SHAWORDS
Parveen Shakir

Parveen Shakir

परवीन शाकिर

پروین شاکر

poet
110Sher
110Shayari
44Ghazal
2.1KViews

Sherشعر

See all 110

Popular Sher & Shayari

220 total

Ghazalغزل

See all 44
غزل · Ghazal

havaa mahak uThi rang-e-chaman badalne lagaa

ہوا مہک اٹھی رنگ چمن بدلنے لگا وہ میرے سامنے جب پیرہن بدلنے لگا بہم ہوئے ہیں تو اب گفتگو نہیں ہوتی بیان حال میں طرز سخن بدلنے لگا اندھیرے میں بھی مجھے جگمگا گیا ہے کوئی بس اک نگاہ سے رنگ بدن بدلنے لگا ذرا سی دیر کو بارش رکی تھی شاخوں پر مزاج سوسن و سرو و سمن بدلنے لگا فراز کوہ پہ بجلی کچھ اس طرح چمکی لباس وادی و دشت و دمن بدلنے لگا

غزل · Ghazal

charaagh-e-raah bujhaa kyaa ki rahnumaa bhi gayaa

چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا ہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیا میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی وہ شخص آ کے مرے شہر سے چلا بھی گیا بہت عزیز سہی اس کو میری دل داری مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دکھا بھی گیا اب ان دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں وہ تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا سب آئے میری عیادت کو وہ بھی آیا تھا جو سب گئے تو مرا درد آشنا بھی گیا یہ غربتیں مری آنکھوں میں کیسی اتری ہیں کہ خواب بھی مرے رخصت ہیں رتجگا بھی گیا

غزل · Ghazal

bakht se koi shikaayat hai na aflaak se hai

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے اتنی روشن ہے تری صبح کہ ہوتا ہے گماں یہ اجالا تو کسی دیدۂ نمناک سے ہے ہاتھ تو کاٹ دیے کوزہ گروں کے ہم نے معجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے

غزل · Ghazal

sabhi gunaah dhul gae sazaa hi aur ho gai

سبھی گناہ دھل گئے سزا ہی اور ہو گئی مرے وجود پر تری گواہی اور ہو گئی رفو گران شہر بھی کمال لوگ تھے مگر ستارہ ساز ہاتھ میں قبا ہی اور ہو گئی بہت سے لوگ شام تک کواڑ کھول کر رہے فقیر شہر کی مگر صدا ہی اور ہو گئی اندھیرے میں تھے جب تلک زمانہ ساز گار تھا چراغ کیا جلا دیا ہوا ہی اور ہو گئی بہت سنبھل کے چلنے والی تھی پر اب کے بار تو وہ گل کھلے کہ شوخیٔ صبا ہی اور ہو گئی نہ جانے دشمنوں کی کون بات یاد آ گئی لبوں تک آتے آتے بد دعا ہی اور ہو گئی یہ میرے ہاتھ کی لکیریں کھل رہی تھیں یا کہ خود شگن کی رات خوشبوئے حنا ہی اور ہو گئی ذرا سی کرگسوں کو آب و دانہ کی جو شہہ ملی عقاب سے خطاب کی ادا ہی اور ہو گئی

غزل · Ghazal

isi mein khush huun miraa dukh koi to sahtaa hai

اسی میں خوش ہوں مرا دکھ کوئی تو سہتا ہے چلی چلوں گی جہاں تک یہ ساتھ رہتا ہے زمین دل یوں ہی شاداب تو نہیں اے دوست قریب میں کوئی دریا ضرور بہتا ہے گھنے درختوں کے گرنے پہ ماسوائے ہوا عذاب در بدری اور کون سہتا ہے نہ جانے کون سا فقرہ کہاں رقم ہو جائے دلوں کا حال بھی اب کون کس سے کہتا ہے مقام دل کہیں آبادیوں سے ہے باہر اور اس مکان میں جیسے کہ کوئی رہتا ہے مرے بدن کو نمی کھا گئی ہے اشکوں کی بھری بہار میں کیسا مکان ڈہتا ہے

غزل · Ghazal

jab kabhi khubi-e-qismat se tujhe dekhte hain

جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں آئنہ خانے کی حیرت سے تجھے دیکھتے ہیں وہ جو پامال زمانہ ہیں مرے تخت نشیں دیکھ تو کیسی محبت سے تجھے دیکھتے ہیں کاسۂ دید میں بس ایک جھلک کا سکہ ہم فقیروں کی قناعت سے تجھے دیکھتے ہیں تیرے جانے کا خیال آتا ہے گھر سے جس دم در و دیوار کی حسرت سے تجھے دیکھتے ہیں تیرے کوچے میں چلے جاتے ہیں قاصد بن کر اور اکثر اسی صورت سے تجھے دیکھتے ہیں کہہ گئی باد صبا آج ترے کان میں کیا پھول کس درجہ شرارت سے تجھے دیکھتے ہیں تجھ کو کیا علم تجھے ہارنے والے کچھ لوگ کس قدر سخت ندامت سے تجھے دیکھتے ہیں

Similar Poets