"aa hi kuuda tha dair men vaa.iz ham ne Taala khuda khuda kar ke"

Meer Mehdi Majrooh
Meer Mehdi Majrooh
Meer Mehdi Majrooh
Sherشعر
See all 37 →aa hi kuuda tha dair men vaa.iz
آ ہی کودا تھا دیر میں واعظ ہم نے ٹالا خدا خدا کر کے
chura ke muTThi men dil ko chhupa.e baiThe hain
چرا کے مٹھی میں دل کو چھپائے بیٹھے ہیں بہانا یہ ہے کہ مہندی لگائے بیٹھے ہیں
kuchh arz-e-tamanna men shikva na sitam ka tha
کچھ عرض تمنا میں شکوہ نہ ستم کا تھا میں نے تو کہا کیا تھا اور آپ نے کیا جانا
jaan insan ki lene valon men
جان انساں کی لینے والوں میں ایک ہے موت دوسرا ہے عشق
kya hamari namaz kya roza
کیا ہماری نماز کیا روزہ بخش دینے کے سو بہانے ہیں
na.e fitne jo uThte hain jahan men
نئے فتنے جو اٹھتے ہیں جہاں میں صلاحیں سب یہ لیتے ہیں تمہیں سے
Popular Sher & Shayari
74 total"chura ke muTThi men dil ko chhupa.e baiThe hain bahana ye hai ki mehndi laga.e baiThe hain"
"kuchh arz-e-tamanna men shikva na sitam ka tha main ne to kaha kya tha aur aap ne kya jaana"
"jaan insan ki lene valon men ek hai maut dusra hai ishq"
"kya hamari namaz kya roza bakhsh dene ke sau bahane hain"
"na.e fitne jo uThte hain jahan men salahen sab ye lete hain tumhin se"
ab raqib-e-bul-havas hain ishq-baaz
dil lagaane se bhi nafrat ho gai
us ke dar par to kisi ki bhi rasaai na hui
le ke sayyaad qafas ko jo idhar se guzraa
churaa ke muTThi mein dil ko chhupaae baiThe hain
bahaanaa ye hai ki mehndi lagaae baiThe hain
kuchh arz-e-tamannaa mein shikva na sitam kaa thaa
main ne to kahaa kyaa thaa aur aap ne kyaa jaanaa
jaan insaan ki lene vaalon mein
ek hai maut dusraa hai ishq
aa hi kuudaa thaa dair mein vaaiz
ham ne Taalaa khudaa khudaa kar ke
Ghazalغزل
na vo naalon ki shorish hai na ghul hai aah-o-zaari kaa
نہ وہ نالوں کی شورش ہے نہ غل ہے آہ و زاری کا وہ اب پہلا سا ہنگامہ نہیں ہے بے قراری کا طلب کیسی بلانا کیا وہاں خود جا پہنچتے ہیں اگر عالم یہی چندے رہا بے اختیاری کا وہاں وہ ناز و عشوے سے قدم گن گن کے رکھتے ہیں یہاں اس منتظر کا وقت پہنچا دم شماری کا کبھی چشم خمار آلود کی مستی نہیں دیکھی بجا ہے حضرت ناصح کو دعویٰ ہوشیاری کا بھلا کیا ایسی روتی شکل پاس آ کر کوئی بیٹھے اٹھے آخر وہ جھنجھلا کر برا ہو اشک باری کا عجب کیا ہے