"vo aana chahta hai mere dil men magar koi bahana chahta hai"

M. Nasrullah Nasr
M. Nasrullah Nasr
M. Nasrullah Nasr
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"khair ko khair shar ko shar kahna sar qalam ho to ho magar kahna"
vo aanaa chaahtaa hai mere dil mein
magar koi bahaana chaahtaa hai
khair ko khair shar ko shar kahnaa
sar qalam ho to ho magar kahnaa
Ghazalغزل
kahin gulaab kahin sabz ghaas rahne do
کہیں گلاب کہیں سبز گھاس رہنے دو چمن کو میرے ذرا خوش لباس رہنے دو میں خار و خس ہی سہی کچھ تو کام آؤں گا مجھے جلاؤ نہیں گھر کے پاس رہنے دو خوشی ملی ہے تمہاری یہ خوش نصیبی ہے اداس رہنا ہے مجھ کو اداس رہنے دو کبھی تمہاری نظر مجھ پہ کیوں نہیں پڑتی سنا ہے تم ہو ستارہ شناس رہنے دو فقیر رکھتے نہیں زرق برق پوشاکیں مرے بدن پہ یہ سادہ لباس رہنے دو زبان کھولو گے جب بھی انا بھی جائے گی کرو نہ اس سے کوئی التماس رہنے دو ہزار تلخ ہے لہجہ کسی کا نصرؔ تو کیا زباں میں اپنی مگر تم مٹھاس رہنے دو
jab bhi aataa hai miraa naam tire naam ke baa'd
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے بعد لوگ طوفان اٹھا لیتے ہیں الزام کے بعد عقل حیران ہے اس شخص کی دانائی پر جس نے توڑے کئی اصنام ہیں اصنام کے بعد دن گزر جاتا ہے ہنگامۂ دنیا میں مگر چین آتا ہے کہاں مجھ کو سر شام کے بعد جو ابھی شہرت و دولت میں ہوا ہے اندھا ہوش میں آئے گا لیکن برے انجام کے بعد لوگ رکھتے ہیں تعلق بھی غرض سے اپنی رخ بدل لیتے ہیں موسم کی طرح کام کے بعد شام کے بعد ہوئی صبح تو جانا ہم نے ملتی خوشیاں ہیں مگر گردش ایام کے بعد ساتھ دینا تھا ابھی نصرؔ کا کچھ دیر تلک اٹھ گئے آپ بھی میخانے سے دو جام کے بعد
na aasmaan ko chhu kar na hi takaan ke baa'd
نہ آسمان کو چھو کر نہ ہی تکان کے بعد پرند لوٹ کے آیا ہے کچھ اڑان کے بعد بچھڑ کے ماں سے کڑی دھوپ میں جلے اکثر ملا سکون کہاں اس کے سائبان کے بعد سکون پائے تو پائے بھی کس طرح انساں ہیں امتحان کئی ایک امتحان کے بعد پھر اس کے پاؤں کی زنجیر بن گئی غربت بنا سکا نہ کوئی گھر جلے مکان کے بعد خوشی سے گھر تھا معطر عجب سی رونق تھی اداس ہو گیا ماحول میہمان کے بعد جو لوٹتے ہیں مزے فرش گل کے بستر پر وہ فرش خاک پہ سوئیں گے اس جہان کے بعد کسی اڑان کو معراج فن سمجھنا کیا ہیں آسمان کئی نصرؔ آسمان کے بعد
takabbur kaa safina ai sitamgar Duub jaataa hai
تکبر کا سفینہ اے ستم گر ڈوب جاتا ہے انا کے ایک قطرے میں سمندر ڈوب جاتا ہے سدا ہے سرفرازی خاکساری کو زمانے میں کہ تنکا تیرتا رہتا ہے پتھر ڈوب جاتا ہے سمندر کی تہوں سے لوگ موتی ڈھونڈ لاتے ہیں کوئی بحر تلاطم میں اتر کر ڈوب جاتا ہے سفر راہ محبت کا نہیں آساں مرے ہمدم یہ ایسا بحر ہے جس میں شناور ڈوب جاتا ہے تظلم کی حکومت دیر تک رہتی نہیں قائم لہو میں اپنے ہی اک دن ستم گر ڈوب جاتا ہے کبھی غفلت میں مت رہنا کہ اکثر ہوتا ہے ایسا سفینہ شوق کا ساحل سے لگ کر ڈوب جاتا ہے غزل ہوتی ہے جب تخلیق تو اے نصرؔ اس لمحے خیالوں کے سمندر میں سخنور ڈوب جاتا ہے
dil ko shohrat kaa talabgaar na hone diije
دل کو شہرت کا طلب گار نہ ہونے دیجے خود کو رسوا سر بازار نہ ہونے دیجے فاقہ کر لیجئے اس شہر جفا میں لیکن خم انا کی کبھی دستار نہ ہونے دیجے جس کی تعمیر میں اسلاف کا خوں شامل ہو اس حویلی کو تو مسمار نہ ہونے دیجے گفتگو میں بھی رہے حسن تکلم کا خیال اور لہجے کو بھی تلوار نہ ہونے دیجے وقت سے قیمتی دنیا میں کوئی چیز نہیں کوئی پل زیست کا بیکار نہ ہونے دیجے خامشی نصرؔ ہے دراصل ذہانت کی دلیل اپنے حالات کو اخبار نہ ہونے دیجے
kal jo mumkin thaa aaj hai hi nahin
کل جو ممکن تھا آج ہے ہی نہیں درد مند اب سماج ہے ہی نہیں اس کو شک کی ہے ایک بیماری اور شک کا علاج ہے ہی نہیں کیا دکھائیں اسے ہم آئینہ اس کی آنکھوں میں لاج ہے ہی نہیں مسئلے حل ہوں کیسے جب ہم میں قوت احتجاج ہے ہی نہیں آج انصاف کوئی کیا پائے شاہ عادل کا راج ہے ہی نہیں ہے تعلق بھی مصلحت آمیز دلبری کا رواج ہے ہی نہیں خم کرے سر در امارت پر نصرؔ کا یہ مزاج ہے ہی نہیں





