SHAWORDS
M

Mohammad Yaqoob Aamir

Mohammad Yaqoob Aamir

Mohammad Yaqoob Aamir

poet
11Sher
11Shayari
6Ghazal

Sherشعر

See all 11

Popular Sher & Shayari

22 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

agarche haal o havaadis ki hukmaraani hai

اگرچہ حال و حوادث کی حکمرانی ہے ہر ایک شخص کی اپنی بھی اک کہانی ہے میں آج کل کے تصور سے شاد کام تو ہوں یہ اور بات کہ دو پل کی زندگانی ہے نشان راہ کے دیکھے تو یہ خیال آیا مرا قدم بھی کسی کے لیے نشانی ہے خزاں نہیں ہے بجز اک تردد بے جا چمن کھلاؤ اگر ذوق باغبانی ہے کبھی نہ حال ہوا میرا تیرے حسب مزاج نہ سمجھا تو کہ یہی تیری بدگمانی ہے نہ سمجھے اشک فشانی کو کوئی مایوسی ہے دل میں آگ اگر آنکھ میں بھی پانی ہے ملا تو ان کا ملا ساتھ ہم کو اے عامرؔ نہ دوڑنا ہے جنہیں اور نہ چوٹ کھانی ہے

غزل · Ghazal

na puchho zist-fasaana tamaam hone tak

نہ پوچھو زیست فسانہ تمام ہونے تک دعاؤں تک تھی سحر اور شام رونے تک مجھے بھی خود نہ تھا احساس اپنے ہونے کا تری نگاہ میں اپنا مقام کھونے تک ہر ایک شخص ہے جب گوشت نوچنے والا بچے گا کون یہاں نیک نام ہونے تک چہار سمت سے رہزن کچھ اس طرح ٹوٹے کہ جیسے فصل کا تھا اہتمام بونے تک بتا رہا ہے ابھی تک ترا دھلا دامن کہ داغ بھی ہیں نمایاں تمام دھونے تک ہزار رنگ تمنا ہزار پچھتاوے عجب تھا ذہن میں اک اژدہام سونے تک سنا ہے ہم نے بھی آزاد تھا کبھی عامرؔ کسی کی چاہ کا لیکن غلام ہونے تک

غزل · Ghazal

ik khalaa saa hai jidhar dekho idhar kuchh bhi nahin

اک خلا سا ہے جدھر دیکھو ادھر کچھ بھی نہیں آسماں کون و مکاں دیوار و در کچھ بھی نہیں بڑھتا جاتا ہے اندھیرا جیسے جادو ہو کوئی کوئی پڑھ لیجے دعا لیکن اثر کچھ بھی نہیں جسم پر ہے کون سے عفریت کا سایہ سوار بھاگتا ہے سر سے دھڑ جیسے کہ سر کچھ بھی نہیں ہر نیا رستہ نکلتا ہے جو منزل کے لیے ہم سے کہتا ہے پرانی رہ گزر کچھ بھی نہیں اہتمام زندگی سے ہیں یہ سب نقش و نگار ورنہ گھر کچھ بھی نہیں دیوار و در کچھ بھی نہیں گھر میں اپنے ساتھ جب رکھوگے عامرؔ دیکھنا جس کو تم کہتے ہو اب رشک قمر کچھ بھی نہیں

غزل · Ghazal

chand ghanTe shor o ghul ki zindagi chaaron taraf

چند گھنٹے شور و غل کی زندگی چاروں طرف اور پھر تنہائی کی ہمسائیگی چاروں طرف گھر میں ساری رات بے آواز ہنگامہ نہ پوچھ میں اکیلا نیند غائب برہمی چاروں طرف دیکھنے نکلا ہوں اپنا شہر جنگل کی طرح دور تک پھیلا ہوا ہے آدمی چاروں طرف میرے دروازے پہ اب تختی ہے میرے نام کی اب نہ بھٹکے گی مری آوارگی چاروں طرف میرے گھر میں ہی رہا تا عمر میرا واقعہ اپنی اپنی ورنہ عرض واقعی چاروں طرف چاندنی راتوں کی بستی میں ہوں میں سہما ہوا خوف سے لپٹی ہوئی ہے روشنی چاروں طرف ہے کوئی چہرہ شناسا ڈھونڈتا ہوں بھیڑ میں اتنی رونق میں بھی اک بے رونقی چاروں طرف پہلے میری بات ہنس کر ٹال بھی دیتے تھے وہ لیکن اب تصدیق میری بات کی چاروں طرف بزم میں یوں تو سبھی تھے پھر بھی عامرؔ دیر تک تیرے جانے سے رہی اک خامشی چاروں طرف

