dil mein miri vahshat ne par jitne nikaale the
main ne unhein bal de kar zanjir banaai hai

Mehr Zarreen
Mehr Zarreen
Mehr Zarreen
Popular Shayari
7 totalaap jo chashm-tar ho gae
saare gham mo'atabar ho gae
ye arsh se aanaa to aaghaaz-e-mohabbat thaa
ab farsh pe aae hain anjaam se kheleinge
maqaam-e-aadmi kuchh kam nahin hai
farishton se to kam aadam nahin hai
basti mein bhi kuchh aise andhere hain jahaan par
jhulse hue jismon kaa shabistaan hain saDkein
raushan hai darakhshaan hai har ashk gharibon kaa
bas in ki badaulat hi har ghar mein divaali hai
fanaa ke hosh fanaa hain hamaari vahshat se
vo honge aur ki jin par fanaa kaa zor chale
Ghazalغزل
پستی سے بلندی پر کھینچا ہے ستاروں نے صدیوں کے تجسس نے قرنوں کے اشاروں نے غرقابیٔ آدم کی تاریخ مرتب کی ویران جزیروں نے سنسان کناروں نے تاریخ کے چہرے پر جو زخم نظر آئے کچھ اور کیا گہرا ان وقت کے دھاروں نے ہر دور میں کیں پیدا آزادی کی تمثیلیں زنجیر کے حلقوں نے زنداں کی دراروں نے کیں عزم توانا کی دل کھول کے تعریفیں پتھر کی فصیلوں نے فولاد کے آروں نے شب خون و سیہ کاری بد چلنی و عیاری سورج نے نہیں دیکھی دیکھی ہے ستاروں نے اک کیف سا طاری ہے کھلتی ہی نہیں آنکھیں کچھ ایسی پلا دی ہے نوخیز بہاروں نے کیا مل کے پئیں اور کیا سر جوڑ کے ہم بیٹھیں نقشہ ہی بدل ڈالا ساقی کے اشاروں نے ان زخموں سے رستا ہے اے مہرؔ لہو اب تک کھائے تھے کبھی پتھر جو بخت کے ماروں نے
pasti se bulandi par khinchaa hai sitaaron ne
3 views
مقام آدمی کچھ کم نہیں ہے فرشتوں سے تو کم آدم نہیں ہے ابھی دل جل رہا ہے آ بھی جاؤ اجالا چاند سے مدھم نہیں ہے ہماری ذات پر انگلی اٹھائے زمانے میں ابھی وہ دم نہیں ہے اڑاتا ہے ہوا میں کیوں دوانے یہ دامن ہے کوئی پرچم نہیں ہے تری مرضی ہے ساقی جس قدر دے ہمیں تو فکر بیش و کم نہیں ہے بتوں کی بندگی میں کون جانے کہاں ہے خم کہاں سر خم نہیں ہے انہیں گر ناز ہے اپنی پہنچ پر تو میری بھی رسائی کم نہیں ہے کوئی کیوں غم گسار مہرؔ ہوگا زمانہ مونس و ہمدم نہیں ہے
maqaam-e-aadmi kuchh kam nahin hai
2 views
کچھ اس طرح خاموش ہیں سنسان ہیں سڑکیں جیسے کسی ویرانے کی مہمان ہیں سڑکیں اس رمز کو رہ گیر سمجھتے ہیں بخوبی سب جان کے پہچان کے انجان ہیں سڑکیں بستی میں بھی کچھ ایسے اندھیرے ہیں جہاں پر جھلسے ہوئے جسموں کا شبستان ہیں سڑکیں آرام جنہیں گھر میں میسر نہیں آتا ہر حال میں ان کے لئے وردان ہیں سڑکیں محلوں کی یہی سڑکیں بڑھاتی ہیں سدا شان پھر کس لئے محلوں سے پشیمان ہیں سڑکیں جو دیکھتے ہیں دن میں حقارت کی نظر سے مہرؔ ان کے لئے شب میں پرستان ہیں سڑکیں
kuchh is tarah khaamosh hain sunsaan hain saDkein
2 views
کچھ عشق بتاں کچھ فکر جہاں دل یاس کا مارا کیا کہیے کشتی کو تلاطم کا خطرہ اور دور کنارہ کیا کہیے اپنوں کے ہمیشہ جور و ستم غیروں کا سہارا کیا کہیے کس طور کیا ہے دنیا میں دو روز گزارا کیا کہیے بھٹکا ہوا آنسو پلکوں کی چلمن میں لرزتا ہے ایسے جیسے کہ گھٹا کے آنچل میں الجھا ہوا تارا کیا کہیے خود بیٹھے بٹھائے روتا ہے خود بیٹھے بٹھائے ہنستا ہے دل آس کا مارا کیا کہیے دل یاس کا مارا کیا کہیے سجدوں میں محبت کے زریںؔ جب جوش عبادت ہوتا ہے تب جا کے کسی کو طوفاں میں ملتا ہے کنارا کیا کہیے
kuchh ishq-e-butaan kuchh fikr-e-jahaan dil yaas kaa maaraa kyaa kahiye
2 views
فکر کیجے تو زمین و آسماں کی کیجئے بات اپنی ہی نہیں سارے جہاں کی کیجئے تذکرہ صحرا نشینوں کا بھی رکھیے سامنے بات جب بھی ساکنان گلستاں کی کیجئے زندگی کو زندگی کی شکل دینی ہو تو پھر بات ہمدم امتحاں در امتحاں کی کیجئے دل میں گھر کرنا ہے دنیا کے تو سب سے پیشتر کچھ درستی اپنے اخلاق و زباں کی کیجئے کچھ تو اس کی جانفشانی کا اسے دیجئے صلہ یاد گاہے گاہے نظم باغباں کی کیجئے جس زباں نے آپ کو بخشا ہے انداز کلام پرورش اپنے لہو سے اس زباں کی کیجئے
fikr kiije to zamin-o-aasmaan ki kijiye
2 views
حالات سنورنے میں ذرا دیر لگے گی اس زخم کے بھرنے میں ذرا دیر لگے گی ٹھنڈا نہیں ہو پایا مرا خون ابھی تک مجھ کو ابھی مرنے میں ذرا دیر لگے گی ٹھہرو ابھی کچھ دیر مری آنکھوں کے آگے اوسان بکھرنے میں ذرا دیر لگے گی ابھرے گا بہ ہر طور ہر اک ڈوبنے والا مانا کہ ابھرنے میں ذرا دیر لگے گی جو عظمت انساں کو ستاروں سے ملا دے اس کام کے کرنے میں ذرا دیر لگے گی
haalaat sanvarne mein zaraa der lagegi
1 views





