"kahan par kho ga.i ab DhunDhta huun bharosa naam ki chabi mili thi"

Paraveen Rai
Paraveen Rai
Paraveen Rai
Sherشعر
See all 21 →kahan par kho ga.i ab DhunDhta huun
کہاں پر کھو گئی اب ڈھونڈھتا ہوں بھروسہ نام کی چابی ملی تھی
aap ko devta samajhta tha
آپ کو دیوتا سمجھتا تھا آپ تو خوب دیوتا نکلے
ham ne paani kaha tha aur un ne
ہم نے پانی کہا تھا اور ان نے پیاس دے دی ہے پیاس کے بدلے
kaun bhala apni marzi se bichhDa tha
کون بھلا اپنی مرضی سے بچھڑا تھا دونوں کی اپنی اپنی مجبوری تھی
adhure rah ga.e ham is liye bhi
ادھورے رہ گئے ہم اس لئے بھی کوئی ہم کو مکمل چاہیے تھا
is se pahle ke chhin lete log
اس سے پہلے کے چھین لیتے لوگ ہم نے خوشیاں ہی دان میں دے دیں
Popular Sher & Shayari
42 total"aap ko devta samajhta tha aap to khuub devta nikle"
"ham ne paani kaha tha aur un ne pyaas de di hai pyaas ke badle"
"kaun bhala apni marzi se bichhDa tha donon ki apni apni majburi thi"
"adhure rah ga.e ham is liye bhi koi ham ko mukammal chahiye tha"
"is se pahle ke chhin lete log ham ne khushiyan hi daan men de diin"
puchh kar kaun dil dukhaataa hai
haadse kab bataa ke hote hain
pahle zakhmon se ham navaaze gae
phir dilaasa diyaa gayaa ham ko
khaamoshi mein rahne vaale logon ko
sannaaTe ki guunj sunaai deti hai
us se hi to chalte hain kaarobaar gulshan ke
vo hi raat-raani hai vo hi gul-hazaara hai
mere ash'aar churaane vaalo
kyaa miraa dard churaa sakte ho
adhure rah gae ham is liye bhi
koi ham ko mukammal chaahiye thaa
Ghazalغزل
dil ke soe hue zakhmon ko jagaa jaati hai
دل کے سوئے ہوئے زخموں کو جگا جاتی ہے یاد ماضی کی ہوا جب بھی یہاں آتی ہے حال اب یہ ہے کہ مرنے کو ہیں آمادہ ہم عشق کی راہ خطرناک ہوئی جاتی ہے ایک لڑکا جو محبت میں مرا جاتا ہے ایک لڑکی جو ترس تک بھی نہیں کھاتی ہے ہم ابھی روح ہی ہونے کو چلے ہیں تو تو جسم سے جان نکل کر کے کہاں جاتی ہے تب کہیں جا کے زمانہ کا بھرم کھلتا ہے زندگی جیتے جی جب لاش بنا جاتی ہے
dhaDkanon mein khinchaav dariyaa kaa
دھڑکنوں میں کھنچاؤ دریا کا عشق کیا ہے بہاؤ دریا کا وصل جیسے چڑھاؤ دریا کا ہجر جیسے کٹاؤ دریا کا آنکھ جیسے چناب جھیلم ہوں ہونٹ جیسے گھماؤ دریا کا ڈوب جائے نہ دل ہمارا اب دیکھ کر کے لگاؤ دریا کا
chaar din ki ye zindagaani mein
چار دن کی یہ زندگانی میں موڑ کتنے ہیں اک کہانی میں راز جتنے چھپائے رکھے تھے بہہ گئے آنکھ کے وہ پانی میں ہائے اللہ کیا نظارے ہیں کون آیا ہے راجدھانی میں عشق ان کو بھی آزمائے گا وہ جو بیٹھے ہیں خود گمانی میں میرا گلشن اجڑ گیا مالک باغبانوں کی باغبانی میں
meri har baat har sukhan mein hai
میری ہر بات ہر سخن میں ہے عشق میرے رہن سہن میں ہے میرؔ ہوتے گلے لگا لیتے ایسا جادو مرے کہن میں ہے سر سے پاں تک کھلی ہوئی ہو یوں چاند جیسے کھلا گگن میں ہے اب شرابوں میں ویسی بات کہاں جو نشہ ہاں ترے بدن میں ہے کیا غضب کی مٹھاس لہجے میں کیا ادا چال اور چلن میں ہے من کی باتیں نہ پڑھ سکیں تم تو کیا بتائیں کہ کیا یہ من میں ہے
vahi nakhraa vahi ghussa tumhaaraa
وہی نخرا وہی غصہ تمہارا ابھی تک دل نہیں پگھلا تمہارا ابھی تیور نہیں بدلے تمہارے ابھی بھی ہے وہی لہجہ تمہارا بچھڑ کر کے بہت روئی ہو تم بھی کبھی اترا ہے یہ چہرہ تمہارا اسی نے تو ہماری جان لی تھی ارے ہاں ہاں وہی بوسہ تمہارا ہماری اور ہی سب دیکھتے ہیں جو ہوتا ہے کہیں چرچا تمہارا کرو جو کچھ کرے مرضی تمہاری ہمارے دل پہ ہے قبضہ تمہارا محبت بھی رہی اعلیٰ تمہاری ستم بھی ہے بہت اچھا تمہارا





