"raat ke shayad ek baje hain sota hoga mera chand"

Parveen Shakir
परवीन शाकिर
پروین شاکر
Sherشعر
See all 110 →raat ke shayad ek baje hain
رات کے شاید ایک بجے ہیں سوتا ہوگا میرا چاند
mere chehre pe ghazal likhti ga.iin
میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں شعر کہتی ہوئی آنکھیں اس کی
yuun dekhna us ko ki koi aur na dekhe
یوں دیکھنا اس کو کہ کوئی اور نہ دیکھے انعام تو اچھا تھا مگر شرط کڑی تھی
abr barse to inayat us ki
ابر برسے تو عنایت اس کی شاخ تو صرف دعا کرتی ہے
kisi ke dhyan men Duuba hua dil
کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے
vo to khush-bu hai havaon men bikhar ja.ega
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
Popular Sher & Shayari
220 total"mere chehre pe ghazal likhti ga.iin sher kahti hui ankhen us ki"
"yuun dekhna us ko ki koi aur na dekhe in.aam to achchha tha magar shart kaDi thi"
"abr barse to inayat us ki shakh to sirf dua karti hai"
"kisi ke dhyan men Duuba hua dil bahane se mujhe bhi Talta hai"
"vo to khush-bu hai havaon men bikhar ja.ega mas.ala phuul ka hai phuul kidhar ja.ega"
suraj-dimaagh log bhi ablaagh-e-fikr mein
zulf-e-shab-e-firaaq ke pechaak ho gae
us ne jalti hui peshaani pe jab haath rakhaa
ruuh tak aa gai taasir masihaai ki
main us ki dastaras mein huun magar vo
mujhe meri razaa se maangtaa hai
kuchh faisla to ho ki kidhar jaanaa chaahiye
paani ko ab to sar se guzar jaanaa chaahiye
ab to is raah se vo shakhs guzartaa bhi nahin
ab kis ummid pe darvaaze se jhaanke koi
us ne mujhe dar-asl kabhi chaahaa hi nahin thaa
khud ko de kar ye bhi dhokaa, dekh liyaa hai
Ghazalغزل
havaa mahak uThi rang-e-chaman badalne lagaa
ہوا مہک اٹھی رنگ چمن بدلنے لگا وہ میرے سامنے جب پیرہن بدلنے لگا بہم ہوئے ہیں تو اب گفتگو نہیں ہوتی بیان حال میں طرز سخن بدلنے لگا اندھیرے میں بھی مجھے جگمگا گیا ہے کوئی بس اک نگاہ سے رنگ بدن بدلنے لگا ذرا سی دیر کو بارش رکی تھی شاخوں پر مزاج سوسن و سرو و سمن بدلنے لگا فراز کوہ پہ بجلی کچھ اس طرح چمکی لباس وادی و دشت و دمن بدلنے لگا
charaagh-e-raah bujhaa kyaa ki rahnumaa bhi gayaa
چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا ہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیا میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی وہ شخص آ کے مرے شہر سے چلا بھی گیا بہت عزیز سہی اس کو میری دل داری مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دکھا بھی گیا اب ان دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں وہ تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا سب آئے میری عیادت کو وہ بھی آیا تھا جو سب گئے تو مرا درد آشنا بھی گیا یہ غربتیں مری آنکھوں میں کیسی اتری ہیں کہ خواب بھی مرے رخصت ہیں رتجگا بھی گیا
bakht se koi shikaayat hai na aflaak se hai
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے اتنی روشن ہے تری صبح کہ ہوتا ہے گماں یہ اجالا تو کسی دیدۂ نمناک سے ہے ہاتھ تو کاٹ دیے کوزہ گروں کے ہم نے معجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے
sabhi gunaah dhul gae sazaa hi aur ho gai
سبھی گناہ دھل گئے سزا ہی اور ہو گئی مرے وجود پر تری گواہی اور ہو گئی رفو گران شہر بھی کمال لوگ تھے مگر ستارہ ساز ہاتھ میں قبا ہی اور ہو گئی بہت سے لوگ شام تک کواڑ کھول کر رہے فقیر شہر کی مگر صدا ہی اور ہو گئی اندھیرے میں تھے جب تلک زمانہ ساز گار تھا چراغ کیا جلا دیا ہوا ہی اور ہو گئی بہت سنبھل کے چلنے والی تھی پر اب کے بار تو وہ گل کھلے کہ شوخیٔ صبا ہی اور ہو گئی نہ جانے دشمنوں کی کون بات یاد آ گئی لبوں تک آتے آتے بد دعا ہی اور ہو گئی یہ میرے ہاتھ کی لکیریں کھل رہی تھیں یا کہ خود شگن کی رات خوشبوئے حنا ہی اور ہو گئی ذرا سی کرگسوں کو آب و دانہ کی جو شہہ ملی عقاب سے خطاب کی ادا ہی اور ہو گئی
isi mein khush huun miraa dukh koi to sahtaa hai
اسی میں خوش ہوں مرا دکھ کوئی تو سہتا ہے چلی چلوں گی جہاں تک یہ ساتھ رہتا ہے زمین دل یوں ہی شاداب تو نہیں اے دوست قریب میں کوئی دریا ضرور بہتا ہے گھنے درختوں کے گرنے پہ ماسوائے ہوا عذاب در بدری اور کون سہتا ہے نہ جانے کون سا فقرہ کہاں رقم ہو جائے دلوں کا حال بھی اب کون کس سے کہتا ہے مقام دل کہیں آبادیوں سے ہے باہر اور اس مکان میں جیسے کہ کوئی رہتا ہے مرے بدن کو نمی کھا گئی ہے اشکوں کی بھری بہار میں کیسا مکان ڈہتا ہے
jab kabhi khubi-e-qismat se tujhe dekhte hain
جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں آئنہ خانے کی حیرت سے تجھے دیکھتے ہیں وہ جو پامال زمانہ ہیں مرے تخت نشیں دیکھ تو کیسی محبت سے تجھے دیکھتے ہیں کاسۂ دید میں بس ایک جھلک کا سکہ ہم فقیروں کی قناعت سے تجھے دیکھتے ہیں تیرے جانے کا خیال آتا ہے گھر سے جس دم در و دیوار کی حسرت سے تجھے دیکھتے ہیں تیرے کوچے میں چلے جاتے ہیں قاصد بن کر اور اکثر اسی صورت سے تجھے دیکھتے ہیں کہہ گئی باد صبا آج ترے کان میں کیا پھول کس درجہ شرارت سے تجھے دیکھتے ہیں تجھ کو کیا علم تجھے ہارنے والے کچھ لوگ کس قدر سخت ندامت سے تجھے دیکھتے ہیں





