SHAWORDS
Nazeer Banarasi

Nazeer Banarasi

Nazeer Banarasi

Nazeer Banarasi

poet
14Sher
14Shayari
17Ghazal

Sherشعر

See all 14

Popular Sher & Shayari

28 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

ek jhonkaa is tarah zanjir-e-dar khaDkaa gayaa

ایک جھونکا اس طرح زنجیر در کھڑکا گیا میں یہ سمجھا بھولنے والے کو میں یاد آ گیا عمر بھر کی بات بگڑی اک ذرا سی بات میں ایک لمحہ زندگی بھر کی کمائی کھا گیا اے زمیں تجھ کو محبت سے بسانے کے لیے آسمانوں کی بلندی سے مجھے پھینکا گیا انقلاب دہر برحق لیکن ایسا انقلاب وہ کہیں پائے گئے اور میں کہیں پایا گیا آئینہ دکھلانے آئے تھے پریشانی کے دن تھا مرا چہرہ مگر مجھ سے نہ پہچانا گیا آپ نے اپنی زباں سے جس کو اپنا کہہ دیا وہ دوانہ ہر جگہ کھویا ہوا پایا گیا خیریت کیا پوچھتے ہو گیسوئے حالات کی وقت ہی الجھا گیا تھا وقت ہی سلجھا گیا اس طرف جاتے ہوئے اب دل دہلتا ہے نذیرؔ زندگی میں جس طرف سے بارہا آیا گیا

غزل · Ghazal

vo jo bichhDe maut yaad aane lagi

وہ جو بچھڑے موت یاد آنے لگی زندگی تنہا تھی گھبرانے لگی جب وہ میرے حال پر ہنسنے لگے مجھ کو دنیا پر ہنسی آنے لگی گھر سے وہ جاتے ہیں گھر کی خیر ہو رونق دیوار و در جانے لگی اتنا جاگے انتظار دوست میں حسرتوں کو نیند سی آنے لگی بے سہارا ہو چلی تھی زندگی وہ تو کہیے ان کی یاد آنے لگی اس نظر کی ایک جنبش پر نذیرؔ کائنات عشق لہرانے لگی

غزل · Ghazal

akasr is tarah se bhi raat basar hoti hai

اکثر اس طرح سے بھی رات بسر ہوتی ہے رات کی رات نظر جانب در ہوتی ہے جس سے دنیائے سکوں زیر و زبر ہوتی ہے وہ ملاقات سر راہ گزر ہوتی ہے ٹھیس لگتی ہے جہاں عشق کی خودداری کو زندگی بڑھ کے وہیں سینہ سپر ہوتی ہے یہ سپیدیٔ سحر ہے کہ ستاروں کا کفن رات دم توڑ رہی ہے کہ سحر ہوتی ہے اپنے دامن سے تو میں پونچھ رہا ہوں آنسو دامن دوست کی توہین مگر ہوتی ہے آپ آرائش گیسو میں لگے ہیں ناحق فاتح دل تو محبت کی نظر ہوتی ہے راستہ روکے ہوئے کب سے کھڑی ہے دنیا نہ ادھر ہوتی ہے ظالم نہ ادھر ہوتی ہے تو نظر بھر کے سر بزم نہ دیکھ ان کو نذیرؔ اس سے رسوائی تہذیب نظر ہوتی ہے

غزل · Ghazal

ham un ke dar pe na jaate to aur kyaa karte

ہم ان کے در پہ نہ جاتے تو اور کیا کرتے انہیں خدا نہ بناتے تو اور کیا کرتے بغیر عشق اندھیرے میں تھی تری دنیا چراغ دل نہ جلاتے تو اور کیا کرتے ہمیں تو اس لب نازک کو دینی تھی زحمت اگر نہ بات بڑھاتے تو اور کیا کرتے خطا کوئی نہیں پیچھا کیے ہوئے دنیا جو میکدے میں نہ جاتے تو اور کیا کرتے اندھیرا مانگنے آیا تھا روشنی کی بھیک ہم اپنا گھر نہ جلاتے تو اور کیا کرتے کسی سے بات جو کی ہے تو وہ خفا ہیں نذیرؔ کسی کو دوست بناتے تو اور کیا کرتے

غزل · Ghazal

ye karein aur vo karein aisaa karein vaisaa karein

یہ کریں اور وہ کریں ایسا کریں ویسا کریں زندگی دو دن کی ہے دو دن میں ہم کیا کیا کریں دوسروں سے کب تلک ہم پیاس کا شکوہ کریں لاؤ تیشہ ایک دریا دوسرا پیدا کریں حسن خود آئے طواف عشق کرنے کے لیے عشق والے زندگی میں حسن تو پیدا کریں چڑھ کے سولی پر خریدیں گے خریدار آپ کو آپ اپنے حسن کا بازار تو اونچا کریں جی میں آتا ہے کہ دیں پردے سے پردے کا جواب ہم سے وہ پردہ کریں دنیا سے ہم پردا کریں سن رہا ہوں کچھ لٹیرے آ گئے ہیں شہر میں آپ جلدی بند اپنے گھر کا دروازہ کریں کیجئے گا رہزنی کب تک بہ نام رہبری اب سے بہتر آپ کوئی دوسرا دھندا کریں اس پرانی بے وفا دنیا کا رونا کب تلک آئیے مل جل کے اک دنیا نئی پیدا کریں دل ہمیں تڑپائے تو کیسے نہ ہم تڑپیں نذیرؔ دوسرے کے بس میں رہ کر اپنی والی کیا کریں

غزل · Ghazal

aur to kuchh na huaa pi ke bahak jaane se

اور تو کچھ نہ ہوا پی کے بہک جانے سے بات مے خانے کی باہر گئی مے خانے سے کوئی پیمانہ لڑا جب کسی پیمانے سے ہم نے سمجھا کہ پکارا گیا مے خانے سے دو نگاہوں کا جوانی میں ہے ایسا ملنا جیسے دیوانے کا ملنا کسی دیوانے سے دل کی دنیا میں سویرا سا نظر آتا ہے حسرتیں جاگ اٹھی ہیں ترے آ جانے سے دل کی اجڑی ہوئی حالت پہ نہ جائے کوئی شہر آباد ہوئے ہیں اسی ویرانے سے جلوہ گر آج انہیں بھی سر منبر دیکھا جن کو دیکھا تھا نکلتے ہوئے مے خانے سے در و دیوار پہ قبضہ ہے اداسی نذیرؔ گھر مرا گھر نہ رہا ان کے چلے جانے سے

Similar Poets