SHAWORDS
Kazim Rizvi

Kazim Rizvi

Kazim Rizvi

Kazim Rizvi

poet
9Sher
9Shayari
8Ghazal

Sherشعر

See all 9

Popular Sher & Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

jaan ik zarbat-e-shamshir-e-do-dam aur sahi

جان اک ضربت شمشیر دو دم اور سہی تن صد چاک پہ دنیا کے ستم اور سہی طاقت جنبش یک گام نہیں ہے لیکن تیرے کوچے کی طرف ایک قدم اور سہی ہیں مرے دل کو بہت درد میسر پھر بھی آپ کی یاد کا اک دست کرم اور سہی سانس باقی ہے سو چلتا ہی چلا جاؤں گا جوئے غم اور سہی زور و ستم اور سہی پھر ہوئی جاتی ہے پیدا ہوس سجدۂ شوق دل کے مندر میں کوئی تازہ صنم اور سہی کوئی نقاد نہ ٹھہرا مرے آگے کاظمؔ مدعا یوں ہے کہ اک شیخ حرم اور سہی

غزل · Ghazal

ek dariyaa-e-tilismaat ravaan kar Daalaa

ایک دریائے طلسمات رواں کر ڈالا آپ کے حسن نے بوڑھوں کو جواں کر ڈالا میں نے اظہار کیا اس نے جھکا دیں نظریں بن کہے کچھ مرے محبوب نے ہاں کر ڈالا شوق نظارہ نے ایمان کی دنیا لوٹی دل مومن ہدف چشم بتاں کر ڈالا کم نہ تھی گردش دوراں کی گرانی مجھ پر تیری یادوں نے اسے اور گراں کر ڈالا کیسا ناداں ہوں کہ غزلوں کے بہانے کاظمؔ میں نے ہر راز محبت کا بیاں کر ڈالا

غزل · Ghazal

manzil-e-shauq ki raahon ne hamein maar liyaa

منزل شوق کی راہوں نے ہمیں مار لیا یعنی رنگین گناہوں نے ہمیں مار لیا بچ کے آئے تھے ابھی خنجر قاتل سے کہ دوست آپ کی شوخ نگاہوں نے ہمیں مار لیا یار دیکھو تو سہی منظر اعجاز وصال ان کے بازو کی پناہوں نے ہمیں مار لیا یہ ترے عیب تو کیا ہم کو ہراساں کرتے آپ اپنے ہی گناہوں نے ہمیں مار لیا بھری محفل میں جو اس شوخ کو دیکھا کاظمؔ سب کی مشکوک نگاہوں نے ہمیں مار لیا

غزل · Ghazal

chaand hai aur ek taara hai

چاند ہے اور ایک تارہ ہے تیرا اور میرا استعارہ ہے کیا کہوں اس کے رخ کی تابانی ایک بہکا ہوا شرارہ ہے نوبت رہگزر نہیں کہ ابھی تیری دہلیز کا سہارا ہے کہہ رہا ہے حدیث ناز ہنوز ایک شیشہ کہ پارہ پارہ ہے آنسوؤں کی قطار اور طویل داغ دل اور آشکارا ہے قطرۂ سرخ برسر مژگاں دل رسالے کا اک شمارہ ہے

غزل · Ghazal

yuun nahin hai ki tiri baat pe bigDe hue hain

یوں نہیں ہے کہ تری بات پہ بگڑے ہوئے ہیں ہم تو مجبورئ حالات پہ بگڑے ہوئے ہیں کچھ مرے پیار نہ کرنے پہ بھی ناراض ہیں وہ کچھ زمانے کی خرافات پہ بگڑے ہوئے ہیں دل کا پکا ہوں مگر مجھ سے محبت نہ کرو نقش جتنے ہیں مرے ہات پہ بگڑے ہوئے ہیں نام تک بھی مرا معلوم نہیں ہے جن کو کیا ہوا ہے کہ مری ذات پہ بگڑے ہوئے ہیں ان سے پوچھے کوئی ہر شے پہ بگڑنے کا مزہ دن پہ غصہ ہیں کبھی رات پہ بگڑے ہوئے ہیں چند افراد کے بے رنگ نظریے کاظمؔ میرے رنگین خیالات پہ بگڑے ہوئے ہیں

غزل · Ghazal

kuchh zabaan nahin khulti kaifiyat vo taari hai

کچھ زباں نہیں کھلتی کیفیت وہ طاری ہے خامشی کے لہجے میں بات چیت جاری ہے تم کو کیا خبر کیا ہے عالم شب فرقت جاں کو وحشتیں لاحق دل کو بے قراری ہے بد حواس آنکھوں سے راستے کو تکتا ہوں کچھ سمجھ نہیں آتا کس کی انتظاری ہے گھومتی ہے آنکھوں میں ایک سانولی صورت دل پہ یاد کا غلبہ لب پہ آہ و زاری ہے لوگ میری غزلوں میں تم کو ڈھونڈ لیتے ہیں شعر و شاعری کب ہے داستاں تمہاری ہے جو تھے دل کی دل جوئی دور ہو چلے کاظمؔ اب تو مشغلہ اپنا صرف دل فگاری ہے

Similar Poets