na jaaegaa mere dil se khayaal-e-abru-e-dil-bar
ki teghon hi ke saae mein to hai jannat musalmaan ki
Mohammad Abbas Safiir
Mohammad Abbas Safiir
Mohammad Abbas Safiir
Popular Shayari
2 totalkahaan ke dost kaise aqrabaa jab vaqt paDtaa hai
musibat mein kisi ki dosti se kuchh nahin hotaa
Ghazalغزل
آپ کو گردش ایام سے ڈر لگتا ہے اور ہمیں عشق کے انجام سے ڈر لگتا ہے چشم ساقی کے اشارے میں نہاں کیا شے تھی حسرت بادۂ گلفام سے ڈر لگتا ہے زیر لب ان کے تبسم سے سکون مانگ تو لوں اپنی ہی جرأت ناکام سے ڈر لگتا ہے نام جو آٹھ پہر ورد زباں رہتا تھا اب یہ وحشت ہے اسی نام سے ڈر لگتا ہے حضرت خضر سے تھی راہبری کی خواہش اب اسی خواہش ناکام سے ڈر لگتا ہے منزلیں عشق کی بے خوف و خطر طے کیں ہیں اب یہ عالم ہے کہ ہر گام سے ڈر لگتا ہے کیوں وظیفہ سحر و شام کیا ترک سفیرؔ کیوں خیال سحر و شام سے ڈر لگتا ہے
aap ko gardish-e-ayyaam se Dar lagtaa hai
ترے دیوانے اظہار محبت کر نہیں سکتے محبت کر کے توہین محبت کر نہیں سکتے تعلق خاص ہے دل کو خیال رنج و راحت سے کسی کو ہم شریک رنج و راحت کر نہیں سکتے جو شیدا ہیں محبت کے جو دیوانے ہیں الفت کے وہ اپنے دشمنوں سے بھی عداوت کر نہیں سکتے جواں ہیں جن کے پہلو میں خیال پاس خودداری ضرورت میں بھی اظہار ضرورت کر نہیں سکتے کیا ایمان تازہ قامت دل دار نے ایسا سفیرؔ اب ہم بھی انکار قیامت کر نہیں سکتے
tire divaane izhaar-e-mohabbat kar nahin sakte
الفت ہو تو الفت کے سہارے بھی بہت ہیں آنکھوں میں محبت کے اشارے بھی بہت ہیں ہمت ہے تو مایوس نہ ہو ڈوبنے والے طوفان ہیں موجوں کے سہارے بھی بہت ہیں اے جلوۂ رنگیں کے ضیا دیکھنے والو ہوں آنکھ اگر ان کے نظارے بھی بہت ہیں اپنوں نے تو معیار وفا ہی نہ بتایا اس راہ میں احسان تمہارے بھی بہت ہیں جی بھر کے ذرا دیکھ تو لوں دور سے گل رنگ ساقی مجھے اتنے ہی سہارے بھی بہت ہیں اس بزم کی رنگینیاں ہیں دید کے قابل اک چاند اگر ہے تو ستارے بھی بہت ہیں ہے کون سفیرؔ ایسا جو بن جائے سہارا دل توڑنے والے تو ہمارے بھی بہت ہیں
ulfat ho to ulfat ke sahaare bhi bahut hain
نہ ہو مرضی خدا کی تو کسی سے کچھ نہیں ہوتا جو چاہے آدمی تو آدمی سے کچھ نہیں ہوتا کہاں کے دوست کیسے اقربا جب وقت پڑتا ہے مصیبت میں کسی کی دوستی سے کچھ نہیں ہوتا عمل کی زندگانی در حقیقت زندگانی ہے جئے جاؤ تو خالی زندگی سے کچھ نہیں ہوتا اجل آئے گی جاں جائے گی اک ساعت معین پر عزیز و اقربا کی پیروی سے کچھ نہیں ہوتا ادب کے قدرداں بزم ادب سے اٹھتے جاتے ہیں لو رکھو شاعری اب شاعری سے کچھ نہیں ہوتا مری حالت یہ کچھ مخصوص دل بے چین ہیں لیکن یہ مشکل ہے کسی کی بیکلی سے کچھ نہیں ہوتا سفیرؔ اس زندگی میں وقت بھی تیور بدلتا نہ گھبراؤ کسی کی دشمنی سے کچھ نہیں ہوتا
na ho marzi khudaa ki to kisi se kuchh nahin hotaa
ان کے جلوے سحر و شام تک آ پہنچے ہیں میرے آغاز اب انجام تک آ پہنچے ہیں حضرت خضر پریشاں نہ ہو آرام کریں ہم بھی اب منزل آرام تک آ پہنچے ہیں تہمت عشق میں ہم آج اکیلے تو نہیں وہ بھی اب مرکز الزام تک آ پہنچے ہیں مے کشو مژدۂ مستی کہ جناب واعظ بڑھ کے اب تذکرۂ جام تک آ پہنچے ہیں اس کو معراج وفا کیوں نہ کہوں جب اکثر بالارادہ وہ مرے نام تک آ پہنچے ہیں یہ مرا ضبط کہ میں اپنی جگہ ہوں محتاط در حقیقت مجھے پیغام تک آ پہنچے ہیں دیکھ کر تنگ دلی بزم میں ساقی کی سفیرؔ رند بھی جرأت ناکام تک آ پہنچے ہیں
un ke jalve sahar-o-shaam tak aa pahunche hain
ہجر میں دل کا داغ جلتا ہے بے کسی کا چراغ جلتا ہے دل جلاتے ہو سرد مہری سے اس طرح بھی چراغ جلتا ہے میری آنکھوں میں ان کا جلوہ ہے آئنہ میں چراغ جلتا ہے دم ہے آنکھوں میں نبضیں ڈوبی ہیں دھیما دھیما چراغ جلتا ہے شعلۂ آہ یہ نہیں ہے سفیرؔ حسرتوں کا چراغ جلتا ہے
hijr mein dil kaa daagh jaltaa hai