کہ قاصد بھول جائے اس کا لے جانا لکھوں جس نامے میں شکوہ تری غفلت شعاری کا مثال نخل دیکھا ہے اسی کو پھولتے پھلتے کیا جس شخص نے حاصل طریقہ خاکساری کا ہر اک شے کا ہے اندازہ مگر پایاں نہیں ہرگز تری غفلت شعاری کا مری امیدواری کا ز بس آنکھوں میں رنگت چھا رہی ہے لالہ و گل کی خزاں میں لطف آتا ہے ہمیں فصل بہاری کا کبھی سر پاؤں پر رکھنا کبھی قربان کہہ اٹھنا ہمیں تھوڑا سا ڈھب آتا تو ہے مطلب براری کا چھپا کل گوشۂ مے خانہ میں مجروحؔ نے دیکھا یونہی شہرہ سنا تھا شیخ کی پرہیزگاری کا
vo kahaan jalva-e-jaan-bakhsh butaan-e-dehli
وہ کہاں جلوۂ جاں بخش بتان دہلی کیوں کہ جنت پہ کیا جائے گمان دہلی ان کا بے وجہ نہیں ٹوٹ کے ہونا برباد ڈھونڈے ہے اپنے مکینوں کو مکان دہلی جس کے جھونکے سے صبا طبلۂ عطار بنے ہے وہ باد سحر عطر فشان دہلی مہر زر خاک کو کرتا ہے یہ سچ ہے لیکن اس سے کچھ بڑھ کے ہیں صاحب نظران دہلی آئنہ ساز سکندر ہے تو جم جام فروش وسعت آباد ہے کس درجہ جہان دہلی کر کے برباد اسے کس کو بسائے گا فلک کیا کوئی اور بھی ہے شہر بسان دہلی اس لیے خلد میں جانے کا ہر اک طالب ہے کہ کچھ اک دور سے پڑتا ہے گمان دہلی وہ ستم دیکھ چکے تھے کہ رہے آسودہ فتنہ و حشر میں آفت زدگان دہلی سمجھے ہیں سوئے ادب جنت ثانی کہنا وہ کچھ اشخاص جو ہیں مرتبہ دان دہلی سیلیٔ پنجۂ جلاد ستم سے ہے ہے نذر بیداد ہوئے منتخبان دہلی یا خدا حضرت غالبؔ کو سلامت رکھنا اب اسی نام سے باقی ہے نشان دہلی کربت غربت و تنہائی و شب ہائے دراز اور مجروحؔ دل افگار بیان دہلی
sar ko tan se mire judaa kiije
سر کو تن سے مرے جدا کیجے یہ بھی جھگڑا ہے فیصلہ کیجے مجھ پہ تہمت صنم پرستی کی شیخ صاحب خدا خدا کیجے لعل کو اس کے لب سے کیا نسبت یہ بھی اک بات ہے سنا کیجے لو وہ آتے ہیں جلد حضرت دل فکر صبر گریز پا کیجے ہم غنیمت اسی کو سمجھیں گے لو وفا وعدۂ جفا کیجے اپنا کینہ بنوں کہ یاد رقیب کس طرح اس کے دل میں جا کیجے یاں تو مطلب ہی کچھ نہیں رکھتے جو کسی سے کہیں روا کیجے مدعی گھات ہی میں رہتے ہیں کیوں کہ واں عرض مدعا کیجے دکھ جو مجروحؔ نے سہے غم سے اس کا کیا شرح ماجرا کیجے مر گیا وہ پہ یاد آتا ہے اس کا کہنا کہ آہ کیا کیجے سخت مشکل ہے یار کا کھلنا یہ گرہ کس طرح سے وا کیجے صبر کے فائدے بہت ہیں ولے دل ہی بس میں نہ ہو تو کیا کیجے غیر کی پاسباں کی درباں کی کس کی جا جا کے التجا کیجے اس کی وہ آنکھ اب نہیں مجروحؔ جلد کچھ اپنا سوجھتا کیجے
harf tum apni nazaakat pe na laanaa hargiz
