"ab tak hamari umr ka bachpan nahin gaya ghar se chale the jeb ke paise gira diye"

Nashtar Khaanqahi
Nashtar Khaanqahi
Nashtar Khaanqahi
Sherشعر
See all 8 →ab tak hamari umr ka bachpan nahin gaya
اب تک ہماری عمر کا بچپن نہیں گیا گھر سے چلے تھے جیب کے پیسے گرا دیے
bichhaD kar us se sikha hai tasavvur ko badan karna
بچھڑ کر اس سے سیکھا ہے تصور کو بدن کرنا اکیلے میں اسے چھونا اکیلے میں سخن کرنا
pursish-e-hal se gham aur na baDh jaa.e kahin
پرسش حال سے غم اور نہ بڑھ جائے کہیں ہم نے اس ڈر سے کبھی حال نہ پوچھا اپنا
miri qimat ko sunte hain to gahak lauT jaate hain
مری قیمت کو سنتے ہیں تو گاہک لوٹ جاتے ہیں بہت کمیاب ہو جو شے وہ ہوتی ہے گراں اکثر
main ghar basa ke samundar ke biich soya tha
میں گھر بسا کے سمندر کے بیچ سویا تھا اٹھا تو آگ کی لپٹوں میں تھا مکان مرا
dhamak kahin ho larazti hain khiDkiyan meri
دھمک کہیں ہو لرزتی ہیں کھڑکیاں میری گھٹا کہیں ہو ٹپکتا ہے سائبان مرا
Popular Sher & Shayari
16 total"bichhaD kar us se sikha hai tasavvur ko badan karna akele men use chhuna akele men sukhan karna"
"pursish-e-hal se gham aur na baDh jaa.e kahin ham ne is Dar se kabhi haal na puchha apna"
"miri qimat ko sunte hain to gahak lauT jaate hain bahut kamyab ho jo shai vo hoti hai giran aksar"
"main ghar basa ke samundar ke biich soya tha uTha to aag ki lapTon men tha makan mira"
"dhamak kahin ho larazti hain khiDkiyan meri ghaTa kahin ho Tapakta hai sa.eban mira"
ab tak hamaari umr kaa bachpan nahin gayaa
ghar se chale the jeb ke paise giraa diye
pursish-e-haal se gham aur na baDh jaae kahin
ham ne is Dar se kabhi haal na puchhaa apnaa
main ghar basaa ke samundar ke biich soyaa thaa
uThaa to aag ki lapTon mein thaa makaan miraa
dhamak kahin ho larazti hain khiDkiyaan meri
ghaTaa kahin ho Tapaktaa hai saaebaan miraa
din nikalnaa thaa ki saare shahr mein bhagdaD machi
anginat khvaabon ke chehre bhiiD mein gum ho gae
har baar nayaa le ke jo fitna nahin aayaa
is umr mein aisaa koi lamha nahin aayaa
Ghazalغزل
dhajji dhajji jubba-o-dastaar hote dekhnaa
دھجی دھجی جبہ و دستار ہوتے دیکھنا میرؔ کو بے عاشقی بھی خوار ہوتے دیکھنا کثرت دانشوراں کو قحط دانش جاننا وسعتوں کو دشت کی دیوار ہوتے دیکھنا رکنے والی ہے فشار دم سے نبض انحراف خود کو اب سر تا بہ پا انکار ہوتے دیکھنا پیر صد سالہ سے سننا قصۂ آسودگی لمحہ لمحہ زیست کو دشوار ہوتے دیکھنا دیکھنا لفظوں کو معنی سے مفر کرتے ہوئے چپ کے عالم میں مرا اظہار ہوتے دیکھنا تھیں جو کل تک شب گزاری کا وسیلہ ہجر میں اب انہیں یادوں کو تم آزار ہوتے دیکھنا قصر کہنہ ہم کہ کچھ محسوس تک کرتے نہیں صرف اپنے آپ کو مسمار ہوتے دیکھنا
aage pahunchaa jal kaa dhaaraa bajraa pichhe chhuT gayaa
