tire badan ki mahak ko gulaab se tashbih
ki jaise koi dikhaae charaagh suraj ko

Maroof Raebarelvi
Maroof Raebarelvi
Maroof Raebarelvi
Popular Shayari
9 totalyaqin maanav ki urdu jo bol saktaa hai
vo pattharon kaa jigar bhi TaTol saktaa hai
hamaare munh pe uDaataa huaa vo dhuul gayaa
hamin ne chalnaa sikhaayaa hamin ko bhuul gayaa
asar duaaon mein hotaa hai kis qadar 'maaruf'
balaaein dekhi hain ham ne saron se Talte hue
vaqt jab aaya to sab daave zabaani nikle
yaar samjhe the jinhein dushman-e-jaani nikle
aap aur kuchh ghalat kahin tauba
jo ye kah de gunaahgaar hai vo
haqiqat se hain koson duur afsaanon ko kyaa dekhein
hon jin ke haath naqli un ke dastaanon ko kyaa dekhein
nisaar karne lage apni jaan parvaane
na jaane shama ne kyaa keh diyaa pighalte hue
main pur-umid rahaa maarka koi bhi rahaa
magar ye raat ki jis ki koi sahar hi nahin
Ghazalغزل
قطرۂ خون جگر کو چشم تر تک لے گئے اب کے آئے ایسے بادل میرا گھر تک لے گئے کم ہوں کچھ بے چینیاں شاید در و دیوار کی ہم ترے کوچے کے اک پتھر کو گھر تک لے گئے تب یہ جانا سر برہنہ کر دیا حالات نے بے خیالی میں جو ہم ہاتھوں کو سر تک لے گئے چھاؤں میں جس کی ملا کرتے رہے ہم مدتوں مسئلہ دل کا اسی بوڑھے شجر تک لے گئے کہہ دیا سب کچھ بشکل شعر ان کی بزم میں نالۂ دل سوز کو ہم یوں اثر تک لے گئے تم کو جانا تھا تو جاتے یہ غضب کیسا کیا غم چھپا کر مسکرانے کا ہنر تک لے گئے تب کہیں جا کر ہمیں ؔمعروف آیا ہے قرار جب جبین شوق کو ہم سنگ در تک لے گئے
qatra-e-khun-e-jigar ko chashm-e-tar tak le gae
نہ کر ہرگز نہ کر یہ گفتگو اچھا نہیں لگتا وفا کا ذکر میرے روبرو اچھا نہیں لگتا پلائی ہے غموں نے وہ مئے رنگین مت پوچھو کہ اب مجھ کو کوئی جام و سبو اچھا نہیں لگتا شب مہتاب کی یہ چاندنی پھیکی سی لگتی ہے گل خوش رنگ تیرے روبرو اچھا نہیں لگتا اجازت ہو اگر تو سر میں اپنا خود قلم کر لوں تمہاری آستینوں پر لہو اچھا نہیں لگتا یہ مے خانہ ہے کریے احترام مے کشی صاحب یہاں آئے جو کوئی بے وضو اچھا نہیں لگتا
na kar hargiz na kar ye guftugu achchhaa nahin lagtaa
پھر اس کے سینے میں دل ہی نہیں جگر ہی نہیں جو اس کے حسن کا شیدا نہیں بشر ہی نہیں دعا میں پہلے سا معروف اب اثر ہی نہیں نہیں ہوا کا رخ جو بدل دے وہ چشم تر ہی نہیں جو دیکھنا ہو اسے چشم دل کو کھول کے دیکھ کہ اس کے کوچے میں تو عقل کا گزر ہی نہیں سنا کے حال غم دل جسے سکون ملے کوئی شناسا مرا اتنا معتبر ہی نہیں میں پر امید رہا معرکہ کوئی بھی رہا مگر یہ رات کہ جس کی کوئی سحر ہی نہیں جنون شوق نے زاد سفر بھی چھین لیا ہمیں پھرایا فقط اس نے در بدر ہی نہیں کچھ اس طرح سے ہمیں مفلسی نے قید کیا کہ اب بدن پہ تخیل کے بال و پر ہی نہیں خوشا نصیب کہ ہم کو کچھ ایسے دوست ملے وفا کا جن کے دلوں سے کوئی گزر ہی نہیں
phir us ke siine mein dil hi nahin jigar hi nahin
کوئی ہم سے چھین نہ پاتا یہ دولت آسانی سے ہیرے جیسا دل کھویا ہے اپنی ہی نادانی سے قید ہمیں کرنے کی خاطر اتنی تدبیریں توبہ ہم تو تیری زلفوں میں ہی بندھ جاتے آسانی سے آج تلک بے چین ہے ساگر سر پٹکے ساحل ساحل میں نے اک تصویر بنا دی تھی آنکھوں کے پانی سے دنیا کی اس بھیڑ میں بھی میں اکثر تنہا رہتا ہوں میرا کچھ ناتا ہو جیسے صحرا کی ویرانی سے پہروں شاعر خون جگر کو پھیلاتا ہے کاغذ پر ملتی ہے یہ روح غزل کو سوچو کس قربانی سے
koi ham se chhin na paataa ye daulat aasaani se
خمار میں کبھی گرتے کبھی سنبھلتے ہوئے وہ خواب گاہ سے نکلے ہیں آنکھ ملتے ہوئے نثار کرنے لگے اپنی جان پروانے نہ جانے شمع نے کیا کہہ دیا پگھلتے ہوئے پلٹ پلٹ کے میں دیکھا کیا اسی جانب عجیب حال تھا اس شہر سے نکلتے ہوئے یہ مانتا ہوں کی مصروف ہیں بہت لیکن کبھی ادھر بھی نکل آئیے ٹہلتے ہوئے یہ لگ رہا ہے کہ آنے کو ہے وہ رشک چمن غزل سرا ہیں ہوائیں بھی آج چلتے ہوئے مثال ابر وہ کیا پھوٹ پھوٹ کر رویا ترا اسیر تری قید سے نکلتے ہوئے اب اعتبار کسی کا کریں تو کیسے کریں کہ ہم نے دیکھے ہیں چہرے کئی بدلتے ہوئے اثر دعاؤں میں ہوتا ہے کس قدر معروف بلائیں دیکھی ہیں ہم نے سروں سے ٹلتے ہوئے
khumaar mein kabhi girte kabhi sanbhalte hue
کسی تحریر میں تم کیوں نہیں ہو مری تقدیر میں تم کیوں نہیں ہو مرے ہر خواب میں جب تم ہی تم ہو تو پھر تعبیر میں تم کیوں نہیں ہو سنا محفل میں تھے کل رات تم بھی کسی تصویر میں تم کیوں نہیں ہو یہاں سچ بولنا دیوانگی ہے ارے زنجیر میں تم کیوں نہیں ہو نیا صحرا بنایا جا رہا ہے جنوں تعمیر میں تم کیوں نہیں ہو لگے ہیں آج کچھ الزام ہم پر تو پھر تشہیر میں تم کیوں نہیں ہو
kisi tahrir mein tum kyon nahin ho





