jis ko chaahein be-izzat kar sakte hain
aap baDe hain aap ko ye aasaani hai

Majid Deobandi
Majid Deobandi
Majid Deobandi
Popular Shayari
8 totalafsos jin ke dam se har ik su hain nafratein
ham ne taalluqaat unhin se baDhaa liye
yaad rakkho ik na ik din saanp baahar aaeinge
aastinon mein unhein kab tak chhupaayaa jaaegaa
in aansuon ki hifaazat bahut zaruri hai
andheri raat mein jugnu bhi kaam aate hain
phir tumhaare paanv chhune khud bulandi aaegi
sab dilon par raaj kar ke taaj-daari siikh lo
meri aankhein kuchh soi si rahti hain
shaayad in kaa khvaab-nagar se rishta hai
main jab bhi tajziya kartaa huun teraa ai duniyaa
is aaine mein tujhe bad-chalan si paataa huun
khizaan kaa zikr to meri zabaan pe thaa hi nahin
bahaar karti hai maatam tire havaale se
Ghazalغزل
آس کو دشت آرزو دے دے پاؤں کو کرب جستجو دے دے اب کے پھولوں کا رنگ پھیکا ہے فصل گل کو مرا لہو دے دے میں کہاں اور متاع درد کہاں یہ تیری دین جس کو تو دے دے بے زبانی میں عمر گزری ہے آج تو اذن گفتگو دے دے عمر بھر دوستوں کا نام نہ لوں گر قرینے کا اک عدو دے دے جس نے سیراب کر دیا مجھ کو واعظوں کو بھی وہ سبو دے دے تیرا ماجدؔ خموش ہے کب سے کوئی موضوع گفتگو دے دے
aas ko dasht-e-aarzu de de
در کون کرے پیدا سنگین چٹانوں میں وہ خون نہ وہ گرمی ملت کے جوانوں میں دیوانوں کی دنیا ہے پتھر کا زمانہ ہے بے فکر نہ بیٹھو تم شیشے کے مکانوں میں اے طائر بے پروہ بے داری و آگاہی ہیں دام بھی پوشیدہ بکھرے ہوئے دانوں میں اس دور بہاراں سے بہتر تھی خزاں یارو کانٹے نظر آتے ہیں پھولوں کی زبانوں میں کیا بات ہے اے ماجدؔ وہ کیف نہیں باقی ناقوس برہمن میں ملا کی اذانوں میں
dar kaun kare paidaa sangin chaTaanon mein
خون مجبوروں کا ہر گام بہانے والے کیا کہیں گے تجھے آخر یہ زمانے والے کانپتے ہاتھوں سے تلوار اٹھانے والے تیرے اجداد تھے تاریخ بنانے والے کشتیاں ہم نے جلا دی ہیں بھروسے پہ ترے اب یہاں سے نہیں ہم لوٹ کے جانے والے زندہ رہنا ہے تو پھر خود کو مٹانا سیکھو گھٹ کے مرتے ہیں سدا جان بچانے والے روشنی ان کے گھروں میں بھی نہ ہو پائے گی سوچ لیں یہ بھی مرے گھر کو جلانے والے کوئی کہہ دے یہ ذرا وقت کے شیطانوں سے خاک ہو جاتے ہیں سورج کو بجھانے والے ہاتھ اپنے بھی گنوا بیٹھیں گے اک دن ماجدؔ سجدہ گاہوں کے تقدس کو مٹانے والے
khuun majburon kaa har gaam bahaane vaale
سامان تجارت مرا ایمان نہیں ہے ہر در پہ جھکے سر یہ مری شان نہیں ہے ہر لفظ کو سینے میں بسا لو تو بنے بات طاقوں میں سجانے کو یہ قرآن نہیں ہے اللہ مرے رزق کی برکت نہ چلی جائے دو روز سے گھر میں کوئی مہمان نہیں ہے ہم نے تو بنائے ہیں سمندر میں بھی رستے یوں ہم کو مٹانا کوئی آسان نہیں ہے وہ جس کو بزرگوں کی روایت نہ رہے یاد اس شخص کی لوگو کوئی پہچان نہیں ہے دو چار امیدوں کے دیے اب بھی ہیں روشن ماضی کی حویلی ابھی ویران نہیں ہے پھولوں کی جگہ جلتے ہوئے لفظ سجے ہیں اب میز پہ اخبار ہیں گلدان نہیں ہے ماجدؔ ہے مرا شعر میرے عہد کی تصویر غالبؔ کی غزل میرؔ کا دیوان نہیں ہے
saamaan-e-tijaarat miraa imaan nahin hai
نہ کچھ زیادہ نہ کچھ کم ترے حوالے سے وہی ہے درد کا عالم ترے حوالے سے کھلے جو زخم کے ٹانکے تو یہ ہوا محسوس صبا نے رکھ دیا مرہم ترے حوالے سے وہی ہے دل کا تڑپنا وہی ہے کیفیت وہی مزاج ہے پیہم ترے حوالے سے چلی ہے ہجر کے موسم میں جب بھی پروائی ہوئی ہے آنکھ مری نم ترے حوالے سے خزاں کا ذکر تو میری زباں پہ تھا ہی نہیں بہار کرتی ہے ماتم ترے حوالے سے مری حیات تھی خوشیوں سے ہم کنار مگر ہوئے ہیں درد منظم ترے حوالے سے ترا حوالہ دیا تھا کہ یک بیک ماجدؔ زمانہ ہو گیا برہم ترے حوالے سے
na kuchh ziyaada na kuchh kam tire havaale se
کوئی ادا جو کہیں اپنے پن سی پاتا ہوں دیار غیر میں ٹھنڈک وطن سی پاتا ہوں میں جب بھی تجزیہ کرتا ہوں تیرا اے دنیا اس آئینے میں تجھے بد چلن سی پاتا ہوں خدا کرے کہ مرے دوست خیریت سے ہوں عجیب طرح کی دل میں چبھن سی پاتا ہوں بدلنے والا ہے شاید مزاج موسم کا جبین وقت کو میں پرشکن سی پاتا ہوں سکون ملتا ہے یاروں سے معذرت کر کے تعلقات میں جب بھی گھٹن سی پاتا ہوں خدا ہی رکھے مرے کارواں کی خیر اب تو کہ راہ بر میں ادا راہزن سی پاتا ہوں میں دشمنوں میں نہیں دوستوں میں ہوں ماجدؔ یہاں تو اور زیادہ گھٹن سی پاتا ہوں
koi adaa jo kahin apne-pan si paataa huun





