baad muddat gardish-e-tasbih se 'miskin' hamein
daana-e-tasbih mein zunnaar aataa hai nazar
Miskeen Shah
Miskeen Shah
Miskeen Shah
Popular Shayari
5 totalraah se dair-o-haram ki hai jo ku-e-yaar mein
hai vahi din-daar gar kuffaar aataa hai nazar
khafaa bhi ho ke jo dekhe to sar nisaar karun
agar na dekhe to phir bhi hai ik salaam se kaam
dair se kaaba gae kaaba se maabadgaah mein
khaak bhi paayaa nahin dair-o-haram ki raah mein
chhoD dein dair-o-haram kufr aur islaam ke log
kaaba-e-dil mein jo dekhein mire but-khaana-e-ishq
Ghazalغزل
ماہ رو یاں ہزار کو دیکھا ہم نے اب تک نہ یار کو دیکھا عمر بھر منتظر رہے اس کے راہ کے انتظار کو دیکھا وعدۂ حشر لوگ کہتے ہیں ہم نے وہ بھی قرار کو دیکھا کوئی آیا نظر نہ اس جا بھی جب دل غم گسار کو دیکھا رہ گئے نامراد دنیا میں کتنے سر افتخار کو دیکھا باغ ہستی میں سرخ رو نہ ہوئے گل کے ہر خار خار کو دیکھا گنج جس جا ہے اس جگہ مسکیںؔ بیٹھے رہتے ہیں مار کو دیکھا
maah-ru yaan hazaar ko dekhaa
1 views
کل ہم سے ملاقات میں وہ یار جو کی بحث میں بھی وہیں اک بات میں بیزار ہو کی بحث لڑتے نہ کسی طرح سے اس سے کبھی ہرگز پر کیا کروں اس وقت میں لاچار ہو کی بحث لایا تھا مرے دل کی گرفتاری کا سامان اس واسطے میں اس سے بہ تکرار ہو کی بحث سمجھا کے لگا کہنے کہ آ ہم سے تو مل جا میں تیرے لیے بر سر بازار ہو کی بحث مسکینؔ نہ جو تو ہم سے اگر دل سے ملے گا کیوں تو نے مرا مثل خریدار ہو کی بحث
kal ham se mulaaqaat mein vo yaar jo ki bahs
1 views
شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آج روح جوں مثل مگس مکڑوں کی جالی میں آج ہم نہیں ہرگز حباب بحر امکاں دہر میں صانع کونین شکل بے مثالی میں ہے آج کعبۂ دل عرش ہے ہر دم جہاں رہتا ہوں میں میری پہچانت یہ جسم لا یزالی میں ہے آج نام سن کر جو کوئی آیا ہے وہ پایا ہمیں اسم اعظم کی صفت اس اسم عالی میں ہے آج جنت الفردوس میں جا کر بھلا ہم کیا کریں کوئی بھی اس خانۂ ویران و خالی میں ہے آج حور و غلمان بہشتی یاں مرے ہمراہ ہیں ملک دل آباد اپنے حسب حالی میں ہے آج نیک و بد یکساں ہے واجب میں یہاں امکان میں چاہئے راحت تو مسکیںؔ خوش خصالی میں ہے آج
shama raushan jism-e-faanus-e-khayaali mein hai aaj
1 views
سنتے ہی دل ہو گیا اس یار کا اسرار مست ہوشیاری کیا کرے جب دل ہو سو سو بار مست شہرۂ آفاق اس مہ سے یہ ہے مستوں کا حال پھینکتے ہیں سر سے اپنے خاک پر دستار مست سر برہنہ بے سر و ساماں جو دل افگار ہیں بزم مستاں میں وہی مشہور ہیں سردار مست بے خودی دیوانگی میں اس طرح سرشار ہیں بھولتے ہیں آپ کو ہو کافر و دیں دار مست کب انہیں دیر و حرم یاد آئے ہے اے زاہدو کوئے جاناں میں ہزاروں ہو گئے ہشیار مست کیفیت دونوں جہاں کی ہے وہاں حاصل تمام جب نظر آویں کسی جا پر کہیں دو چار مست حال آ جائے ابھی سب ساکنان چرخ کو تو بھی ہو جاوے اے مسکیںؔ سن کے یہ اشعار مست
sunte hi dil ho gayaa us yaar kaa asraar mast
1 views
کسی کا ایک ہے دشمن تو دوست دار ہے ایک ہمارا ہجر عدو ایک وصل یار ہے ایک جہاں میں شادی و غم سے نہیں ہے دور کوئی خزاں عدو ہے مرا ایک اور بہار ہے ایک خوشی نصیب نہیں ہم کو تابہ حشر کوئی ہزار رنج ہیں ایک اور یہ دل فگار ہے ایک بسان مرگ و حیات اہل دل کو عالم میں ہمیشہ ایک ہے دل جس پہ غم سوار ہے ایک ملا ہے حسن خداداد جن کو عالم میں فدا جو ایک ہے ان پر تو جاں نثار ہے ایک رہ وفا میں یہ ہے حال عاشقوں کا مدام خراب ایک ہے شوریدہ سر تو خار ہے ایک ملوگے ہم سے جو مسکیںؔ دوئی کو دور کرو شمار ایک ہے گر دم ہے دو پہ تار ہے ایک
kisi kaa ek hai dushman to dost-daar hai ek
1 views
میرا شاہد وہ ہمیں عیار آتا ہے نظر ہم کو ہم پاتے نہیں جب یار آتا ہے نظر کثرت شوق محبت میں مجھے ہر طرح سے جس طرف دیکھوں رخ دل دار آتا ہے نظر جان کا دھوکا ہمیں ہوتا ہے راہ عشق میں مرگ کا ہر ایک دم آثار آتا ہے نظر داغ ہجراں کے سوا لایا نہ کوئے یار سے جو کوئی اس راہ کا بیمار آتا ہے نظر پا برہنہ سینہ بریاں ہے تن عریاں وہی جو کہ اس کا عاشق سرشار آتا ہے نظر راہ سے دیر و حرم کی ہے جو کوئے یار میں ہے وہی دیں دار گر کفار آتا ہے نظر بعد مدت گردش تسبیح سے مسکیںؔ ہمیں دانۂ تسبیح میں زنار آتا ہے نظر
meraa shaahid vo hamein ayyaar aataa hai nazar
1 views