حرف تم اپنی نزاکت پہ نہ لانا ہرگز ہاتھ بیداد و ستم سے نہ اٹھانا ہرگز تم بھی چوری کو یقیں ہے نہ کہو گے اچھا اب ہمیں دیکھ کے آنکھیں نہ چرانا ہرگز عشق ہے ایک مگر آفت نو ہے ہر دم یہ وہ مضموں ہے کہ ہوگا نہ پرانا ہرگز یہی انداز تو ہیں دل کے اڑا لینے کے ان کی تم نیچی نگاہوں پہ نہ جانا ہرگز سبب قتل محبت ہے اگر اے ظالم تو مرا جرم کسی کو نہ بتانا ہرگز دل خوں گشتہ کا ہو راز نہ افشا اے چشم اشک گل رنگ کا ٹپکا نہ لگانا ہرگز ہوں تنک ظرف نہ جھیلوں گا شراب پر زور پردہ یکبار نہ چہرے سے اٹھانا ہرگز ہم سے بیمار بھی جاں بر کہیں ہوتے ہیں مسیح تم یہاں آ کے نہ تکلیف اٹھانا ہرگز جنس نایاب کے ہوتے ہیں ہزاروں گاہک تم پتا اپنا کسی کو نہ بتانا ہرگز میں تو کیا اس سے تو موسیٰ بھی نہ سر بر آئے امتحاناً ہمیں جلوہ نہ دکھانا ہرگز جو چلا تیر ستم دل سے وہ گزرا اے چرخ تیرا خالی نہ گیا کوئی نشانا ہرگز ذکر بربادی دہلی کا سنا کر ہمدم نیشتر زخم کہن پر نہ لگانا ہرگز آب رفتہ نہیں پھر بحر میں پھر کر آتا دہلی آباد ہو یہ دھیان نہ لانا ہرگز وہ تو باقی ہی نہیں جن سے کہ دہلی تھی مراد دھوکا اب نام پہ دہلی کے نہ کھانا ہرگز گیتی افروز اگر حضرت نیر رہتے اتنا تاریک تو ہوتا نہ زمانا ہرگز اب تو یہ شہر ہے اک قالب بے جاں ہمدم کچھ یہاں رہنے کی خوشیاں نہ منانا ہرگز در مے خانہ ہوا بند صدا یہ ہے بلند یاں حریفان قدح خوار نہ آنا ہرگز اللہ اللہ وہ نواب علائی کے کلام جن سے رنگیں نہیں بلبل کا ترانا ہرگز تو تو ہے انورؔ و میکشؔ کی جدائی کا نشاں دل پر درد سے اے داغ نہ جانا ہرگز صوت بلبل طرف انگیز سہی پر ہمدم درد فرسودہ دلوں کو نہ سنانا ہرگز میں ہوں اک مجمع احباب کا بچھڑا گلچیں مجھ کو گلدستۂ رنگیں نہ دکھانا ہرگز جمع ہے مجمع احباب فضا میں تیری اے تصور یہ مرقع نہ مٹانا ہرگز دل میں ہیں حسرت و اندوہ کے انبار لگے اتنا یکجا نہ کہیں ہوگا خزانا ہرگز ساقیٔ بزم تری طرز تغافل کے نثار درد مے کا بھی ادھر جام نہ لانا ہرگز قہر لائیں گے یہ طالع جو ذرا بھی چیتے اے فلک خواب سے ان کو نہ جگانا ہرگز محفل عیش سے گر حظ ہو اٹھانا اے دوست ہم سے آزردہ دلوں کو نہ بلانا ہرگز دار فانی میں نہ کر فکر قیام اے ناداں گزر سیل ہے یاں گھر نہ بنانا ہرگز جن کے ایوان تھے ہم پلۂ قصر قیصر ان کی ملتا نہیں قبروں کا ٹھکانا ہرگز وہ گئے دن جو چمن زار میں دل لگتا تھا سچ ہے یکساں نہیں رہتا ہے زمانا ہرگز ہم صفیران چمن سب ہوئے گرم پرواز اب خوش آتا نہیں گلزار میں جانا ہرگز زغن و زاغ کی گلشن میں صدا ہے ہر سو مرغ خوش نغمہ نہ آواز سنانا ہرگز قصر حالی کے حوالی میں ذرا تم مجروحؔ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہ بنانا ہرگز
