادھر جادو نگاہی ہے ادھر جادو بیانی ہے جلیلؔ اک شعر بھی خالی نہ پایا درد و حسرت سے غزل خوانی نہیں یہ در حقیقت نوحہ خوانی ہے

qafas mein ashk-e-hasrat par madaar-e-zindagaani hai

غزل · Ghazal

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں گنہ گنہ نہ رہا اتنی بادہ نوشی کی اب ایک شغل ہے کچھ لذت شراب نہیں ہمیں تو دور سے آنکھیں دکھائی جاتی ہیں نقاب لپٹی ہے اس پر کوئی عتاب نہیں پیے بغیر چڑھی رہتی ہے حسینوں کو وہاں شباب ہے کیا کم اگر شراب نہیں بہار دیتا ہے چھن چھن کے نور چہرے کا سر نقاب ہے جو کچھ تہ نقاب نہیں وہ اپنے عکس کو آواز دے کے کہتے ہیں ترا جواب تو میں ہوں مرا جواب نہیں اسے بھی آپ کے ہونٹوں کا پڑ گیا چسکا ہزار چھوڑیئے چھٹنے کی اب شراب نہیں بتوں سے پردہ اٹھانے کی بحث ہے بے کار کھلی دلیل ہے کعبہ بھی بے نقاب نہیں جلیلؔ ختم نہ ہو دور جام مینائی کہ اس شراب سے بڑھ کر کوئی شراب نہیں

nigaah barq nahin chehra aaftaab nahin

غزل · Ghazal

ہستی ہے عدم مری نظر میں سوجھی ہے یہ ایک عمر بھر میں او آنکھ چرا کے جانے والے ہم بھی تھے کبھی تری نظر میں پھیلاتی ہے پاؤں حسرت دید ٹھنڈک جو ملی ہے چشم تر میں کوئی نہ حجاب کام آیا دیکھا تو وہ تھے مری نظر میں کم ظرف تھے سارے غنچہ و گل کیا پھولے ہیں ایک مشت زر میں اتنا بھی نہ ہو کوئی حیا دار دیکھا تو سما گئے نظر میں تارے یہ نہیں ہیں آخر شب کچھ پھول ہیں دامن سحر میں ہے عمر رواں کا شمع میں رنگ گھر بیٹھے گزرتی ہے سفر میں دنیا ہے جلیلؔ ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہیں کسی کی رہ گزر میں

hasti hai adam miri nazar mein

غزل · Ghazal

ایک دن بھی تو نہ اپنی رات نورانی ہوئی ہم کو کیا اے مہ جبیں گر چاند پیشانی ہوئی سرد مہری کا تری ساقی نتیجہ یہ ہوا آگ کے مولوں جو بکتی تھی وہ مے پانی ہوئی اللہ اللہ پھوٹ نکلا رنگ چاہت کا مری زہر کھایا میں نے پوشاک آپ کی دھانی ہوئی ہم کو ہو سکتا نہیں دھوکا ہجوم حشر میں تیری صورت ہے ازل سے جانی پہچانی ہوئی لے اڑی گھونگٹ کے اندر سے نگاہ مست ہوش آج ساقی نے پلائی مے ہمیں چھانی ہوئی جان کر دشمن جو لپٹے جان میں جاں آ گئی بارک اللہ کس مزے کی تم سے نادانی ہوئی رفتہ رفتہ دیدۂ تر کو ڈبویا اشک نے پانی رستے رستے کشتی میری طوفانی ہوئی کر گئی دیوانگی ہم کو بری ہر جرم سے چاک دامانی سے اپنی پاک دامانی ہوئی خون کی چادر مبارک با حیا تلوار کو میان سے باہر نکل کر بھی نہ عریانی ہوئی رات کو چھپ کر نکل جاتی ہے آنکھوں سے جلیلؔ سیر دیکھو نیند بھی کمبخت سیلانی ہوئی

ek din bhi to na apni raat nuraani hui

Similar Poets