SHAWORDS
Manzar Bhopali

Manzar Bhopali

Manzar Bhopali

Manzar Bhopali

poet
19Shayari
30Ghazal

Popular Shayari

19 total

Ghazalغزل

See all 30
غزل · Ghazal

زلف و رخ کے سائے میں زندگی گزاری ہے دھوپ بھی ہماری ہے چھاؤں بھی ہماری ہے غم گسار چہروں پر اعتبار مت کرنا شہر میں سیاست کے دوست بھی شکاری ہے موڑ لینے والی ہے، زندگی کوئی شاید اب کے پھر ہواؤں میں ایک بے قراری ہے حال خوں میں ڈوبا ہے کل نہ جانے کیا ہوگا اب یہ خوف مستقبل ذہن ذہن طاری ہے میرے ہی بزرگوں نے سر بلندیاں بخشیں میرے ہی قبلے پر مشق سنگ باری ہے اک عجیب ٹھنڈک ہے اس کے نرم لہجے میں لفظ لفظ شبنم ہے بات بات پیاری ہے کچھ تو پائیں گے اس کی قربتوں کا خمیازہ دل تو ہو چکے ٹکڑے اب سروں کی باری ہے باپ بوجھ ڈھوتا تھا کیا جہیز دے پاتا اس لئے وہ شہزادی آج تک کنواری ہے کہہ دو میرؔ و غالبؔ سے ہم بھی شعر کہتے ہیں وہ صدی تمہاری تھی یہ صدی ہماری ہے کربلا نہیں لیکن جھوٹ اور صداقت میں کل بھی جنگ جاری تھی اب بھی جنگ جاری ہے گاؤں میں محبت کی رسم ہے ابھی منظرؔ شہر میں ہمارے تو جو بھی ہے مداری ہے

zulf o rukh ke saae mein zindagi guzaari hai

غزل · Ghazal

کوئی بچنے کا نہیں سب کا پتا جانتی ہے کس طرف آگ لگانا ہے ہوا جانتی ہے اجلے کپڑوں میں رہو یا کہ نقابیں ڈالو تم کو ہر رنگ میں یہ خلق خدا جانتی ہے روک پائے گی نہ زنجیر نہ دیوار کوئی اپنی منزل کا پتہ آہ رسا جانتی ہے ٹوٹ جاؤں گا بکھر جاؤں گا ہاروں گا نہیں میری ہمت کو زمانے کی ہوا جانتی ہے آپ سچ بول رہے ہیں تو پشیماں کیوں ہیں یہ وہ دنیا ہے جو اچھوں کو برا جانتی ہے آندھیاں زور دکھائیں بھی تو کیا ہوتا ہے گل کھلانے کا ہنر باد صبا جانتی ہے آنکھ والے نہیں پہچانتے اس کو منظرؔ جتنے نزدیک سے پھولوں کی ادا جانتی ہے

koi bachne kaa nahin sab kaa pataa jaanti hai

غزل · Ghazal

وہ چونکنے لگے بے وقت کی ہوا سے بھی کچھ ایسے لوگ جو ڈرتے نہ تھے خدا سے بھی مرے بزرگوں کے کردار اب بھی زندہ ہیں یہ پیڑ وہ ہیں جو گرتے نہیں ہوا سے بھی دوائیں پہلے ہی ناکام ہو چکی تھیں اور بھرے نہ زخم ہمارے تری دعا سے بھی زمانے بھر نے وفاداریاں بدل ڈالیں ہم اب بھی تیرے ہیں بدلے نہیں ذرا سے بھی کسی میں اپنی امامت کا حوصلہ ہی نہیں یہ دور سخت ہے ملت پہ کربلا سے بھی خلوص دل نہ ہو شامل عبادتوں میں اگر مقدرات بدلتے نہیں دعا سے بھی یہ تشنگی کی روایت ہمیں سے ہے منظرؔ ہمارے حصے میں دریا ہے ہم ہی پیاسے بھی

vo chaunkne lage be-vaqt ki havaa se bhi

غزل · Ghazal

اک مکاں اور بلندی پہ بنانے نہ دیا ہم کو پرواز کا موقع ہی ہوا نے نہ دیا تو خدا بن کے مٹائے گا ہمیں ہی اک دن سر ترے در پہ اسی ڈر نے جھکانے نہ دیا متحد ہونے کا جذبہ تھا سبھی میں لیکن متحد ہونے کا موقعہ ہی ہوا نے نہ دیا تم پہ چھا جاتے شجر بنتے جو ننھے پودے تم نے اچھا ہی کیا پاؤں جمانے نہ دیا وہ تو آمادہ تھا بندوں کی شکایت سن کر کچھ فرشتوں نے زمیں پر اسے آنے نہ دیا آپ ڈرتے ہیں کہ کھل جائے نہ اصلی چہرہ اس لئے شہر کو آئینہ بنانے نہ دیا

ik makaan aur bulandi pe banaane na diyaa

غزل · Ghazal

آنکھ بھر آئی کسی سے جو ملاقات ہوئی خشک موسم تھا مگر ٹوٹ کے برسات ہوئی دن بھی ڈوبا کہ نہیں یہ مجھے معلوم نہیں جس جگہ بجھ گئے آنکھوں کے دئے رات ہوئی کوئی حسرت کوئی ارماں کوئی خواہش ہی نہ تھی ایسے عالم میں مری خود سے ملاقات ہوئی ہو گیا اپنے پڑوسی کا پڑوسی دشمن آدمیت بھی یہاں نذر فسادات ہوئی اسی ہونی کو تو قسمت کا لکھا کہتے ہیں جیتنے کا جہاں موقع تھا وہیں مات ہوئی اس طرح گزرا ہے بچپن کہ کھلونے نہ ملے اور جوانی میں بڑھاپے سے ملاقات ہوئی

aankh bhar aai kisi se jo mulaaqaat hui

غزل · Ghazal

کدھر کو جائیں گے اہل سفر نہیں معلوم وہ بد حواسی ہے اپنا ہی گھر نہیں معلوم ہمارے شہر میں ہر روز اک قیامت ہے یہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں معلوم ڈگر ڈگر پہ ہیں انجانے حادثات کے موڑ رہے گا جسم پہ کس کس کے سر نہیں معلوم ہم اپنے گھر میں بھی بے خوف رہ نہیں سکتے کہ ہم کو نیت دیوار و در نہیں معلوم ہمارا صبر تجھے خاک میں ملا دے گا ہمارے صبر کا تجھ کو اثر نہیں معلوم مرے خدا مجھے توفیق دے محبت کی دلوں کو جیتنے والا ہنر نہیں معلوم ہمیشہ ٹوٹ کے ماں باپ کی کرو خدمت ہیں کتنے روز یہ بوڑھے شجر نہیں معلوم

kidhar ko jaaeinge ahl-e-safar nahin maa'lum

Similar Poets