SHAWORDS
Mirza Raza Barq

Mirza Raza Barq

Mirza Raza Barq

Mirza Raza Barq

poet
21Sher
21Shayari
21Ghazal

Sherشعر

See all 21

Popular Sher & Shayari

42 total

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

asar zulf kaa barmalaa ho gayaa

اثر زلف کا برملا ہو گیا بلاؤں سے مل کر بلا ہو گیا جنوں لے کے ہم راہ آئی بہار نئے سر سے پھر ولولا ہو گیا دیا غیر نے بھی دل آخر اسے مجھے دیکھ کر من چلا ہو گیا سمائی دل تنگ کی دیکھیے کہ عالم میں ثابت خلا ہو گیا تعلی زمیں سے جو نالوں نے کی فلک پر عیاں زلزلہ ہو گیا ہوا قتل بے جرم میں جا کے برقؔ وہ کوچہ مجھے کربلا ہو گیا

غزل · Ghazal

zer-e-zamin huun tishna-e-didaar-e-yaar kaa

زیر زمیں ہوں تشنۂ دیدار یار کا عالم وہی ہے آج تلک انتظار کا گزرا شراب پینے سے لے کون درد سر ساقی دماغ کس کو ہے رنج خمار کا محشر کے روز بھی نہ کھلے گی ہماری آنکھ صدمہ اٹھا چکے ہیں شب انتظار کا عبرت کی جا ہے عالم دنیا نہ کر غرور سر کاسۂ گدا ہے کسی تاجدار کا بعد فنا بھی ہے مرض عشق کا اثر دیکھو کہ رنگ زرد ہے میرے غبار کا الفت نہ کچھ پری سے نہ کچھ حور سے ہے عشق مشتاق برقؔ روز ازل سے ہے یار کا

غزل · Ghazal

be-bulaae hue jaanaa mujhe manzur nahin

بے بلائے ہوئے جانا مجھے منظور نہیں ان کا وہ طور نہیں میرا یہ دستور نہیں لن ترانی کے یہ معنی ہیں بجا ہے دعویٰ دیکھے بے پردہ تجھے کوئی یہ مقدور نہیں وہ کہاں تاج کہاں تخت کہاں مال و منال قابل اب بھیک کے بھی کاسۂ فغفور نہیں بے عبادت نہ خدا بخشے گا سبحان اللہ ایسی فردوس سے ہم گزرے کہ مزدور نہیں میں وہ مے کش ہوں نہ رکھوں کبھی بھولے سے قدم کوئی کہہ دے یہ اگر خلد میں انگور نہیں دم بہ دم اٹھتے ہیں طوفان جو برقؔ اشکوں کے نوح کا وقت نہیں آنکھ ہے تنور نہیں

غزل · Ghazal

na rahe naama o paighaam ke laane vaale

نہ رہے نامہ و پیغام کے لانے والے خاک کے نیچے گئے عرش کے جانے والے کشور عشق کی رسمیں عجب الٹی دیکھیں سلطنت کرتے ہیں سب دل کے چرانے والے منعمو عالم دنیا ہے سرائے عبرت جائیں گے سوئے عدم خلق میں آنے والے بوریا ساتھ نہ جائے گا نہ تخت سلطاں سب برابر ہیں بشر خلق سے جانے والے کوئی باقی نہ رہا ہے نہ رہے گا کوئی بے نشاں ہو گئے سب شان دکھانے والے نہ سکندر ہے نہ دارا ہے نہ قیصر ہے نہ جم بے محل خاک میں ہیں قصر بنانے والے اپنے اشعار کا اے برقؔ نہ کیوں شہرہ ہو ساتھ ہیں طائر مضموں کے اڑانے والے

غزل · Ghazal

chaand saa chehra jo us kaa aashkaaraa ho gayaa

چاند سا چہرہ جو اس کا آشکارا ہو گیا تن پہ ہر قطرہ پسینہ کا شرارا ہو گیا چھپ سکا دم بھر نہ راز دل فراق یار میں وہ نہاں جس دم ہوا سب آشکارا ہو گیا جس کو دیکھا چشم وحدت سے وہی معشوق ہے پڑ گئی جس پر نظر اس کا نظارا ہو گیا ہم کناری کی ہوس اے گوہر یکتا یہ ہے آب ہو کر غم سے دل دریا ہمارا ہو گیا خلق میں گرد یتیمی سے گہر کی قدر ہے خاکساری سے فزوں رتبہ ہمارا ہو گیا دل میں ہے اے برقؔ اس بت کے در دنداں کی یاد یہ گہر عرش بریں کا گوشوارہ ہو گیا

غزل · Ghazal

matlab na kaabe se na iraada kanisht kaa

مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کا پابند یہ فقیر نہیں سنگ و خشت کا سر سبز ہوں جو آپ دکھا دیجے خط سبز کشتوں کو کھیت میں ابھی عالم ہو کشت کا اس حور کی جو گلشن عارض کی یاد تھی دیکھا کیا فراق میں عالم بہشت کا کیا منشی ازل کی یہ صنعت ہے دیکھنا ماہر نہیں کسی کی کوئی سر نوشت کا نادان اعتراض ہے صانع پہ غور کر بے جا ہے امتیاز یہاں خوب و زشت کا اے برقؔ سیر کرتے ہیں ہم تو جہان کی ہر کوچۂ صنم ہے نمونہ بہشت کا

Similar Poets