SHAWORDS
Krishn Gopal Maghmum

Krishn Gopal Maghmum

Krishn Gopal Maghmum

Krishn Gopal Maghmum

poet
2Shayari
26Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 26
غزل · Ghazal

مسکرانے کو مسکراتا ہوں پھر بھی غم کو کہاں چھپاتا ہوں حسن سے رنگ مانگ لاتا ہوں اور ہر نقش فن سجاتا ہوں یاد آتا ہے تو مجھے ہر دم کیا تجھے بھی میں یاد آتا ہوں شاعری کے حسین پردے میں زندگی تیرے گیت گاتا ہوں حسن کو چوم کر نگاہوں سے حسن کی آبرو بڑھاتا ہوں آج بھی اس کی یاد آتے ہی ساری دنیا کو بھول جاتا ہوں میں نے بیچی نہیں ہے خودداری میں کسی دام میں کب آتا ہوں اس سیاست کے گھپ اندھیرے میں شمع انسانیت جلاتا ہوں ہر جفا جو کے سامنے جا کر لب گویا کو آزماتا ہوں میں تعصب کے بھولے بھٹکوں کو سیدھے راستے پہ لے کے آتا ہوں مجھ سا ہوگا نہ قدردان وقت اک بھی لمحہ نہیں گنواتا ہوں اک قدم جو بڑھائے میری طرف دو قدم اس کی سمت اٹھاتا ہوں میرے آنسو نہ کوئی پونچھ سکا اک زمانے کو میں ہنساتا ہوں دل عاشق ہے میرے سینے میں میں محبت کے گیت گاتا ہوں وصف و خوبی کا ہوں ستائش گر عیب کو آئنہ دکھاتا ہوں کبھی اوروں کا ذکر ہے لب پر آپ بیتی کبھی سناتا ہوں کبھی کرتا ہوں بارش گل تر کبھی چنگاریاں اڑاتا ہوں بزم فطرت میں بیٹھ کر مغمومؔ حسن فطرت کے ناز اٹھاتا ہوں

muskuraane ko muskuraataa huun

غزل · Ghazal

کوئی جلوہ فشاں ہے اور میں ہوں تصور کا جہاں ہے اور میں ہوں کٹھن ہے راہ منزل گم شب تار مگر عزم گراں ہے اور میں ہوں خزاں کی انجمن میں ہوں فروکش فریب گلستاں ہے اور میں ہوں یہ میرا دل ہے یا تصویر خانہ جمال گل رخاں ہے اور میں ہوں ہمارا کارواں بھٹکا ہوا ہے خیال کارواں ہے اور میں ہوں نظر میں ماورائے فرش و عرش اب فضائے دو جہاں ہے اور میں ہوں مرا کوئی شریک غم نہیں ہے مرا درد نہاں ہے اور میں ہوں تعصب ہے کہیں فرقہ پرستی عجب نازک سماں ہے اور میں ہوں شب تاریک کے دامن میں مغمومؔ سکوت بے کراں ہے اور میں ہوں

koi jalvaa-fishaan hai aur main huun

غزل · Ghazal

نہیں بدلے در و دیوار زنداں آؤ دیوانو جو پہلے تھے وہی ہیں ساز و ساماں آؤ دیوانو تم ایسے سرپھروں کی جستجو ہے طوق آہن کو بلاتی ہے تمہیں زنجیر زنداں آؤ دیوانو کوئی لذت شناس آبلہ پائی نہیں ملتا ترستا ہے ہر اک خار بیاباں آؤ دیوانو ہر اک داغ جگر لو دے اٹھے تاریکئ شب میں کریں اس رنگ سے جشن چراغاں آؤ دیوانو دلوں میں شعلۂ سوز یقیں ہے عزم محکم بھی کریں تاریک ذروں کو درخشاں آؤ دیوانو یہ مانا مشکلات نو بہ نو اک اک قدم پر ہیں کریں مل جل کے ہر مشکل کو آساں آؤ دیوانو چلو چل کر سنیں مغمومؔ سے تازہ غزل اس کی وہ اپنی طرز کا ہے اک سخنداں آؤ دیوانو

