SHAWORDS
Obaid Siddiqi

Obaid Siddiqi

Obaid Siddiqi

Obaid Siddiqi

poet
4Sher
4Shayari
19Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

8 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

khushk dariyaaon ko paani de khudaa

خشک دریاؤں کو پانی دے خدا بادبانوں کو روانی دے خدا بے سماعت کر دے سارے شہر کو یا مجھے پھر بے زبانی دے خدا کب تلک بے معجزہ ہو کر جیوں کوئی تو اپنی نشانی دے خدا چھوٹ جاؤں وسعتوں کی قید سے وحشتوں کو لا مکانی دے خدا سیکڑوں ہم زاد ہیں میرے یہاں مجھ کو لیکن میرا ثانی دے خدا

غزل · Ghazal

mujhe ab nayaa ik badan chaahiye

مجھے اب نیا اک بدن چاہیئے اور اس کے لیے بانکپن چاہیئے میں یہ سوچتا ہوں اثر کے لیے صدا چاہیئے یا سخن چاہیئے بھٹکنے سے اب میں بہت تنگ ہوں زمیں قید کر لے وطن چاہیئے نشے کے لیے اک نیا شیشہ ہو اور اس میں شراب کہن چاہیئے یہ آنکھیں یہ دل یہ بدن ہے ترا تجھے اور کیا جان من چاہیئے بہت ترش لگنے لگی زندگی کوئی میٹھی میٹھی چبھن چاہیئے

غزل · Ghazal

dariyaa jo chaDhaa hai vo utarne nahin denaa

دریا جو چڑھا ہے وہ اترنے نہیں دینا یہ لمحۂ موجود گزرنے نہیں دینا دنیا ہی نہیں دل کو بھی اس شہر ہوس میں من مانی کسی حال میں کرنے نہیں دینا محسوس نہیں ہوگی مسیحا کی ضرورت یہ زخم ہی ایسا ہے کہ بھرنے نہیں دینا مشکل ہے مگر کام یہ کرنا ہی پڑے گا انسان کو انسان سے ڈرنے نہیں دینا جس خواب میں روپوش ہو جینے کی تمنا وہ خواب دل آویز بکھرنے نہیں دینا گر دل کو جلا کر بھی دھواں کرنا پڑے تو ان پودوں کو کہرے میں ٹھٹھرنے نہیں دینا

غزل · Ghazal

kaar-e-duniyaa ke taqaazon ko nibhaane mein kaTi

کار دنیا کے تقاضوں کو نبھانے میں کٹی زندگی ریت کی دیوار اٹھانے میں کٹی اب بھی روشن ہے ترے دل میں محبت کا دیا رات پھر شمع یقیں ساز جلانے میں کٹی تشنگی وہ تھی کوئی کار وفا ہو نہ سکا عمر بے مایہ فقط پیاس بجھانے میں کٹی ساعت وصل جو دیکھے تھے خد و خال ترے ہجر کی شب وہی تصویر بنانے میں کٹی ایک انگشت شہادت کہ ابھی باقی تھی وہ بھی اس بار تری سمت اٹھانے میں کٹی

غزل · Ghazal

zamin baar-haa badli zamaan nahin badlaa

زمین بارہا بدلی زماں نہیں بدلا اسی لیے تو یہ میرا جہاں نہیں بدلا نہ آرزو کوئی بدلی نہ میری محرومی بدل گیا ہے رویہ سماں نہیں بدلا اداسی آج بھی ویسی ہے جیسے پہلے تھی مکیں بدلتے رہے ہیں مکاں نہیں بدلا کبھی چراغ کبھی دل جلا کے دیکھ لیا ذرا سا رنگ تو بدلا دھواں نہیں بدلا پرندے اب بھی چہکتے ہیں گل مہکتے ہیں سنا ہے کچھ بھی ابھی تک وہاں نہیں بدلا دلوں کا درد کسی طور کم نہیں ہوگا اگر تصور سود و زیاں نہیں بدلا

غزل · Ghazal

aisi tan-aasaani se

ایسی تن آسانی سے باز آ جا نادانی سے جینا مشکل ہوتا ہے اتنی نکتہ دانی سے صحرا بھی شرماتا ہے اس دل کی ویرانی سے لاج کہاں تک آئے گی خوابوں کی عریانی سے پیاس نہیں بجھ پاتی ہے دریا کی دربانی سے پیچھا کون چھڑا پایا اس دنیا دیوانی سے

Similar Poets