mere dil mein to har zamaan ho tum
میرے دل میں تو ہر زماں ہو تم چشم ظاہر سے کیوں نہاں ہو تم بے وفائیں کا عیب کیسا ہے یہ تو سچ ہے کہ میری جاں ہو تم جب چلو ٹیٹر ہی کی چلتے ہو میرے حق میں تو آسماں ہو تم دل و دیں دونوں نذر کرتا ہوں ایسی چیزوں کے قدرداں ہو تم دیکھ غمگیں مجھے بگڑتے ہو پر لے درجے کے بد گماں ہو تم عرش پیمائی خیال عبث کون پہنچا وہاں جہاں ہو تم بات میں دل کو کھینچ لیتے ہو کس قیامت کے خوش بیاں ہو تم ہے سوال اور اور جواب ہے اور سچ کہو اس گھڑی کہاں ہو تم بچئے اغیار کی نظر نہ لگے چشم بد دور نوجواں ہو تم دشمنی ہم کریں تو کس کس سے ایک عالم پہ مہرباں ہو تم زلف کے بار سے کمر لچکے کس قدر نازک اے میاں ہو تم دیکھنے کی مجال ہے کس کو مثل خورشید گو عیاں ہو تم ہے وہی ٹھیک جو کہو مجروحؔ کیوں نہ ہو صاحب زباں ہو تم
asar aah kaa gar dikhaaeinge ham
اثر آہ کا گر دکھائیں گے ہم ابھی کھینچ کر تم کو لائیں گے ہم ذرا رہ تو اے دشت آوارگی ترا خوب خاکہ اڑائیں گے ہم فسانہ تری زلف شب رنگ کا بڑھے گا جہاں تک بڑھائیں گے ہم وہی درد فرقت وہی انتظار بھلا مر کے کیا چین پائیں گے ہم وہ گمراہ غیروں کے ہم راہ ہے اسے راہ پر کیوں کہ لائیں گے ہم قفس سے ہوا اذن پرواز کب یہ خواہش ہی دل سے اڑائیں گے ہم طلسم محبت ہے عاشق کا حال انہیں بھی یہ قصہ سنائیں گے ہم وہ نخوت سے ہیں آسماں سے پرے کہاں سے انہیں ڈھونڈھ لائیں گے ہم نہ کر آہ یہ شورش افزائیاں تجھے بھی کبھی آزمائیں گے ہم نہ ٹوٹے گا سر رشتۂ اختلاط وہ کھینچیں گے جتنا بڑھائیں گے ہم یہ مانا کہ ہو رشک حور و پری مگر آدمیت سکھائیں گے ہم حذر تیر مژگاں کی بوچھاڑ سے یہ اک دل کہاں تک بچائیں گے ہم ہمیں زہر و خنجر کی کیوں ہے تلاش شب غم میں کیا مر نہ جائیں گے ہم نہ نکلا کوئی ڈھب تو بن کر غبار نظر میں تمہاری سمائیں گے ہم کہاں گھر میں مفلس کے فرش و فروش وہ آئے تو آنکھیں بچھائیں گے ہم ترے قد سے کی سرو نے ہم سری اسے آج سیدھا بنائیں گے ہم نہیں غسل میت کی جا قتل گاہ مگر خاک و خوں میں نہائیں گے ہم رہ عشق سے نابلد ہے ابھی خضر کو یہ رستہ بتائیں گے ہم ہوا وصل بھی تو مزا کون سا وہ روٹھیں گے ہر دم منائیں گے ہم شب و روز دل کو کریدیں نہ کیوں یہیں سے پتا اس کا پائیں گے ہم عبث ہے یہ مجروحؔ طول امل بکھیڑے یہ سب چھوڑ جائیں گے ہم





