gar kuchh nahin hai yaar tire paas gham to hai
tu khush-nasib hai ki tiri aankh nam to hai

Moid Rahbar Lakhnavi
Moid Rahbar Lakhnavi
Moid Rahbar Lakhnavi
Popular Shayari
34 totalus ki taraf se meri taraf aa rahe hain log
aahaT ye lag rahi hai kisi inqalaab ki
ye us se rabt-o-zabt baDhaane kaa hai sila
us ki khataa ko meri khataa maante hain log
bikhar gayaa huun main rishton ki Dor se kaT kar
koi to aa ke sameTe idhar-udhar se mujhe
aaj dekhaa unhein jab zamaane ke baad
aankh nam ho gai muskuraane ke baad
log auron ke garebaan pe nazar karte hain
ham yahi kaam ba-andaaz-e-digar karte hain
laakh tabdiliyaan baazaaron mein aaein rahbar
main vo sikka huun jo har daur mein chal jaaungaa
ham ne kirdaar se badlaa hai chalan duniyaa kaa
ham se sikhe koi tahzib ravaadaari ki
sab ta'alluq dhare ke dhare rah gae
ek taar-e-nafas TuuT jaane ke baad
pahle ye sochtaa rahtaa thaa ki tanhaa ho jaaun
aaj tanhaa huun to tanhaai se Dar lagtaa hai
masarraton ke bahut aas-paas bhi na rahe
khudaa kaa shukr magar ham udaas bhi na rahe
ham musaafir hain kahaan ghar ki taraf dekhte hain
har ghaDi miil ke patthar ki taraf dekhte hain
Ghazalغزل
جنون عشق جسے سر پھرا بنا دے گا پہاڑ کاٹ کے وہ راستہ بنا دے گا خمار حسن سلامت رکھے خدا اس کا جہاں وہ چاہے وہاں میکدہ بنا دے گا اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں سبھی کے دل وہ جس کو چاہے اسے پارسا بنا دے گا گھرا ہوا مجھے دیکھے گا جب ندامت میں وہ میری آہ کو حرف دعا بنا دے گا مرا ضمیر ہی اب میرا رہنما ٹھہرا یہ ہر مقام پہ مجھ کو بڑا بنا دے گا جو دیکھ لے گا تمہیں کوئی منچلا موسم تمہاری زلف سے کالی گھٹا بنا دے گا تو دوسروں سے ہے برتر نہ یہ سمجھ رہبرؔ یہ اعتبار تجھے کھوکھلا بنا دے گا
junun-e-ishq jise sar-phiraa banaa degaa
اپنے ماضی کو چراغوں میں بسر ہم نے کیا کٹ گئی رات تو دیدار سحر ہم نے کیا صرف جنگیں ہی نہیں جیتی ہیں ہیں اس دنیا میں معرکہ عشق کے میداں کا بھی سر ہم نے کیا دیکھنے والوں کی حیرت کا ٹھکانہ نہ رہا ایک پتھر کو جو چمکا کے گہر ہم نے کیا چاند میں عکس نظر آیا ہے تیرا جب سے حسن والے تجھے منظور نظر ہم نے کیا کون سچ بولتا ہے ظالم و جابر کے خلاف کام دنیا میں یہ بے خوف و خطر ہم نے کیا بھول پانا اسے آساں تو نہیں تھا یارو کام یہ تھوڑا سا مشکل تھا مگر ہم نے کیا تب کہیں جا کے غزل رنگ ہے لائی رہبرؔ صرف اشعار میں جب خون جگر ہم نے کیا
apne maazi ko charaaghon mein basar ham ne kiyaa
