SHAWORDS
Meraj Naqvi

Meraj Naqvi

Meraj Naqvi

Meraj Naqvi

poet
28Shayari
17Ghazal

Popular Shayari

28 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

پہلے تو مجبوری پیدا ہوتی ہے پھر رشتوں میں دوری پیدا ہوتی ہے غم سے اکثر دل مردہ ہو جاتے ہیں چہرے پہ بے نوری پیدا ہوتی ہے وحشت سے انساں میں شدت بڑھتی ہے آہو میں کستوری پیدا ہوتی ہے میری کاوش اس کو پورا کرتی ہے ورنہ غزل ادھوری پیدا ہوتی ہے عقل کی ہر دم سننے سے معراجؔ میاں جذبوں میں معذوری پیدا ہوتی ہے

pahle to majburi paidaa hoti hai

غزل · Ghazal

اشکوں کا انبار چھپا ہے آنکھوں میں یار بہت آزار چھپا ہے آنکھوں میں پھول ستارے جگنو تتلی اور دھنک یعنی اک سنسار چھپا ہے آنکھوں میں جھانک کے تو خود اک دن ان میں دیکھ ذرا کتنا تیرا پیار چھپا ہے آنکھوں میں میری آنکھیں سب سے زیادہ ہیں انمول کیوں کہ میرا یار چھپا ہے آنکھوں میں ایک زلیخا اس میں یوسف ڈھونڈھتی ہے مصر کا جو بازار چھپا ہے آنکھوں میں اکثر آتا رہتا ہے سیلاب یہاں تو آ کے بے کار چھپا ہے آنکھوں میں ہم دونوں نے مل کے جس کے خواب بنے یار وہی گھر بار چھپا ہے آنکھوں میں

ashkon kaa ambaar chhupaa hai aankhon mein

غزل · Ghazal

نہیں مثال کوئی ایسا بے مثال بدن ہے خود جواب وہ اپنا ہے خود سوال بدن محاذ جنگ وفا پہ شکست عشق کے بعد پڑا ہے دشت میں اب تک وہ پائمال بدن طلسم کن فیکن کس نے پڑھ کے پھونک دیا ذرا سی خاک ہوئی کیسا با کمال بدن ترے بدن کی مسافت کو طے کیا تو مگر پڑا ہوا ہے ابھی تک مرا نڈھال بدن شعور و فکر پہ غالب ہے جسم کا موسم ہر ایک خواب بدن ہے ہر اک خیال بدن

nahin misaal koi aisaa be-misaal badan

غزل · Ghazal

اپنی مسرتوں کے نئے باب ڈھونڈنے آنکھیں نکل پڑی ہیں نئے خواب ڈھونڈنے وہ دیکھو آسمان میں بادل کی کشتیاں جاتی ہیں کوئی پیکر مہتاب ڈھونڈنے ماضی کی سمت جاتے ہیں ہم اپنے حال سے راہوں میں کھو گیا ہے جو اسباب ڈھونڈنے حیرت ہے ان دنوں تو تمہارے خیال بھی آتے ہیں میری آنکھوں میں سیلاب ڈھونڈنے

apni masarraton ke nae baab DhunDne

غزل · Ghazal

تاریکیوں میں جل کے وہ قندیل کی طرح صحرا بدن سے گزری ہے اک جھیل کی طرح کل رات میرے جسم نے محسوس کی تھکن دو گام کے سفر میں کئی میل کی طرح بے تال کا علاقہ ہے چلنا سنبھال کر الٹے لٹک نہ جاؤ ابابیل کی طرح کل رات مجھ پہ حملہ کیا ایک خواب نے مردہ بدن پہ بھوکی کسی چیل کی طرح میں تھا نشے میں رات کوئی رو بہ رو تو تھا لگتا تھا خد و خال سے جبریل کی طرح

taarikiyon mein jal ke vo qindil ki tarah

غزل · Ghazal

کس قیامت کا اداکار چھپا ہے مجھ میں میرا ہی حاشیہ بردار چھپا ہے مجھ میں میری تائید کے اسباب بنانے والو خود مری ذات کا انکار چھپا ہے مجھ میں بس ترے غم کو سمجھتا ہے عبادت اپنی وہ جو اک تیرا عزادار چھپا ہے مجھ میں بے نیازی مری دنیا سے بتاتی ہے مجھے ہو نہ ہو کوئی سمجھ دار چھپا ہے مجھ میں آ زلیخا مری آنکھوں سے مرے دل میں اتر دیکھ اک مصر کا بازار چھپا ہے مجھ میں میری فطرت ہے زمانے سے محبت کرنا لوگ کہتے ہیں کہ مکار چھپا ہے مجھ میں جس نے آدم کو نکلوایا تھا جنت سے کبھی بس وہی ایک گنہ گار چھپا ہے مجھ میں تجھ سے جھگڑوں تو مقابل مرے آ جاتا ہے ایسا اک تیرا طرف دار چھپا ہے مجھ میں یہ الگ بات کہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کبھی ویسے اک شخص مزے دار چھپا ہے مجھ میں میرے باطن میں جو ہر سمت ہے خوشبو معراج یہ سبب ہے کہ مرا یار چھپا ہے مجھ میں

kis qayaamat kaa adaakaar chhupaa hai mujh mein

Similar Poets