SHAWORDS
K

Khawar Ahmad

Khawar Ahmad

Khawar Ahmad

poet
6Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

6 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

پھول پہ آ کے بیٹھی تو خود پر اترنا بھول گئی ایسی مست ہوئی وہ تتلی پر پھیلانا بھول گئی ایسے کھلا وہ پھول سا چہرہ پھیلی سارے گھر خوشبو خط کو چھپا کر پڑھنے والی راز چھپانا بھول گئی کلیوں نے ہر بھونرے، تتلی سے پوچھا ہے اس کا نام باد صبا جس پھول کے گھر سے لوٹ کے آنا بھول گئی اپنے پرانے خط لینے وہ آئی تھی مرے کمرے میں میز پہ دو تصویریں دیکھیں خط لے جانا بھول گئی برسوں بعد ملے تو ایسی پیاس بھری تھی آنکھوں میں بھول گیا میں بات بنانا وہ شرمانا بھول گئی ساجن کی یادیں بھی خاورؔ کن لمحوں آ جاتی ہیں گوری آٹا گوندھ رہی تھی نمک ملانا بھول گئی

phuul pe aa ke baiThi to khud par utarnaa bhuul gai

غزل · Ghazal

اتنے بے مہر موسموں میں بھی اس نے حد کر دی مہربانی کی کیا مہمان مجھ مسافر کو اور پھر دل سے میزبانی کی اس کے انداز سے جھلکتا تھا کوئی کردار داستانوں کا اس کی آواز سے بکھرتی تھی کوئی خوشبو کسی کہانی کی شام خاموش تھی سو اس نے بھی گفتگو سے گریز کرتے ہوئے جلتے جذبوں کو رکھا آنکھوں میں جسم سے دل کی ترجمانی کی پہلے اس نے گلے لگایا اور مجھ کو پھر لے گئی بہشتوں میں ایک بات اس نے کی زمینی سی دوسری بات آسمانی کی اب تو حالت ہوئی رعایا سی اب وہ تاریخ کیا کہیں خاورؔ دل کی جو سلطنت ملی تھی ہمیں اس پہ کس کس نے حکمرانی کی

itne be-mehr mausamon mein bhi us ne had kar di mehrbaani ki

غزل · Ghazal

میں جس خواب میں رہتا ہوں پہلے اس خواب تک آیا وہ پھر اس خواب سے دل کے رستے میری کتاب تک آیا وہ مے خانے تک جانے کا پھر ہوش بھلا کس کو رہتا جس مستی میں ساتھ مرے اس شہر شراب تک آیا وہ کتنی پیاس اور کتنی مسافت ان آنکھوں میں لکھی تھی ایک سراب سے نکلا تو اک اور سراب تک آیا وہ اس کے بعد تو جو کرنا تھا آپ جناب نے کرنا تھا اس کی تو معراج یہی تھی آپ جناب تک آیا وہ اس کی خاطر چشم و دل و جاں فرش راہ تو کرنا تجھے اس جنگل میں خاورؔ مجھ سے خانہ خراب تک آیا وہ

main jis khvaab mein rahtaa huun pahle us khvaab tak aayaa vo

غزل · Ghazal

نہ تیز رو تھے نہ جوئندۂ مقام تھے ہم وہ ہم سفر تھا تو کیسے صبا خرام تھے ہم ہجوم سنگ میں کیا ہو سخن طراز کوئی وہ ہم سخن تھا تو کیا کیا نہ خوش کلام تھے ہم بہت قریب سے دیکھے جو اس کے لب تو کھلا کہ ایک عمر سے کیوں اتنے تشنہ کام تھے ہم وہ سارا دور تھا رسوائیوں سے پہلے کا کہ شہر یار تھے یاروں میں نیک نام تھے ہم یہ مہربانی بھی ہم پہ رہی محبت کی کہ خاص رہتے ہوئے بھی بہت ہی عام تھے ہم وصال کا کوئی امکان ہی نہ تھا خاورؔ وہ زر نگار سحر تھا غبار شام تھے ہم

na tez-rau the na joinda-e-maqaam the ham

غزل · Ghazal

سفیر شام صبح کا نقیب کیسے ہو گیا جو شب کو شب نہ لکھ سکا ادیب کیسے ہو گیا ابھی تو خواب دیکھنے کی عمر تھی مری مگر ابھی سے جاگنا مرا نصیب کیسے ہو گیا اسی کی آب و خاک سے مری نمود ہے تو پھر مرا وطن مرے لیے عجیب کیسے ہو گیا مرے لہو سے جس کے برگ و بار میں بہار ہے وہی شجر مرے لیے صلیب کیسے ہو گیا مری زمیں تو سیم و زر سے قیمتی زمین ہے مگر یہ میرا ملک یوں غریب کیسے ہو گیا

safir-e-shaam subh kaa naqib kaise ho gayaa

غزل · Ghazal

کہیں جلتی اپنی ہی آنچ سے کہیں خوشبوؤں میں بھری ہوئی کوئی شاخ گل تھی کہ آگ تھی مرے بازوؤں میں بھری ہوئی وہ طلسمی رات ابھی تلک مرے جسم و جاں پہ محیط ہے وہ جو رات اتری تھی عرش سے ترے جادوؤں میں بھری ہوئی ترے چشم و لب کی شباہتیں مجھے روز و شب ملیں باغ میں کہیں تتلیوں پہ لکھی ہوئی کہیں جگنوؤں میں بھری ہوئی مجھے سیر گل کی کسی روش پہ ملی نہیں ہے مثال بھی کوئی بے مثال سی مشک تھی ترے گیسوؤں میں بھری ہوئی تو چلا گیا ہے تو شہر پھر وہی دشت غم ہے مرے لیے وہی میں ہوں اور مری زندگی مرے آنسوؤں میں بھری ہوئی

kahin jalti apni hi aanch se kahin khushbuon mein bhari hui

Similar Poets