SHAWORDS
Natiq Lakhnavi

Natiq Lakhnavi

Natiq Lakhnavi

Natiq Lakhnavi

poet
14Sher
14Shayari
15Ghazal

Sherشعر

See all 14

Popular Sher & Shayari

28 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

hai vahi naaz-aafrin aaina-e-niyaaz mein

ہے وہی ناز آفریں آئینہ نیاز میں جس کی ضیا ہے سوز میں جس کی صدا ہے ساز میں اپنے نیاز مند ہے پردے کی رسم و راہ ہے ورنہ حجاب کو کہاں دخل حریم ناز میں سجدے میں مر گیا اگر پھر نہ اٹھے گا حشر تک قید نہ رکھیے وقت کی میرے لیے نماز میں ناز کو نور کر دیا سرور کائنات نے وہ جو لگی تھی طور پر آ کے بجھی حجاز میں ناطقؔ سوختہ جگر دل پہ تو ہاتھ رکھ ذرا اب کے بھی کچھ چمک سی تھی نالۂ جاں گداز میں

غزل · Ghazal

mujh se afsurda na ai josh-e-bahaaraan honaa

مجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہونا کیف میں بھول گیا چاک گریباں ہونا جب بکھر جاتی ہے زلف اور نکھر جاتی ہے مجھ کو جمعیت خاطر ہے پریشاں ہونا ذرہ ذرہ ہے تجلی سے لڑائے ہوئے آنکھ کس قیامت کی نمائش ہے یہ پنہاں ہونا دور ہیں تجھ سے ابھی نور کے ذرے ہر سو اے مری خاک ذرا اور پریشاں ہونا حسرت دید نے آئینہ بنایا دل کو عین نظارہ ہے نظارہ کا ارماں ہونا حسن ہر شے کو دیا عشق ملا ہر دل کو تاکہ آسان ہو انسان کا انساں ہونا خوب ہوتا ہے نمایاں سخن ناطقؔ سے مثل معنی ترا ہر لفظ میں پنہاں ہونا

غزل · Ghazal

ye dil nahin nuur kaa hai shoala kisi ko is se zarar nahin hai

یہ دل نہیں نور کا ہے شعلہ کسی کو اس سے ضرر نہیں ہے مثال برق و شرر ہے لیکن مزاج برق و شرر نہیں ہے ہے روکش آفتاب ذرہ بغیر پردہ بلا وسیلہ وہاں لگائی ہے آنکھ دل نے جہاں مجال نظر نہیں ہے حرم سے نکلے تلاش بت میں بتوں سے یاد خدا پہ بگڑی غرض ہم آوارۂ وفا ہیں کہیں ہمارا گزر نہیں ہے جو دیکھنے والے دیکھتے ہیں وہ سننے والوں سے کیا بتائیں نظر کو ذوق زباں نہیں ہے زباں کو ذوق نظر نہیں ہے اذاں ہو ناقوس یا جرس ہو موئثر اپنی جگہ پہ سب ہیں مگر جہاں میں پہنچ گیا ہوں وہاں کسی کا اثر نہیں ہے وہ نیچی نظریں تھیں دل کی طالب وفا نے گو جان نذر کر دی مگر اثر جو سوال میں تھا جواب میں وہ اثر نہیں ہے سخن مرا کیف دل ہے ناطقؔ وہ قدر کرتے ہیں جو ہو عاشق نہیں ہے یہ فلسفہ کتابی یہ اکتسابی ہنر نہیں ہے

غزل · Ghazal

jo mere dil mein sahv tiri yaad se huaa

جو میرے دل میں سہو تری یاد سے ہوا نام اس کا محو عالم ایجاد سے ہوا برباد خاک دل ہے تو احسان حسن کیا میں سر بلند عشق کی افتاد سے ہوا ایسے بھی ہیں کہ جن کو رہائی کی فکر ہے شرمندہ میں تو زحمت صیاد سے ہوا ناقوس اور اذاں کی بنا عشق سے پڑی فریاد کا چلن مری فریاد سے ہوا عشق و ہوس نے مل کے بنائی ہے بزم حسن یہ اتحاد مجمع اضداد سے ہوا دنیائے بے ثبات کا قصہ تھا مختصر طول اتنا میری قید کی میعاد سے ہوا

غزل · Ghazal

be-dilon ki aabru rah jaaegi

بے دلوں کی آبرو رہ جائے گی دل نہ ہوگا آرزو رہ جائے گی طاقت دیدار کتنی ہی سہی پھر بھی تیرے روبرو رہ جائے گی ڈھونڈنے والا ہی خود کھو جائے گا جستجو ہی جستجو رہ جائے گی خون دل کو کچھ اگر توفیق ہو چشم تر کی آبرو رہ جائے گی بے محابا اس کو اے ناطقؔ نہ دیکھ آرزوئے گفتگو رہ جائے گی

غزل · Ghazal

farogh-e-mehr se rindon kaa aakhir kaam kyaa hogaa

فروغ مہر سے رندوں کا آخر کام کیا ہوگا زمیں پر دور چلتا ہے فلک پر جام کیا ہوگا یہ میں جانوں کہ میں نے کیوں کیا آغاز الفت کا یہ وہ جانیں کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگا ترا ترک ستم تمہید ہے ترک تعلق کی مجھے اس دل شکن آرام سے آرام کیا ہوگا پریشاں میں نہیں لیکن جفا پر تم پشیماں ہو وفا پر میری اس سے بڑھ کے اور الزام کیا ہوگا شرابی ہے وہی رگ رگ میں جس کی قدرتی مے ہو نہ ہو کیف آفریں جو دل وہ مے آشام کیا ہوگا خوشی ہوگی دوامی غم زدوں کو جب کبھی ہوگی جسے ہر وقت ہو آرام اسے آرام کیا ہوگا گماں تھا نیک مجھ پر نیک لوگوں کا سو اب تک ہے مگر اب میں کہاں ناطقؔ مجھے الہام کیا ہوگا

Similar Poets