log nafrat ki fazaaon mein bhi ji lete hain
ham mohabbat ki havaa se bhi Daraa karte hain

Lata Haya
Lata Haya
Lata Haya
Popular Shayari
5 totalqismat ajiib khel dikhaati chali gai
jo hans rahe the un ko rulaati chali gai
tirgi khaamushi bebasi tishnagi
hijr ki raat mein khaamiyaan khaamiyaan
main to mushtaaq huun aandhi mein bhi uDne ke liye
main ne ye shauq ajab dil ko lagaa rakkhaa hai
jise paDhaa nahin tum ne kabhi mohabbat se
kitaab-e-zist kaa vo baab hain mire aansu
Ghazalغزل
ہر قدم حادثے ہر نفس تلخیاں زندگی برق طوفاں خزاں آندھیاں رفتہ رفتہ یہی بوجھ لگنے لگیں کیوں بڑی ہو گئیں ماں تری بیٹیاں میری دنیا تری ذات میں قید ہے مجھ کو خیرات میں دے نہ آزادیاں تیرگی خامشی بے بسی تشنگی ہجر کی رات میں خامیاں خامیاں آپ ہی آندھیوں سے الجھتے رہے میں تو لائی تھی دامن میں پروائیاں میں کتابوں میں رکھوں یہ فطرت نہیں پھول سوکھے ہوئے بے زباں تتلیاں یہ صحیفہ نہیں میری روداد ہے اس کا عنوان ہے تلخیاں تلخیاں یاد کیا ہے کوئی مجھ سے پوچھے حیاؔ ایک احساس کی چند پرچھائیاں
har qadam haadse har nafs talkhiyaan
قسمت عجیب کھیل دکھاتی چلی گئی جو ہنس رہے تھے ان کو رلاتی چلی گئی دل گویا حادثات مسلسل کا شہر ہو دھڑکن بھی چیخ بن کے ڈراتی چلی گئی کاغذ کی طرح ہو گئی بوسیدہ زندگی تحریر حسرتوں کی مٹاتی چلی گئی میں چاہتی نہیں تھی مگر پھر بھی جانے کیوں آئی جو تیری یاد تو آتی چلی گئی آنکھوں کی پتلیوں سے ترا عکس بھی گیا یعنی چراغ میں تھی جو باتی چلی گئی ڈھونڈا انہیں جو رات کی تنہائی میں حیاؔ اک کہکشاں سی ذہن پہ چھاتی چلی گئی
qismat ajiib khel dikhaati chali gai
میں نے ویرانے کو گلزار بنا رکھا ہے کیا برا ہے جو حقیقت کو چھپا رکھا ہے دور حاضر میں کوئی کاش زمیں سے پوچھے آج انسان کہاں تو نے چھپا رکھا ہے وہ تو خود غرضی ہے لالچ ہے ہوس ہے جن کا نام اس دور کے انساں نے وفا رکھا ہے وہ مرے صحن میں برسے گا کبھی تو کھل کر میں نے خواہش کا شجر کب سے لگا رکھا ہے میں تو مشتاق ہوں آندھی میں بھی اڑنے کے لئے میں نے یہ شوق عجب دل کو لگا رکھا ہے میں کہ عورت ہوں مری شرم ہے میرا زیور بس تخلص اسی باعث تو حیاؔ رکھا ہے
main ne viraane ko gulzaar banaa rakkhaa hai
میں غزل ہوں مجھے جب آپ سنا کرتے ہیں چند لمحے مرا غم بانٹ لیا کرتے ہیں جب وفا کرتے ہیں ہم صرف وفا کرتے ہیں اور جفا کرتے ہیں جب صرف جفا کرتے ہیں لوگ چاہت کی کتابوں میں چھپا کر چہرے صرف جسموں کی ہی تحریر پڑھا کرتے ہیں لوگ نفرت کی فضاؤں میں بھی جی لیتے ہیں ہم محبت کی ہوا سے بھی ڈرا کرتے ہیں اپنے بچوں کے لئے لاکھ غریبی ہو مگر ماں کے پلو میں کئی سکے ملا کرتے ہیں جو کبھی خوش نہ ہوئے دیکھ کے شہرت میری میرے اپنے ہیں مجھے پیار کیا کرتے ہیں جن کے جذبات ہوں نقصان نفع کی زد میں ان کے دل میں کئی بازار سجا کرتے ہیں فکر و احساس پہ پردہ ہے حیاؔ کا ورنہ ہم غلط بات نہ سنتے نہ کہا کرتے ہیں
main ghazal huun mujhe jab aap sunaa karte hain





