yuun to apnon saa kuchh nahin is mein
phir bhi ghairon se vo alag saa hai

Parkash Fikri
Parkash Fikri
Parkash Fikri
Popular Shayari
6 totallarzaan hai kisi khauf se jo shaam kaa chehra
aankhon mein koi khvaab pirone nahin detaa
mujhe to yuun bhi isi raah se guzarnaa thaa
dil-e-tabaah kaa kuchh to ilaaj karnaa thaa
jidhar dekho lahu bikhraa huaa hai
nishaana kaun goli kaa banaa hai
murda paDe the log gharon ki panaah mein
dariyaa vafur-e-ghaiz se biphraa thaa chaar su
main surkhiyon mein kahaan se hotaa
main haashiye ki khabar rahaa huun
Ghazalغزل
چاندی جیسی جھلمل مچھلی پانی پگھلے نیلم سا شاخیں جس پر جھکی ہوئی ہیں دریا بہتے سرگم سا سورج روشن رستہ دے گا کالے گہرے جنگل میں خوف اندھیری راتوں کا اب نقش ہوا ہے مدھم سا درد نہ اٹھا کوئی دل میں لہو نہ ٹپکا آنکھوں سے کہنے والا بجھا بجھا تھا قصہ بھی تھا مبہم سا ہنستی گاتی سب تصویریں ساکت اور مبہوت ہوئیں لگتا ہے اب شہر ہی سارا ایک پرانے البم سا سرد اکیلا بستر فکریؔ نیند پہاڑوں پار کھڑی گرم ہوا کا جھونکا ڈھونڈوں جی سے گیلے موسم سا
chaandi jaisi jhilmil machhli paani pighle nilam saa
وہ رابطے بھی انوکھے جو دوریاں برتیں وہ قربتیں بھی نرالی جو لمس کو ترسیں سوال بن کے سلگتے ہیں رات بھر تارے کہاں ہے نیند ہماری وہ بس یہی پوچھیں بلاتا رہتا ہے جنگل ہمیں بہانوں سے سنیں جو اس کی تو شاید نہ پھر کبھی لوٹیں پھسلتی جاتی ہے ہاتھوں سے ریت لمحوں کی کہاں ہے بس میں ہمارے کہ ہم اسے روکیں حقیقتوں کا بدلنا تو خواب ہے فکریؔ مگر یہ خواب ہے ایسا کہ سب جسے دیکھیں
vo raabte bhi anokhe jo duriyaan bartein
جھوٹی حقیقتوں کی طرح لوگ مر گئے لیکن دلوں پہ نقش وہ تصویر کر گئے سمجھیں گے اپنی عمر کا قصہ تمام ہے رنگ خزاں کو دیکھ کے جس روز ڈر گئے سب کو جلا کے راکھ ہوئی موسموں کی آگ سب کو ڈبو کے دیکھیے دریا اتر گئے چڑیوں نے جس پہ آس کے ڈیرے جمائے تھے ننگی ہیں اس کی ڈالیاں پتے بکھر گئے فکریؔ برستی شام سی ہے دوپہر مگر نکلی ذرا سی دھوپ تو چہرے نکھر گئے
jhuTi haqiqaton ki tarah log mar gae
دشمنی کی اس ہوا کو تیز ہونا چاہئے اس کی کشتی کو سر ساحل ڈبونا چاہئے چھین کر ساری امیدیں مجھ سے وہ کہتا ہے اب کشت دل میں آرزو کا بیج بونا چاہئے اس سمندر کی کثافت آنکھ میں چبھنے لگی اس کا چہرہ اور ہی پانی سے دھونا چاہئے سونپ جائیں ان درختوں کو نشانی نام کی ہم کبھی تھے اگلی رت کو علم ہونا چاہئے یہ بھی کوئی تک ہوئی کہ کچھ ہوا تو رو پڑے شخصیت کا رنگ فکریؔ یوں نہ کھونا چاہئے
dushmani ki is havaa ko tez honaa chaahiye
مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھا دل تباہ کا کچھ تو علاج کرنا تھا مری نوا سے تری نیند بھی سلگ اٹھتی ذرا سا اس میں شراروں کا رنگ بھرنا تھا سلگتی ریت پہ یادوں کے نقش کیوں چھوڑے تجھے بھی گہرے سمندر میں جب اترنا تھا ملا نہ مجھ کو کسی سے خراج اشکوں میں ہوا کے ہاتھوں مجھے اور کچھ بکھرنا تھا اسی پہ داغ ہزیمت کے لگ گئے دیکھو یقیں کی آگ سے جس شکل کو نکھرنا تھا میں کھنڈروں میں اسے ڈھونڈتا پھرا فکریؔ مگر کہاں تھا وہ آسیب جس سے ڈرنا تھا
mujhe to yuun bhi isi raah se guzarnaa thaa
مرے آنگن میں پیلی دھوپ جب دیوار سے اتری اندھیرے کی سیہ چادر نہ جانے اور کیوں پھیلی جلایا خواہشوں نے رات کی تنہائی میں مجھ کو بہت ہی دور تھی پر لذتوں کی نرم رو ندی ہوا کا ہاتھ بھی اب جسم تیرا گدگدائے گا نہ سو ایسی رتوں میں کھول کر یوں رات کو کھڑکی یہ بوڑھا پیڑ بیچارہ خموشی کو ترستا ہے سدا رہتی ہے اس پہ گونجتی چہکار چڑیوں کی ترا رنگین پیکر گھومتا ہے آنکھ میں جیسے تھرکتی ڈولتی شاخوں پہ اڑتی شوخ سی تتلی کسی کروٹ نہ چین آیا نہ آئی نیند ہی مجھ کو بڑی غم ناک غم انگیز کل کی رات تھی فکریؔ
mire aangan mein piili dhuup jab divaar se utri





