ik balaa kukti hai galiyon mein
sab simaT kar gharon mein baiTh rahein

Mohammad Javed Anwar
Mohammad Javed Anwar
Mohammad Javed Anwar
Popular Shayari
2 totalhar phuul pe qadghan ki tiri shakl pe nikle
har zakhm pe laazim ki tiraa dast-nigar ho
Ghazalغزل
جب طبیعت ہی نہ حاضر ہو حضوری کیا ہے زہد ہو وجہ تفاخر تو ضروری کیا ہے خلق کے ڈر سے جو سجدہ بھی ہے ایقان بھی ہے نام طوری ہو قصوری ہو فتوری کیا ہے رکعتیں دل سے پڑھو آٹھ ہوں بارہ ہوں یا بیس شرط اخلاص ہے آدھی ہوں یا پوری کیا ہے یہ تو ورزش ہے قواعد ہیں نہ رسم اور رواج دل سے نکلے گی تو واں جانے میں دوری کیا ہے اس کے دربار میں بس عجز ہے سکہ رائج ہو بشر خاکی کہ ناری ہو کہ نوری کیا ہے
jab tabiat hi na haazir ho huzuri kyaa hai
بھولو سبھی مجھے مرے پیارو نہیں رہا اب میں کسی کے کام کا یارو نہیں رہا جس کے سموں کی دھول صفا کا غبار تھی مرکب وہ میرے شاہ سوارو نہیں رہا چرخے سمیت چاند کی بڑھیا گزر گئی وہ چاند میری آنکھ کے تارو نہیں رہا تصویر کے بھرم میں مصور سے مل لئے منظر کا اعتبار نظارو نہیں رہا سب ہوش مند اپنے سہارے نکل پڑے پھر بے سہارا کوئی سہارو نہیں رہا
bhulo sabhi mujhe mire pyaaro nahin rahaa
گو آپ کو ہے عشق ہر اک مہ لقا کے ساتھ عقد مبین کیجئے عقل رسا کے ساتھ منت کی عاجزی بھی کی زاری بھی کی مگر اپنا تو کام نکلا تھا جور و جفا کے ساتھ یوں تو وفا کی دیویوں کی ایک تھی قطار لیکن نبھی تو نبھ گئی اک بے وفا کے ساتھ ہر کام میں قرینہ سلیقہ تو چاہئے کیا ہے عجب کہ پیار ہو شرم و حیا کے ساتھ کیوں خواہ مخواہ زیست کو زنداں بیاں کریں گزری ہے عمر اپنی تو اک دل ربا کے ساتھ گو زندگی کے اپنے ہی انداز ہیں مگر منصف ہے موت ایک سی شاہ و گدا کے ساتھ
go aap ko hai ishq har ik mah-laqaa ke saath
بن جانے بن پرکھے کیوں اس بت پر جان نثار کروں میرا کیا ہے میں تو جس سے مل لوں اس سے پیار کروں لفظ تو میرے دل سے ہو کر اپنا رنگ دکھاتے ہیں جو سوچوں لفظوں میں ڈھالوں اور اسے شہکار کروں اپنی خواہش ظاہر کر کے کیوں ہلکا محسوس کروں ملنے کو جب جی چاہے تو کیوں اس کا اظہار کروں جو کیفیت دوری میں ہے اس کی اپنی لذت ہے کیوں مل کر اس کو بھی کھو دوں خود کو بھی بیکار کروں اس کو بغض ہے مجھ سے لیکن میرا دل بھی صاف نہیں کیوں نہ کڑوا سچ مانوں میں کیوں اس سے انکار کروں تم نے بھی بس وقت گزارا میں نے بھی بس باتیں کیں تم اس کو گر سچ مانو تو میں بھی یہ اقرار کروں
bin jaane bin parkhe kyon us but par jaan nisaar karun
کوئی تو لفظ سوجھے تجھے جو عیاں کرے کوئی تو کیفیت مجھے پورا بیاں کرے کوئی تو تیرے حسن کے لائق ہو آئنہ کوئی تو جانچ کر تجھے صدر جہاں کرے کوئی ملے تو میری شب غم کی ہو سحر کوئی تو نور وصل سے پھر صبح یاں کرے کوئی ملے تو جنت گم گشتہ پاؤں میں کوئی تو میرا نام بھی ورد زباں کرے کوئی تو میرے قلب پہ وارد ہو مثل لوح کوئی تو ختم دل میں اتر کر خزاں کرے کوئی تو آئے باد بہاری کے سنگ سنگ کوئی تو میرا قریۂ دل گل فشاں کرے کوئی نگار غم میں بنے میرا ہم رکاب کوئی شکستہ درد کا کوہ گراں کرے کوئی تو چیخ ہو جو مرا درد کہہ سکے کوئی تو پیش کھول کے سوز نہاں کرے
koi to lafz sujhe tujhe jo ayaan kare
تیرے جانے کا کوئی غم تو نہیں خوبرو اس جہاں میں کم تو نہیں اک ترے واسطے سبھی چھوڑیں اور ہوگا وہ کوئی ہم تو نہیں اور مل جائیں گے یہ جام و سبو جام تیرا بھی جام جم تو نہیں جو مباحث میں قول فیصل ہو تیری باتوں میں ایسا دم تو نہیں کچھ تو ہوگا ملال کھونے کا دیکھ تیری بھی آنکھ نم تو نہیں
tere jaane kaa koi gham to nahin





