SHAWORDS
N

Nazar Javed

Nazar Javed

Nazar Javed

poet
5Shayari
4Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہم یوں ہی بکھرے نہیں ہر سو خس و خاشاک میں ہیں نمو بر دوش رنگ و بو خس و خاشاک میں اس کے ہونے کا گماں رہتا ہے میرے آس پاس ہر طرف رچ بس گئی خوشبو خس و خاشاک میں ہو ثمر آور ہماری آبلہ پائی کہیں چین آ جائے کسی پہلو خس و خاشاک میں چاہئے ہوتی ہے کشت زر کو جب بھی کچھ نمو میں بہا دیتا ہوں کچھ آنسو خس و خاشاک میں جانتی ہے وہ بصیرت تک کو الجھانے کا فن جو کشش ہے صورت جادو خس و خاشاک میں جب ادھر اٹھتے ہیں طالع آزماؤں کے قدم بجھنے لگتے ہیں ادھر جگنو خس و خاشاک میں یہ تو اے جاویدؔ گزرے موسموں کی راکھ ہے آخرش کیا ڈھونڈھتا ہے تو خس و خاشاک میں

ham yunhi bikhre nahin har-su khas-o-khaashaak mein

غزل · Ghazal

پرانے عکس کر کے رد ہمارے بدل دیتا ہے خال و خد ہمارے طبیعت کے بہت آزاد تھے ہم رہی ٹھوکر میں ہر مسند ہمارے کھلی بانہوں سے ملتے تھے ہمیشہ مگر تھی درمیاں اک حد ہمارے ذرا سی دھوپ چمکے گی سروں پر پگھل جائیں گے موئے قد ہمارے

puraane aks kar ke rad hamaare

غزل · Ghazal

وار ہر ایک مرے زخم کا حامل آیا اپنی تلوار کے میں خود ہی مقابل آیا بادبانوں نے ہر اک سمت بدل کر دیکھی کوئی منظر نہ نظر صورت‌ ساحل آیا گرد ہونے نے ہی مہمیز کیا میرا سفر میرا رستہ مری دیوار میں حائل آیا اس فسوں کی کوئی توضیح نہیں ہو پاتی اس کے ہاتھوں میں بھلا کیسے مرا دل آیا درد سے جوڑ لیا ساز نے رشتہ اپنا اور پھر سوز پہن کر تری پائل آیا ایک تخریب تواتر سے رہی دل میں مرے اک تسلسل سا مرے حال میں شامل آیا جس کا انجام ہوا اس کی شروعات نہ تھی راہ پر آ نہ سکا جو سر منزل آیا زندہ رہنے کے تقاضوں نے مجھے مار دیا سر پہ جاویدؔ عجب عہد مسائل آیا

vaar har ek mire zakhm kaa haamil aayaa

غزل · Ghazal

اپنے ہونے کی ارزانی ختم ہوئی مشکل سے یہ تن آسانی ختم ہوئی تجھ کو کیا معلوم ہماری بینائی کیسے ہو کر پانی پانی ختم ہوئی بہتا ہے چپ چاپ بچھڑ کر چوٹی سے دریا کی پر شور روانی ختم ہوئی مٹی کی آواز سنی جب مٹی نے سانسوں کی سب کھینچا تانی ختم ہوئی دل پر سارے موسم بیت گئے جاویدؔ یعنی خوشبو دار کہانی ختم ہوئی

apne hone ki arzaani khatm hui

Similar Poets