SHAWORDS
Meraj Faizabadi

Meraj Faizabadi

Meraj Faizabadi

Meraj Faizabadi

poet
9Sher
9Shayari
13Ghazal

Sherشعر

See all 9

Popular Sher & Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

ek TuuTi hui zanjir ki fariyaad hain ham

ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم کیوں ہمیں لوگ سمجھتے ہیں یہاں پردیسی ایک مدت سے اسی شہر میں آباد ہیں ہم کاہے کا ترک وطن کاہے کی ہجرت بابا اسی دھرتی کی اسی دیش کی اولاد ہیں ہم ہم بھی تعمیر وطن میں ہیں برابر کے شریک در و دیوار اگر تم ہو تو بنیاد ہیں ہم ہم کو اس دور ترقی نے دیا کیا معراجؔ کل بھی برباد تھے اور آج بھی برباد ہیں ہم

غزل · Ghazal

zindagi di hai to jiine kaa hunar bhi denaa

زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا پاؤں بخشیں ہیں تو توفیق سفر بھی دینا گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ میں گونگا تھا اب میں بولوں گا تو باتوں میں اثر بھی دینا میں تو اس خانہ بدوشی میں بھی خوش ہوں لیکن اگلی نسلیں تو نہ بھٹکیں انہیں گھر بھی دینا ظلم اور صبر کا یہ کھیل مکمل ہو جائے اس کو خنجر جو دیا ہے مجھے سر بھی دینا

غزل · Ghazal

bhiiD mein koi shanaasaa bhi nahin chhoDti hai

بھیڑ میں کوئی شناسا بھی نہیں چھوڑتی ہے زندگی مجھ کو اکیلا بھی نہیں چھوڑتی ہے عافیت کا کوئی گوشہ بھی نہیں چھوڑتی ہے اور دنیا مرا رستہ بھی نہیں چھوڑتی ہے مجھ کو رسوا بھی بہت کرتی ہے شہرت کی ہوس اور شہرت مرا پیچھا بھی نہیں چھوڑتی ہے ہم کو دو گھونٹ کی خیرات ہی دے دو ورنہ پیاس پاگل ہو تو دریا بھی نہیں چھوڑتی ہے آبرو کے لیے روتی ہے بہت پچھلے پہر ایک عورت کہ جو پیشہ بھی نہیں چھوڑتی ہے ڈوبنے والے کے ہاتھوں میں یہ پاگل دنیا ایک ٹوٹا ہوا تنکا بھی نہیں چھوڑتی ہے اب کے جب گاؤں سے لوٹے تو یہ احساس ہوا دشمنی خون کا رشتہ بھی نہیں چھوڑتی ہے کیا مکمل ہے جدائی کہ بچھڑ جانے کے بعد تجھ سے ملنے کا بہانا بھی نہیں چھوڑتی ہے جانتے سب تھے کہ نفرت کی یہ کالی آندھی دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہیں چھوڑتی ہے

غزل · Ghazal

thaki hui maamtaa ki qimat lagaa rahe hain

تھکی ہوئی مامتا کی قیمت لگا رہے ہیں امیر بیٹے دعا کی قیمت لگا رہے ہیں میں جن کو انگلی پکڑ کے چلنا سکھا چکا ہوں وہ آج میرے عصا کی قیمت لگا رہے ہیں مری ضرورت نے فن کو نیلام کر دیا ہے تو لوگ میری انا کی قیمت لگا رہے ہیں میں آندھیوں سے مصالحت کیسے کر سکوں گا چراغ میرے ہوا کی قیمت لگا رہے ہیں یہاں پہ معراجؔ تیرے لفظوں کی آبرو کیا یہ لوگ بانگ درا کی قیمت لگا رہے ہیں

غزل · Ghazal

ai dasht-e-aarzu mujhe manzil ki aas de

اے دشت آرزو مجھے منزل کی آس دے میری تھکن کو گرد سفر کا لباس دے پروردگار تو نے سمندر تو دے دیے اب میرے خشک ہونٹوں کو صحرا کی پیاس دے فرصت کہاں کہ ذہن مسائل سے لڑ سکیں اس نسل کو کتاب نہ دے اقتباس دے آنسو نہ پی سکیں گے یہ تنہائیوں کا زہر بخشا ہے غم مجھے تو کوئی غم شناس دے لفظوں میں جذب ہو گیا سب زندگی کا زہر لہجہ بچا ہے اس کو غزل کی مٹھاس دے

غزل · Ghazal

bhigti aankhon ke manzar nahin dekhe jaate

بھیگتی آنکھوں کے منظر نہیں دیکھے جاتے ہم سے اب اتنے سمندر نہیں دیکھے جاتے اس سے ملنا ہے تو پھر سادہ مزاجی سے ملو آئینے بھیس بدل کر نہیں دیکھے جاتے وضع داری تو بزرگوں کی امانت ہے مگر اب یہ بکتے ہوئے زیور نہیں دیکھے جاتے زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

Similar Poets