غزل · Ghazal

kyaa huaa ham se jo duniyaa bad-gumaan hone lagi

کیا ہوا ہم سے جو دنیا بد گماں ہونے لگی اپنی ہستی اور بھی نزدیک جاں ہونے لگی دھیرے دھیرے سر میں آ کر بھر گیا برسوں کا شور رفتہ رفتہ آرزوئے دل دھواں ہونے لگی باغ سے آئے ہو میرا گھر بھی چل کر دیکھ لو اب بہاروں کے دنوں میں بھی خزاں ہونے لگی چند لوگوں کی فراغت شہر کا چہرہ نہیں یہ حقیقت سب کے چہروں سے عیاں ہونے لگی یاد ہے اب تک کسی کے ساتھ اک شام وصال پھر وہ راتیں جب دم رخصت اذاں ہونے لگی بعد نفرت پھر محبت کو زباں درکار ہے پھر عزیز جاں وہی اردو زباں ہونے لگی ذکر طوفان حوادث کا چھڑا جو ایک دن ہوتے ہوتے داستاں میری بیاں ہونے لگی سخت منزل کاٹ کر ہم جب ہوئے کچھ سست پا تیز رو کچھ اور بھی عمر رواں ہونے لگی چھو رہی ہے آسمانوں کی بلندی پھر نظر پھر ہماری زندگی انجم نشاں ہونے لگی لو یقیں آیا کہ دل کے درد کی تاثیر ہے اب تو اک اک چیز ہم سے ہم زباں ہونے لگی گھر کی محنت سے مری روشن ہوئے ایوان زر روشنی ہونی کہاں تھی اور کہاں ہونے لگی سچ کہوں عامرؔ کہ اب اس دور میں جیتے ہو تم رسم الفت بھی جہاں سود و زیاں ہونے لگی

غزل · Ghazal

aatish-e-gham mein bhabhukaa dida-e-namnaak thaa

آتش غم میں بھبھوکا دیدۂ نمناک تھا آنسوؤں میں جو زباں پر حرف تھا بیباک تھا چین ہی کب لینے دیتا تھا کسی کا غم ہمیں یہ نہ دیکھا عمر بھر اپنا بھی دامن چاک تھا ہم شکستہ دل نہ بہرہ مند دنیا سے ہوئے ورنہ اس آلودگی سے کس کا دامن پاک تھا جوہر فن میرا خود میری نظر سے گر گیا حرف دل پر بھی زمانہ کس قدر سفاک تھا رات کی لاشوں کا کوڑا صبحدم پھینکا گیا کیا ہمارے دور کا انساں خس و خاشاک تھا کتنا خوش ہوتا تھا پہلے آسماں یہ دیکھ کر جو تماشہ تھا جہاں میں وہ تہ افلاک تھا میرا دشمن جب ہوا راضی تو حیرانی ہوئی میرے آگے اور بھی اک روئے ہیبت ناک تھا کتنی باتیں تھیں ہمارے ذہن کا حصہ مگر تجربے کے بعد ان کا اور ہی ادراک تھا خوئے انساں کو ازل سے ہی یہ دنیا تنگ ہے جو ورق تاریخ کا دیکھا وہ عبرت ناک تھا ہم جو آ بیٹھے کبھی تو تن میں کانٹے ہی چبھے سایۂ گل بھی ہمیں کتنا اذیت ناک تھا جلوۂ فطرت نمایاں ہے لباس رنگ میں حسن ہر تہذیب میں منت کش پوشاک تھا سر کے نیچے اینٹ رکھ کر عمر بھر سویا ہے تو آخری بستر بھی عامرؔ تیرا فرش خاک تھا

Similar Poets