SHAWORDS
Nazim Sultanpuri

Nazim Sultanpuri

Nazim Sultanpuri

Nazim Sultanpuri

poet
4Shayari
15Ghazal

Popular Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

تم کو اپنی نظر بہت کچھ ہے ہم کو اپنا جگر بہت کچھ ہے تیرے خواب و خیال کے صدقے اپنی شام و سحر بہت کچھ ہے بات جب ہے کسی کا دل رکھ لے یوں وہ مے گوں نظر بہت کچھ ہے یہ جبین نیاز کیا لیکن آپ کا سنگ در بہت کچھ ہے پرتو داغ دل سے کیا نسبت یوں ضیائے سحر بہت کچھ ہے بے اصولی مرا مزاج نہیں گاہے گاہے مگر بہت کچھ ہے اپنی خاطر تو عمر بھر ناظمؔ نگہ مختصر بہت کچھ ہے

tum ko apni nazar bahut kuchh hai

غزل · Ghazal

گھر کو ویرانہ کریں عیش کی پروا نہ کریں تیری آنکھوں کا اشارہ ہو تو کیا کیا نہ کریں دست وحشت ہو تو کیوں بات جنوں کی جائے جیب و دامن ہیں تو کیوں گل کی تمنا نہ کریں آپ سے میری گزارش ہے کیوں یوں شام و سحر میری خواہش سے زیادہ مجھے دیکھا نہ کریں کون دیکھے چمن دہر میں گل کی صورت ہم اگر دیدۂ پر نم سے سنوارا نہ کریں کیسے تازہ ہو ترے گیسوئے خم دار کی یاد ہم جو راہ رسن و دار سے گزرا نہ کریں وہ بھی کس دل سے سنیں کشتۂ غم کی روداد ہم بھی کس منہ سے بیاں درد کا افسانہ کریں

ghar ko viraana karein aish ki parvaa na karein

غزل · Ghazal

غم اٹھاتے تو بات بن جاتی چوٹ کھاتے تو بات بن جاتی ہم بھی کچھ دور راہ غم چل کے لوٹ آتے تو بات بن جاتی کوئی دستک سی دے رہا تھا رات جاگ جاتے تو بات بن جاتی میری لغزش پہ ایک دن وہ بھی مسکراتے تو بات بن جاتی آپ اور ہم ترانۂ ہستی مل کے گاتے تو بات بن جاتی ان کی محفل میں ایک دن ناظمؔ بار پاتے تو بات بن جاتی

gham uThaate to baat ban jaati

غزل · Ghazal

یہ تو نہیں معلوم کہ کیا بات ہوئی تھی ہاں ساحل دریا پہ بہت بھیڑ لگی تھی اپنی روش کج کلہی سے نہ بنی بات سنتے ہیں کہ اس ڈھنگ سے بہتوں کی بنی تھی ہم دن کے اجالوں کو دعا دو کہ ابھی تک کوچے میں تمہارے شب تاریک بسی تھی دیکھا تھا کسی شوخ نے شب خواب چمن کا روندے ہوئے پھولوں کی ادا بول رہی تھی جدت کے اجالے میں بھی پلتے ہیں اندھیرے کسی دھوپ کے مارے نے خدا لگتی کہی تھی چپ چاپ چلے آئے تم اچھا ہوا ناظمؔ ساقی سے الجھنا بھی تو اک بے ادبی تھی

ye to nahin maalum ki kyaa baat hui thi

غزل · Ghazal

کس شغل کو اپنائے آخر ترا سودائی ہنسنے میں بھی رسوائی رونے میں بھی رسوائی ارباب محبت کے کیا کیا نہ سنے طعنے روداد دل مضطر لب پر جو کبھی آئی ہاں تیری تمنا کو ہم دل سے بھلا دیں گے جینے کی کوئی صورت ظالم جو نکل آئی اس بات سے کیا حاصل یہ اہل سخن جانیں جس بات میں ہوتی ہے گہرائی نہ گیرائی اب تیرے لئے دنیا ہوتی ہے تو ہو دشمن کانٹوں سے نہیں ڈرتا پھولوں کا تمنائی تم دیر و کلیسا ہی دیکھو نہ حرم ناظمؔ ایسا بھی بھلا کیا ہے سودائے جبیں سائی

kis shaghl ko apnaae aakhir tiraa saudaai

غزل · Ghazal

جس سکوت مستقل پر تجھ کو اتنا ناز ہے بے خبر وہ بھی تو رسوائی کا اک انداز ہے آپ اسے حرف جنوں سمجھیں کہ حرف آگہی یہ بہر صورت شعور درد کی آواز ہے کتنے زخموں کا بھرم اک بے زبانی کی ادا کتنی آوازوں کا پردہ اک سکوت ناز ہے لب ہی لب کی بھیڑ ہے مے خانۂ ہستی میں آج تشنگی ہی تشنگی اب وقت کی آواز ہے تم کو ہوتا ہے جو کانٹوں پر بھی پھولوں کا گماں وہ بھی شائستہ نگاہی کا مری اعجاز ہے کیا خبر کب چھین لے مجھ سے ترے غم کی اساس ان دنوں کچھ جارحانہ وقت کا انداز ہے اس طرح لپٹی ہے دل سے تیری یادوں کی لکیر جیسے یہ بھی روشنئ زندگی کا راز ہے جس نے دیوانہ بنا رکھا ہے سارے شہر کو وہ تکلم کا ترے سنبھلا ہوا انداز ہے بن پڑے اے ناظمؔ محزوں تو چل اس کے حضور شہر میں بس اک وہی عیسیٰ نفس دم ساز ہے

jis sukut-e-mustaqil par tujh ko itnaa naaz hai

Similar Poets