SHAWORDS
Mujahid Faraaz

Mujahid Faraaz

Mujahid Faraaz

Mujahid Faraaz

poet
2Sher
2Shayari
7Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

vo aazmaaein mujhe un ko aazmaaun main

وہ آزمائیں مجھے ان کو آزماؤں میں پھر آندھیوں کے لئے اک دیا جلاؤں میں پھر اپنی یاد کی پروائیاں بھی قید کرے وہ چاہتا ہے اگر اس کو بھول جاؤں میں اداس آنکھوں کو سوغات دے کے اشکوں کی یہ اس نے خوب کہا ہے کہ مسکراؤں میں میاں یہ زیست کی سچائیوں کے قصے ہیں کوئی فسانہ نہیں ہے جسے سناؤں میں فساد، قتل، تعصب، فریب، مکاری سفید پوشوں کی باتیں ہیں کیا بتاؤں میں اسی کو کہتے ہیں معراج کیا محبت کی وہ یاد آئے تو پھر خود کو بھول جاؤں میں جمال یار پہ غزلیں تو ہو چکی ہیں بہت یہ سوچتا ہوں اسے آئینہ دکھاؤں میں

غزل · Ghazal

silsila lafzon ki saughaat kaa bhi TuuT gayaa

سلسلہ لفظوں کی سوغات کا بھی ٹوٹ گیا رابطہ خط سے ملاقات کا بھی ٹوٹ گیا ماں کی آغوش میں الفت کی روانی پا کر باندھ ٹھہرے ہوئے جذبات کا بھی ٹوٹ گیا احترام اپنے بزرگوں کا ادب چھوٹوں کا اب چلن ایسی روایات کا بھی ٹوٹ گیا رات کے ماتھے پہ سورج نے سحر لکھ دی ہے آسرا اس سے ملاقات کا بھی ٹوٹ گیا آ گیا کیسے وہ اب اپنی انا سے باہر کیا حصار آج مری ذات کا بھی ٹوٹ گیا آج اخبار کی خبریں بھی ہیں مشکوک فرازؔ آئنہ صورت حالات کا بھی ٹوٹ گیا

غزل · Ghazal

is qadar sachchaai se bezaar duniyaa ho gai

اس قدر سچائی سے بیزار دنیا ہو گئی زد پہ گردن ہے مری، تلوار دنیا ہو گئی اس کے دل میں نیم گولی، شہد باتوں میں رکھے پوچھتے کیا ہو میاں! مکار دنیا ہو گئی بے حیائی بے وفائی بے یقینی بے حسی کیسے کیسے خنجروں کی دھار دنیا ہو گئی مصلحت نے کس قدر تبدیل اس کو کر دیا غیر میں ہوں ان دنوں غم خوار دنیا ہو گئی کیا سمجھتے ہو یقیں کر لے گی تم کچھ بھی کہو سوچ کر دینا بیاں ہشیار دنیا ہو گئی کیا صحافی کیا مؤرخ کیسے عالم کیا ادیب دیکھتے ہی دیکھتے بازار دنیا ہو گئی ہار کر جس نے کیا ہے اس سے سمجھوتا فرازؔ ہاں اسی کے واسطے ہموار دنیا ہو گئی

غزل · Ghazal

badan ki qaid se baahar Thikaanaa chaahtaa hai

بدن کی قید سے باہر ٹھکانا چاہتا ہے عجیب دل ہے کہیں اور جانا چاہتا ہے ابھی دکھاؤ نہ تصویر زندگی اس کو یہ بچپنا ہے ابھی مسکرانا چاہتا ہے ہر ایک رت نہیں بھاتی ہماری آنکھوں کو ہمارا خواب بھی موسم سہانا چاہتا ہے گھٹن ہو دل میں تو پھر شاعری نہیں ہوتی غزل کا شعر فضا شاعرانہ چاہتا ہے ترے بغیر بھی زندہ ہوں دیکھ لے اے دوست اب اور کیا تو مجھے آزمانا چاہتا ہے میں ان امیروں کی آنکھوں میں یوں کھٹکتا ہوں کہ مجھ غریب کو سارا زمانہ چاہتا ہے میں جاں نثار کروں اس پہ چاہتا ہوں مگر وہ آسماں سے ستارے منگانا چاہتا ہے ان آندھیوں کو یہی خوف کھائے جاتا ہے فرازؔ پھر سے دیا اک جلانا چاہتا ہے

غزل · Ghazal

pataa chalaa ki miri zindagi mein likkhaa thaa

پتا چلا کہ مری زندگی میں لکھا تھا وہ جس کا نام کبھی ڈائری میں لکھا تھا وہ کس قبیلے سے ہے کون سے گھرانے سے سب اس کے لہجے کی شائستگی میں لکھا تھا نظر میں آئے بہت سے سجے بنے چہرے مگر جو حسن تری سادگی میں لکھا تھا وہ مجھ غریب کی حالت پہ اور کیا کہتا تمام زہر تو اس کی ہنسی میں لکھا تھا گئے دنوں کی کہانی ہے جب رئیسوں کا وقار چال کی آہستگی میں لکھا تھا فرازؔ ڈھونڈ رہے ہو وفاؤں کی خوشبو یہ ذائقہ کسی گزری صدی میں لکھا تھا

غزل · Ghazal

umr guzri isi maidaan ko sar karne mein

عمر گزری اسی میدان کو سر کرنے میں جو مکاں ہم کو ملا تھا اسے گھر کرنے میں عشق آسان کہاں عمر گزر جاتی ہے اپنی جانب کسی غافل کی نظر کرنے میں آزمائش سے تو بے چاری غزل بھی گزری اک شہنشاہ بہادر کو ظفر کرنے میں صبح کے بعد بھی کچھ لوگوں کی نیندیں نہ کھلیں اور ہم ٹوٹ گئے شب کو سحر کرنے میں لاکھ دشوار ہو دل کو تو سکوں ملتا ہے زندگی اپنے طریقے سے بسر کرنے میں رنگ لائیں گی تمنائیں ذرا صبر کرو وقت لگتا ہے دعاؤں کو اثر کرنے میں

Similar Poets