SHAWORDS
Khalid Nadeem Shaani

Khalid Nadeem Shaani

Khalid Nadeem Shaani

Khalid Nadeem Shaani

poet
8Sher
8Shayari
10Ghazal

Sherشعر

See all 8

Popular Sher & Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

adaaein tum banaa lenaa ishaare main banaaungaa

ادائیں تم بنا لینا اشارے میں بناؤں گا تمہارے پھول جذبوں کو شرارے میں بناؤں گا تمہارا ساتھ شامل ہے تو پھر تم دیکھتے جاؤ زمین و آسماں کے اب کنارے میں بناؤں گا اگر تم فیصلہ کر لو محبت اوڑھ لینے کا تو پھر اس شال کے اوپر ستارے میں بناؤں گا تمہارا کام اتنا ہے فقط کاجل لگا لینا تمہاری آنکھ کی خاطر نظارے میں بناؤں گا تمہیں بس مسکرانا ہے تمہیں بس گنگنانا ہے محبت کے لیے نغمے تو سارے میں بناؤں گا اگر اس کی یہ خواہش ہو کہ جوئے شیر لازم ہے فقط اک بار خالدؔ وہ پکارے میں بناؤں گا

غزل · Ghazal

labon pe muhr kaa e'laan bhi nahin samjhaa

لبوں پہ مہر کا اعلان بھی نہیں سمجھا مری خموشی کا نقصان بھی نہیں سمجھا برابری کا تو سوچا تلک نہیں میں نے مگر جناب نے انسان بھی نہیں سمجھا خدا سے عشق کیا اس قدر خموشی سے ہماری چال کو شیطان بھی نہیں سمجھا ہماری ناؤ کا منجھدار ہی مقدر ہے اگر وہ ہجر کے دوران بھی نہیں سمجھا عجیب ضبط دکھایا تھا جانے والے کو وہ سرسری سا پریشان بھی نہیں سمجھا

غزل · Ghazal

hue jo saath nazaaron ne rashk karnaa hai

ہوئے جو ساتھ نظاروں نے رشک کرنا ہے ہمارے بخت پہ یاروں نے رشک کرنا ہے تمہارا ہاتھ اگر ہاتھ میں رہا یوں ہی خزاں رتوں پہ بہاروں نے رشک کرنا ہے ہم اس کے ذروں میں چاہت کا نور بھر دیں گے ہمارے تھل پہ ستاروں نے رشک کرنا ہے لگے گا پھول کو رکھا ہوا ہے کاندھوں پر اٹھا کے ڈولی کہاروں نے رشک کرنا ہے ہمارے شعر محبت کا استعارہ ہیں سو ایک دو نہیں ساروں نے رشک کرنا ہے بہا کے لانے ہیں دریا نے کتنے پھول مگر کسی کسی پہ کناروں نے رشک کرنا ہے میں جنگ ہار کے جیتوں گا اس طرح خالدؔ سبھی پیادوں سواروں نے رشک کرنا ہے

غزل · Ghazal

is tarah khvaab-safine kaa mazaa letaa huun

اس طرح خواب سفینے کا مزا لیتا ہوں بند آنکھوں سے مدینے کا مزا لیتا ہوں مجھ سا بے رنگ بھی رنگوں میں نہا جاتا ہے ان پہ مرتا ہوں تو جینے کا مزا لیتا ہوں جام بن کر مرے ہونٹوں سے وہ آ لگتا ہے قطرہ قطرہ اسے پینے کا مزا لیتا ہوں درد کی چاہ میں پہلے تو کریدوں شب بھر پھر اسی زخم کو سینے کا مزا لیتا ہوں کھوجتا رہتا ہوں لہجے کی تہوں کو خالدؔ اصل چہرے کے دفینے کا مزا لیتا ہوں

غزل · Ghazal

ye jo zahr hai tire qurb kaa mire rom rom utaar de

یہ جو زہر ہے ترے قرب کا مرے روم روم اتار دے مری داستان ہو معتبر مجھے اپنے عشق میں مار دے کبھی اپنے جسم کو مے بنا مجھے قطرہ قطرہ پلائے جا مری آنکھ روز جزا کھلے کوئی اس طرح کا خمار دے تری نسبتوں سے جڑا رہوں ترے راستوں میں پڑا رہوں کوئی ایسی حسرت بے بہا مری دھڑکنوں سے گزار دے مرے دوستا مرے کبریا مری لغزشوں سے ہو درگزر مری پستیوں کو عروج دے مرے اجڑے دل کو سنوار دے مری آرزؤں کے سیپ کا کسی آب نیساں سے میل کر مجھے آشنائے وصال کر مری بیکلی کو قرار دے یہی اپنے شوق سے کہہ دیا کبھی ایک پل نہیں سوچنا جہاں نقش پا ملے یار کا یہ متاع جاں وہیں وار دے

غزل · Ghazal

kis mohabbat se ye hijrat ke nishaan dekhti hai

کس محبت سے یہ ہجرت کے نشاں دیکھتی ہے رونق دنیا مری آنکھ جہاں دیکھتی ہے نیند دیوار پہ بیٹھی ہے پرندے کی طرح مستقل بسنے سے پہلے وہ مکاں دیکھتی ہے کوئی چنگاری ترے آنے سے شاید بھڑکے راکھ ہوتی ہوئی امید دھواں دیکھتی ہے دل کا یہ شہر بھی لاہور ہوا جاتا ہے اس جہانگیر کو اک نور جہاں دیکھتی ہے آنکھ تو آنکھ ہے پھر خواب سجا لیتی ہے یہ مری ڈھلتی ہوئی عمر کہاں دیکھتی ہے حضرت جوشؔ کے دیوان کا جب ذکر چلے کتنی حسرت سے ہمیں اردو زباں دیکھتی ہے اب کسی موڑ پہ رکنے کا تصور بھی محال میری وحشت تری مجبوری کہاں دیکھتی ہے

Similar Poets