nahin ehsaas tum ko raaegaani kaa hamaari
suhulat se tumhein shaayad mayassar ho gae hain

Khwaja Razi Haidar
Khwaja Razi Haidar
Khwaja Razi Haidar
Popular Shayari
5 totalguzri jo rahguzar mein use darguzar kiyaa
aur phir ye tazkira kabhi jaa kar na ghar kiyaa
main ne puchhaa ki koi dil-zadagaan ki hai misaal
kis tavaqquf se kahaa us ne ki haan tum aur main
kab tak ai baad-e-sabaa tujh se tavaqqo rakkhun
dil tamannaa kaa shajar hai to haraa ho bhi chukaa
aaine mein aur aab-e-ravaan mein thaa tiraa aks
shaayad ki miraa dida-e-tar teri taraf thaa
Ghazalغزل
کیسی ہے عجب رات یہ کیسا ہے عجب شور صحرا ہی نہیں گھر بھی مچاتا ہے عجب شور اک درد کی آندھی مجھے رکھتی ہے ہراساں اک آس کا جھونکا بھی اڑاتا ہے عجب شور روشن ہے کسی آنکھ میں تاریکیٔ احوال اک طاق تمنا میں دہکتا ہے عجب شور اک شخص مرے آئنۂ دل کے مقابل خاموش ہے لیکن پس چہرہ ہے عجب شور آتی ہے بہت دور سے پازیب کی آواز پھر میری سماعت میں چہکتا ہے عجب شور میں ضبط کو ہر رخ سے سپر کرتا ہوں لیکن آنکھوں سے مری جھانکتا رہتا ہے عجب شور شاید ترا حصہ ہے کنارے کی خموشی معلوم تجھے کیا تہ دریا ہے عجب شور
kaisi hai ajab raat ye kaisaa hai ajab shor
محبت ایک جیسی ہے وفائیں ایک جیسی ہیں یہاں موسم بدلنے پر ہوائیں ایک جیسی ہیں عجب شہر سخن آباد ہے میری سماعت میں عجب شہر خموشاں ہے صدائیں ایک جیسی ہیں تری آنکھوں میں آوازیں مرے ہونٹوں پہ سناٹا سفر کی داستانیں کیا سنائیں ایک جیسی ہیں سنا ہے اس طرف بھی شام کو لہجہ مہکتا ہے خفا آپس میں ہیں لیکن دعائیں ایک جیسی ہیں رضیؔ دونوں کو اکثر خوف تنہائی ستاتا ہے رضیؔ دونوں کی قسمت میں سزائیں ایک جیسی ہیں
mohabbat ek jaisi hai vafaaein ek jaisi hain
قرض کیا کیا نظر پہ نکلے ہیں جب بھی سیر و سفر پہ نکلے ہیں جنگلوں سے گزرنے والوں کے راستے میرے گھر پہ نکلے ہیں نام پوچھا ہے راہگیروں نے جب کبھی رہ گزر پہ نکلے ہیں زخم پھوٹے ہیں جا بہ جا تن پر کیا شگوفے شجر پہ نکلے ہیں کیا مصیبت ہے شہر والوں پر رکھ کے سامان سر پہ نکلے ہیں ساتھ لے کر کتاب یادوں کی ایک لمبے سفر پہ نکلے ہیں دشت و صحرا سے گھوم پھر کے رضیؔ اب شناسا ڈگر پہ نکلے ہیں
qarz kyaa kyaa nazar pe nikle hain
سرنگوں دل کی طرح دست دعا ہو بھی چکے سلسلے جن کے جدا تھے وہ جدا ہو بھی چکے دشت میں آیا نہیں ناقۂ محمل بر دوش نقش کچھ صورت نقش کف پا ہو بھی چکے نخل امید رہا پھر بھی نمو سے محروم جب کہ موسم کئی آغوش کشا ہو بھی چکے ایک بے نام سی حسرت ہے بدن میں باقی جس قدر قرض تھے شب کے وہ ادا ہو بھی چکے خواہش عقدہ کشائی پہ ندامت کیسی رسم ناخن سے خفا بند قبا ہو بھی چکے اب تو بس ایک تسلسل ہے تعلق کا دراز امتحاں ہو بھی چکا وعدے وفا ہو بھی چکے کب تک اے باد صبا تجھ سے توقع رکھوں دل تمنا کا شجر ہے تو ہرا ہو بھی چکے میں تو اک گونج میں زندہ ہوں سر بزم رضیؔ جن کو ہونا تھا یہاں نغمہ سرا ہو بھی چکے
sar-nigun dil ki tarah dast-e-duaa ho bhi chuke
وقت عجیب آ گیا منصب و جاہ کے لیے صاحب دل بھی چل پڑے تخت و کلاہ کے لیے مرے غنیم سرخرو عرصۂ صد شکست میں کوئی نوید سر خوشی میری سپاہ کے لیے اس کا ہدف بھی دیکھنا میری طرف بھی دیکھنا قتل انا کی شرط ہے اس سے نباہ کے لیے موسم گل کو کیا خبر شورش ابر و باد میں طائر دل اداس ہے شاخ پناہ کے لیے ایک نوائے آتشیں حلقہ بہ حلقہ جسم میں پھر ہوئی ہے تازہ دم تازہ گناہ کے لیے کہتا تھا کوئی شمع رخ دیکھ مرے چراغ شب کوئی کرن بچا کے رکھ روز سیاہ کے لیے اک شب ماہ کے لیے دل ہے لہو لہو رضیؔ آنکھ ستارہ کیش ہے اک شب ماہ کے لیے
vaqt ajiib aa gayaa mansab-o-jaah ke liye
گزری جو رہ گزر میں اسے درگزر کیا اور پھر یہ تذکرہ کبھی جا کر نہ گھر کیا چشم سلیقہ ساز تو خاموش ہی رہی رخصت پہ تیری دل نے بہت شور و شر کیا آزردگان ہجر کی وحشت عجیب ہے نکلے نہ گھر سے اور نہ آباد گھر کیا بے برگ و بار جسم تھا محروم اعتبار سرگرمئ صبا نے شجر کو شجر کیا اپنے سوا کسی کو یہ دل مانتا نہ تھا اس دل کو استوار تری آنکھ پر کیا یہ عشق مرحلہ تو سفر در سفر کا ہے اب دیکھنا ہے کس نے کہاں تک سفر کیا ایسے کشادہ دست کہاں کے تھے ہم رضیؔ شاید لحاظ زحمت دریوزہ گر کیا
guzri jo rahguzar mein use darguzar kiyaa