آگے پہنچا جل کا دھارا بجرا پیچھے چھوٹ گیا رستہ چھوڑ سواروں کو میں پیادہ پیچھے چھوٹ گیا یہ بستی کون سی بستی ہے آ کے کہاں بس ٹھہر گئی جس دھام اترنا چاہا تھا وہ قصبہ پیچھے چھوٹ گیا آگے آگے لمبی ڈگر ہے ریت بھرے میدانوں کی جس تٹ اک پل ٹھہرے تھے وہ دریا پیچھے چھوٹ گیا بیٹھے ہیں سیلانی سارے پت جھڑ ہے وشواسوں کا مندر چھوٹا گرجا چھوٹا کعبہ پیچھے چھوٹ گیا وقت کی خانہ بندی ساری اب کے سفر میں دھول ہوئی ماضی کیسا حال کہاں کا فردا پیچھے چھوٹ گیا کتنے کچھ تھے جیون ساتھی کتنے کچھ تھے لہو شریک چہرہ سب کا ساتھ ہے لیکن رشتہ پیچھے چھوٹ گیا چھوٹا کمرہ حبس بلا کا چھوٹی عقل کے عاشق ہم وحشت کرنے جائیں کہاں جب صحرا پیچھے چھوٹ گیا
ham naa-shanaas-e-raah the sab se judaa chale
ہم ناشناس راہ تھے سب سے جدا چلے پر اپنی جستجو میں زمانے کو پا چلے اب کچھ نہیں ہے پاس نہ عبرت نہ اشتیاق تھی اک متاع ہوش سو وہ بھی گنوا چلے تیری کثافتوں سے کسی کو غرض نہ تھی اے زندگی یہ بار بھی ہم ہی اٹھا چلے اب روشنی بھی زیست کا مقصد نہیں رہی جلتا ہوں اس غرض سے کہ شاید ہوا چلے چھو کر مجھے نہ دیکھ کہ یہ میں نہیں ہوں دوست اک بار مجھ کو توڑ کہ میرا پتہ چلے یہ کیسی چپ لگی ہے کہ بت بن گیا ہوں میں مایوس ہو کے مجھ سے مرے ہم نوا چلے انجان گھاٹیوں کا سفر اور اندھیری رات چلنا ہو جس کو ساتھ وہ میرے چلا چلے
khiDkiyaan mat khol jins-e-jaan uThaa le jaaegaa
کھڑکیاں مت کھول جنس جاں اٹھا لے جائے گا گھر کے گھر کو شہر کا ریلا بہا لے جائے گا سب نمک احساس کا ساری حلاوت زخم کی آنے والے دن کا ڈر سارا مزہ لے جائے گا اس برستی رات کا یہ آخری آنسو بھی کل مجھ سے چاہت اس کی آنکھوں سے وفا لے جائے گا کشت دل کو چاٹ لے گا کرم دنیا اور پھر بچ رہے گا کچھ تو وہ سیل ہوا لے جائے گا جل بجھے گا اک نہ اک دن سب کا سب شہر وفا رہ گئی اک راکھ سو پانی بہا لے جائے گا تیز تر طوفاں کی آہٹ اور یہاں مٹی نہ آگ اب اسے آنے بھی دو یہ مجھ سے کیا لے جائے گا وہ مرا سفاک دشمن لاکھ میں غافل نہ ہوں خود مرے گھر سے مجھے اک دن بلا لے جائے گا
musaafir khaana-e-imkaan mein bistar chhoD jaate the
مسافر خانۂ امکاں میں بستر چھوڑ جاتے تھے وہ ہم تھے جو چراغوں کو منور چھوڑ جاتے تھے سبھی کو اگلے فرسنگوں کی پیمائش مقدر تھی مسافر طے شدہ میلوں کے پتھر چھوڑ جاتے تھے گرجتے گونجتے آتے تھے جو سنسان صحرا میں وہی بادل عجب ویران منظر چھوڑ جاتے تھے نہ تھیں معلوم بھوکی نسل کی مجبوریاں ان کو پھٹی چادر وہ تلواروں کے اوپر چھوڑ جاتے تھے نہیں کچھ اعتبار اب قفل و درباں کا کبھی ہم بھی پڑوسی کے بھروسے پر کھلا گھر چھوڑ جاتے تھے لہو پر اپنے ہی موقوف تھی دھرتی کی زرخیزی سبھی دہقاں یہاں کھیتوں کو بنجر چھوڑ جاتے تھے کبھی آندھی کا خدشہ تھا کبھی طوفاں کا اندیشہ وہ ریگستان لے جاتے تو ساگر چھوڑ جاتے تھے
qahr thaa hijrat mein khud ko be-amaan karnaa tiraa
قہر تھا ہجرت میں خود کو بے اماں کرنا ترا دشت نامحفوظ اور اس میں مکاں کرنا ترا اس کہانی میں مرا کردار ہی گویا نہ تھا یوں حقیقت کو مری بے داستاں کرنا ترا چھن گیا آکاش کا خیمہ تو شام ہجر میں کچھ دھوئیں کے بادلوں کو آسماں کرنا ترا اف! یہ مجبوری کہ جب سارے نشیمن جل گئے ٹوٹنے والے شجر پر آشیاں کرنا ترا بھولنا مشکل ہے وہ منظر کہ مجھ کو ایک دن سر پہ رکھ کر ہاتھ یوں بے سائباں کرنا ترا مستقل لا حاصلی کو اپنا حاصل مان کر زندگی کو لمحہ لمحہ رائیگاں کرنا ترا بد گمانی کی خلش پیدا ہوئی تھی جن دنوں ان دنوں کو میرے اپنے درمیاں کرنا ترا