رمز حیات عالم فانی میں کھو گیا میرا وجود نقل مکانی میں کھو گیا کیا جانے کیا کشش تھی تمہارے کلام میں جس نے سنا وہ لفظ و معانی میں کھو گیا جو دور تک نہیں تھے وہی اب ہیں سامنے کردار میرا اس کی کہانی میں کھو گیا دریا سے بھی کہیں کوئی سیلاب جب اٹھا وہ بھی ان آنسوؤں کی روانی میں کھو گیا جو کچھ کہا نظر نے نظر سے سنے وہ کون ہر شخص گفتگوئے لسانی میں کھو گیا دنیائے علم و فن میں جو حاصل تھا کل اسے سارا کمال چرب زبانی میں کھو گیا احساس پھر ضعیفی میں رہبرؔ ہوا انہیں لطف حیات جن کا جوانی میں کھو گیا
ramz-e-hayaat aalam-e-faani mein kho gayaa
دشت تخیلات میں جب بھی سفر ہوا جانے کہاں کہاں سے ہمارا گزر ہوا لوگو کی تلخیوں کا کچھ ایسا اثر ہوا دل کے ہر ایک گوشے میں رقص شرر ہوا اس کی طرف سے میں تو ہوا بے خبر مگر میری طرف سے وہ نہ کبھی بے خبر ہوا بگڑی ہے ایسی شکل حوادث کی مار سے حیران آئنہ بھی مجھے دیکھ کر ہوا اک بار ہی تو کاندھے پہ رکھا تھا اس نے سر پھر ایسا اتفاق کہاں عمر بھر ہوا جس کی نظر میں وسعت خواب و خیال تھی اس کا وجود مرکز اہل نظر ہوا پہلے تو اک مکان کی صورت ہی تھا فقط تشریف آپ لائے تو گھر میرا گھر ہوا اس کو ہماری دشت نوردی سے ہے خوشی اس سے غرض نہیں کہ کوئی در بدر ہوا سب کی سمجھ میں آتا کہاں ہے یہ علم و فن جس نے سمجھ لیا اسے وہ دیدہ ور ہوا رہبرؔ طویل عمر بھی جینے سے فیض کیا کچھ مقصد حیات نہ پورا اگر ہوا
dasht-e-takhayyulaat mein jab bhi safar huaa
جو تمام عمر بن کر مرا حوصلہ رہی ہے وہی آج میری غیرت مجھے آزما رہی ہے مری فکر جانے مجھ کو کہاں لے کے جا رہی ہے کہ قدم قدم پہ منزل سر راہ آ رہی ہے نہیں چھوڑتی ہے مجھ کو کسی موڑ پر یہ دنیا میں اسے رلا رہا ہوں یہ مجھے رلا رہی ہے تو یہ جانتا ہے پھر بھی نہیں فکر آخرت کی تری موت رفتہ رفتہ ترے پاس آ رہی ہے جو اب آ گئے ہو تم تو مجھے چھوڑ کر نہ جانا کہ تمہارے بن یہ ہستی بڑی بے مزہ رہی ہے مری زندگی کے مالک میں یہ تجھ سے پوچھتا ہوں مجھے کیوں جہاں میں بھیجا مری کیا خطا رہی ہے یہ نہ ہو کہ وقت آخر رہے دل کی بات دل میں مری جان اب تو آ جا مری جان جا رہی ہے جو تمہیں ملا ہے منصب اسے دائمی نہ سمجھو کسی ایک کی حکومت یہاں کب سدا رہی ہے مجھے اب یہ لگ رہا ہے وہ خزاں تھی ٹھیک رہبرؔ یہ بہار کیسے کیسے نئے گل کھلا رہی ہے
jo tamaam umr ban kar miraa hausla rahi hai
اے غزل تیری نظر جب سے اتاری ہم نے رکھ دیا نام ترا راجکماری ہم نے اس لیے غم کو بنا رکھا ہے اپنا ساتھی تجھ کو دے دی ہے خوشی ساری کی ساری ہم نے دل کے جذبات زمانے کو بتانے کے لیے شعر گوئی کا سفر رکھا ہے جاری ہم نے درد فرقت میں نہ سو پاؤ گے اب چین سے تم نیند آنکھوں سے چرا لی ہے تمہاری ہم نے جو کہا تجھ سے اکیلے میں کہا اے ظالم آبرو کب تری محفل میں اتاری ہم نے نقد ہے عشق کا سودا یہ ہوا جب معلوم اس میں رکھی ہی نہیں کوئی ادھاری ہم نے ہیں کہاں جن پہ ادب کا تھا کبھی دار و مدار اب تو اسٹیج پہ دیکھے ہیں مداری ہم نے یہ حقیقت ہے تمہیں کوئی نہیں پوچھے گا کیا کروگے جو کبھی توڑ دی یاری ہم نے ان سے بچھڑے ہیں تو پھر نیند نہ آئی رہبرؔ تارے گن گن کے ہر اک رات گزاری ہم نے
ai ghazal teri nazar jab se utaari ham ne





