jal gae phir se kuchh hasin rishte
tanziya guftugu ki bhaTTi mein

Malikzada Javed
Malikzada Javed
Malikzada Javed
Popular Shayari
5 totalkam-umri mein sunet hain
mar jaate hain achchhe log
miyaan us shakhs se hoshiyaar rahnaa
sabhi se jhuk ke jo miltaa bahut hai
uThaao camera tasvir khinch lo in ki
udaas log kahaan roz muskuraate hain
zindagi ek kahaani ke sivaa kuchh bhi nahin
log kirdaar nibhaate hue mar jaate hain
Ghazalغزل
ہر دل میں اک ڈر بیٹھا تھا کرسی پر اجگر بیٹھا تھا لفظ زباں پر آتے کیسے آنکھوں میں منظر بیٹھا تھا پاؤں بہت لمبے تھے اس کے اوڑھ کے دن چادر بیٹھا تھا جم غفیر تھا راہ گزر میں خون میں کوئی تر بیٹھا تھا
har dil mein ik Dar baiThaa thaa
وہی قصے وہی باتیں پرانی ابھی محفوظ ہیں یادیں پرانی زمیں میں دفن ہیں کچھ چاند تارے لہو میں تر ہیں جاگیریں پرانی بہت تیزی سے چھانا چاہتی ہیں نئی دیوار پر بیلیں پرانی نئے منظر کے پس منظر میں آ کر بدل جاتی ہیں تہذیبیں پرانی مرے شجرے کے آنگن میں ہمیشہ بھٹکتی رہتی ہیں روحیں پرانی
vahi qisse vahi baatein puraani
ویران مقبروں سے چلو مشورہ کریں نام و نسب کا دور ہوا ختم کیا کریں اڑتی ہے خاک کمروں میں آسیب کی طرح دیوار و در کو غور سے کب تک تکا کریں ہاتھوں میں لے کے کیمرہ بھٹکیں تمام عمر ماضی کی بکھری یادوں کو یکجا کیا کریں ہم سن رسیدہ لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر روشن ضمیر والوں کے قصے سنا کریں آیا ہے میرے شہر میں لیکن ملا نہیں وہ کس جگہ اسیر ہے چل کر پتا کریں جاویدؔ تیری غزلوں کا لہجہ ہے مختلف دل کو ترے مزاج سے کیوں آشنا کریں
viraan maqbaron se chalo mashvara karein
گئے وقتوں سے کچھ یاری بھی ہوگی ہماری ناز برداری بھی ہوگی ذرا سی برف پگھلی ہے ابھی تو محبت کی ندی جاری بھی ہوگی سلگتے دن بڑے چالاک ہوں گے مگر بچوں میں ہشیاری بھی ہوگی وہ میری ذات سے منکر نہ ہوگا نمک میں کچھ وفاداری بھی ہوگی کہو جاویدؔ اس ماحول میں کیا اصولوں کی طرف داری بھی ہوگی
gae vaqton se kuchh yaari bhi hogi
اس شجر پر ایک بھی پتا نہیں ہجر کا موسم ابھی گزرا نہیں لکھ دیا ہے دھوپ نے سب کچھ مگر وہ مرے چہرے کو کیوں پڑھتا نہیں میری غزلوں سے بھی پھوٹی ہے کرن میں ستارہ بن کے کیوں چمکا نہیں میرے گھر تک آ گئی پکی سڑک دھول سے کپڑوں کو اب خطرہ نہیں ویسے انٹریو تو دے آیا ہوں میں کامیابی کے لئے پیسا نہیں
is shajar par ek bhi pattaa nahin
شام تنہا ہے اور سحر تنہا زندگی ہو گئی بسر تنہا جانے کس کس کو یاد کرتا ہے گھر کے آنگن میں اک شجر تنہا اپنی عظمت کی داستاں لے کر گاؤں میں رہ گیا کھنڈر تنہا حادثے تیز گام ہوتے ہیں اور کرتا ہوں میں سفر تنہا
shaam tanhaa hai aur sahar tanhaa