nahin badle dar-o-divaar-e-zindaan aao divaano

غزل · Ghazal

ہر قدم تیری رہ گزر میں ہے میری منزل مری نظر میں ہے زندگی سرحد خطر میں ہے منزل آخری نظر میں ہے زندگی ہم رکاب ہو کب تک آدمی موت کے سفر میں ہے عشق اگر ہے مری رگ و پے میں حسن میری نظر نظر میں ہے اس کا اقرار کھل کے ہو کہ نہ ہو دل مگر حرص مال و زر میں ہے کوئی سیاح ہی بتائے گا لطف جو سیر میں سفر میں ہے شد و مد سے ہے آج بھی جاری وہ تصادم جو خیر و شر میں ہے بن گیا ہے بلائے جان قوم ایک سودا جو اہل شر میں ہے حسن جس شے کا نام ہے یارو دیکھنے والے کی نظر میں ہے درد سر ہے وطن کا ہر اخبار سنسنی سی ہر اک خبر میں ہے رنگ ہی رنگ ہیں نگاہوں میں ہائے کیا بات ہم سفر میں ہے جذبۂ خیر اب کہاں مغمومؔ شر ہی شر آج کے بشر میں ہے

har qadam teri rahguzar mein hai

غزل · Ghazal

قدم جو راہ محبت میں تھکنے لگتا ہے ہر ایک ذرۂ منزل چمکنے لگتا ہے وہ جس نے پی ہو ذرا سی بھی اقتدار کی مے ہر ایک بزم میں کیا کیا بہکنے لگتا ہے بنانے والی ہو پیوند خاک جس کو ہوا وہ غنچہ وقت سے پہلے چٹکنے لگتا ہے نگاہ شوق میں شامل جو ہو خلوص و نیاز نقاب روئے درخشاں سرکنے لگتا ہے تمہاری مہکی ہوئی زلف کے تصور سے مرا جہان تخیل مہکنے لگتا ہے کبھی کبھار جو ہوتی ہے چاہ پینے کی نگاہ ناز کا ساغر چھلکنے لگتا ہے قریب شام ہوائیں جو آہ بھرتی ہیں کسی کی یاد کا کانٹا کھٹکنے لگتا ہے شب فراق کی ظلمت فروش وادی میں وہ ماہتاب تمنا چمکنے لگتا ہے دبا چکا ہوں جسے خاک دل میں میں یا رب وہ شعلہ از سر نو کیوں بھڑکنے لگتا ہے رکا ہوا تھا جو آنکھوں میں جانے کیوں مغمومؔ وہ بوند بوند لہو پھر ٹپکنے لگتا ہے

qadam jo raah-e-mohabbat mein thakne lagtaa hai

غزل · Ghazal

بھٹک نہ جائے خدایا نظر کتابوں میں گزرتے ہیں مرے شام و سحر کتابوں میں جہان بھر میں ہیں جاذب ہزار ہا چیزیں مگر نظر نے بنایا ہے گھر کتابوں میں ہزار حیف ہمیں بہرہ یاب ہو نہ سکے کہاں کہاں کا تھا علم و ہنر کتابوں میں وہ علم ذات کہ جس کی ہمیں خبر نہ ہوئی وہ علم ذات بھی تھا جلوہ گر کتابوں میں ہمارے قول و عمل پر ہوا نہ کوئی اثر الجھ کے رہ گئی اپنی نظر کتابوں میں جہاں بھی سنگ حوادث کی ہو گئی بارش چھپا لیا ہے وہیں اپنا سر کتابوں میں مطالعہ کی نمائش ہی جن کا مقصد تھا ملا نہ کچھ بھی انہیں عمر بھر کتابوں میں تلاش جن کی ہر اک علم داں کو رہتی ہے وہ در علم بھی ہیں معتبر کتابوں میں یہیں ہوئی مری ہستی کی ابتدائے سفر ہو خوب تر جو ہو ختم سفر کتابوں میں زمانے بھر کی خبر مل گئی کتابوں سے ملی نہ اپنی ذرا بھی خبر کتابوں میں ہوئی ہے جس سے مری فکر گوہریں مغمومؔ مجھے ملی ہے وہ تاب گہر کتابوں میں

bhaTak na jaae khudaayaa nazar kitaabon mein

Similar Poets