SHAWORDS
Nashtar Khaanqahi

Nashtar Khaanqahi

Nashtar Khaanqahi

Nashtar Khaanqahi

poet
8Sher
8Shayari
25Ghazal

Sherشعر

See all 8

Popular Sher & Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 25
غزل · Ghazal

dhajji dhajji jubba-o-dastaar hote dekhnaa

دھجی دھجی جبہ و دستار ہوتے دیکھنا میرؔ کو بے عاشقی بھی خوار ہوتے دیکھنا کثرت دانشوراں کو قحط دانش جاننا وسعتوں کو دشت کی دیوار ہوتے دیکھنا رکنے والی ہے فشار دم سے نبض انحراف خود کو اب سر تا بہ پا انکار ہوتے دیکھنا پیر صد سالہ سے سننا قصۂ آسودگی لمحہ لمحہ زیست کو دشوار ہوتے دیکھنا دیکھنا لفظوں کو معنی سے مفر کرتے ہوئے چپ کے عالم میں مرا اظہار ہوتے دیکھنا تھیں جو کل تک شب گزاری کا وسیلہ ہجر میں اب انہیں یادوں کو تم آزار ہوتے دیکھنا قصر کہنہ ہم کہ کچھ محسوس تک کرتے نہیں صرف اپنے آپ کو مسمار ہوتے دیکھنا

غزل · Ghazal

aage pahunchaa jal kaa dhaaraa bajraa pichhe chhuT gayaa

آگے پہنچا جل کا دھارا بجرا پیچھے چھوٹ گیا رستہ چھوڑ سواروں کو میں پیادہ پیچھے چھوٹ گیا یہ بستی کون سی بستی ہے آ کے کہاں بس ٹھہر گئی جس دھام اترنا چاہا تھا وہ قصبہ پیچھے چھوٹ گیا آگے آگے لمبی ڈگر ہے ریت بھرے میدانوں کی جس تٹ اک پل ٹھہرے تھے وہ دریا پیچھے چھوٹ گیا بیٹھے ہیں سیلانی سارے پت جھڑ ہے وشواسوں کا مندر چھوٹا گرجا چھوٹا کعبہ پیچھے چھوٹ گیا وقت کی خانہ بندی ساری اب کے سفر میں دھول ہوئی ماضی کیسا حال کہاں کا فردا پیچھے چھوٹ گیا کتنے کچھ تھے جیون ساتھی کتنے کچھ تھے لہو شریک چہرہ سب کا ساتھ ہے لیکن رشتہ پیچھے چھوٹ گیا چھوٹا کمرہ حبس بلا کا چھوٹی عقل کے عاشق ہم وحشت کرنے جائیں کہاں جب صحرا پیچھے چھوٹ گیا

غزل · Ghazal

ham naa-shanaas-e-raah the sab se judaa chale

ہم ناشناس راہ تھے سب سے جدا چلے پر اپنی جستجو میں زمانے کو پا چلے اب کچھ نہیں ہے پاس نہ عبرت نہ اشتیاق تھی اک متاع ہوش سو وہ بھی گنوا چلے تیری کثافتوں سے کسی کو غرض نہ تھی اے زندگی یہ بار بھی ہم ہی اٹھا چلے اب روشنی بھی زیست کا مقصد نہیں رہی جلتا ہوں اس غرض سے کہ شاید ہوا چلے چھو کر مجھے نہ دیکھ کہ یہ میں نہیں ہوں دوست اک بار مجھ کو توڑ کہ میرا پتہ چلے یہ کیسی چپ لگی ہے کہ بت بن گیا ہوں میں مایوس ہو کے مجھ سے مرے ہم نوا چلے انجان گھاٹیوں کا سفر اور اندھیری رات چلنا ہو جس کو ساتھ وہ میرے چلا چلے

غزل · Ghazal

khiDkiyaan mat khol jins-e-jaan uThaa le jaaegaa

کھڑکیاں مت کھول جنس جاں اٹھا لے جائے گا گھر کے گھر کو شہر کا ریلا بہا لے جائے گا سب نمک احساس کا ساری حلاوت زخم کی آنے والے دن کا ڈر سارا مزہ لے جائے گا اس برستی رات کا یہ آخری آنسو بھی کل مجھ سے چاہت اس کی آنکھوں سے وفا لے جائے گا کشت دل کو چاٹ لے گا کرم دنیا اور پھر بچ رہے گا کچھ تو وہ سیل ہوا لے جائے گا جل بجھے گا اک نہ اک دن سب کا سب شہر وفا رہ گئی اک راکھ سو پانی بہا لے جائے گا تیز تر طوفاں کی آہٹ اور یہاں مٹی نہ آگ اب اسے آنے بھی دو یہ مجھ سے کیا لے جائے گا وہ مرا سفاک دشمن لاکھ میں غافل نہ ہوں خود مرے گھر سے مجھے اک دن بلا لے جائے گا

غزل · Ghazal

musaafir khaana-e-imkaan mein bistar chhoD jaate the

مسافر خانۂ امکاں میں بستر چھوڑ جاتے تھے وہ ہم تھے جو چراغوں کو منور چھوڑ جاتے تھے سبھی کو اگلے فرسنگوں کی پیمائش مقدر تھی مسافر طے شدہ میلوں کے پتھر چھوڑ جاتے تھے گرجتے گونجتے آتے تھے جو سنسان صحرا میں وہی بادل عجب ویران منظر چھوڑ جاتے تھے نہ تھیں معلوم بھوکی نسل کی مجبوریاں ان کو پھٹی چادر وہ تلواروں کے اوپر چھوڑ جاتے تھے نہیں کچھ اعتبار اب قفل و درباں کا کبھی ہم بھی پڑوسی کے بھروسے پر کھلا گھر چھوڑ جاتے تھے لہو پر اپنے ہی موقوف تھی دھرتی کی زرخیزی سبھی دہقاں یہاں کھیتوں کو بنجر چھوڑ جاتے تھے کبھی آندھی کا خدشہ تھا کبھی طوفاں کا اندیشہ وہ ریگستان لے جاتے تو ساگر چھوڑ جاتے تھے

غزل · Ghazal

qahr thaa hijrat mein khud ko be-amaan karnaa tiraa

قہر تھا ہجرت میں خود کو بے اماں کرنا ترا دشت نامحفوظ اور اس میں مکاں کرنا ترا اس کہانی میں مرا کردار ہی گویا نہ تھا یوں حقیقت کو مری بے داستاں کرنا ترا چھن گیا آکاش کا خیمہ تو شام ہجر میں کچھ دھوئیں کے بادلوں کو آسماں کرنا ترا اف! یہ مجبوری کہ جب سارے نشیمن جل گئے ٹوٹنے والے شجر پر آشیاں کرنا ترا بھولنا مشکل ہے وہ منظر کہ مجھ کو ایک دن سر پہ رکھ کر ہاتھ یوں بے سائباں کرنا ترا مستقل لا حاصلی کو اپنا حاصل مان کر زندگی کو لمحہ لمحہ رائیگاں کرنا ترا بد گمانی کی خلش پیدا ہوئی تھی جن دنوں ان دنوں کو میرے اپنے درمیاں کرنا ترا

Similar Poets