SHAWORDS
Parveen Umm

Parveen Umm

Parveen Umm

Parveen Umm

poet
39Sher
39Shayari
22Ghazal

Sherشعر

See all 39

Popular Sher & Shayari

78 total

Ghazalغزل

See all 22
غزل · Ghazal

poshaak na tu pahniyo ai sarv-e-ravaan surkh

پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخ ہو جائے نہ پرتو سے ترے کون و مکاں سرخ یاں بادۂ احمر کے چھلکتے ہیں جو ساغر اے پیر مغاں دیکھ کہ ہے ساری دکاں سرخ پی بادۂ احمر تو یہ کہنے لگا گل رو میں سرخ ہوں تم سرخ زمیں سرخ زماں سرخ کیا پان کی سرخی نے کیا قتل کسی کو شدت سے ہے کیوں آج تری تیغ زباں سرخ سینہ میں دل غمزدہ خوں ہو گیا شاید بے وجہ بھی ہوتے ہیں کہیں اشک رواں سرخ کیا بھڑکے ہے سینہ میں مرے آتش فرقت جو آہ کے ہمراہ نکلتا ہے دھواں سرخ یہ قتل خزاں پر ہیں جوانان چمن شاد ہر سمت گل و لالہ اڑاتے ہیں نشاں سرخ گر میری شہادت کی بشارت نہیں پرویںؔ پھر کیوں ہے خط شوق کے عنواں یہ نشاں سرخ

غزل · Ghazal

khilaayaa partav-e-rukhsaar ne kyaa gul samundar mein

کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میں حباب آ کر بنے ہر سمت سے بلبل سمندر میں ہمارے آہ و نالہ سے زمانہ ہے تہ و بالا کبھی ہے شور صحرا میں کبھی ہے غل سمندر میں کسی دن مجھ کو لے ڈوبے گا ہجر یار کا صدمہ چراغ ہستیٔ موہوم ہوگا گل سمندر میں نہ چھیڑو مجھ کو میں غواص ہوں دریائے معنی کا نہ ڈھونڈو مجھ کو مستغرق ہوں میں بالکل سمندر میں تمہیں دریائے خوبی کہہ دیا غرق ندامت ہوں کہاں یہ ناز و غمزہ عارض و کاکل سمندر میں پڑا تھا عکس روئے نازنیں عرصہ ہوا اس کو پر اب تک تیرتا پھرتا ہے شکل گل سمندر میں اٹھی موج صبا جنباں سے شاخ آشیاں پیہم چلی جاتی ہے گویا کشتی بلبل سمندر میں وہ پائیں باغ میں پھرتے ہیں میں فکروں میں ڈوبا ہوں تماشا ہے کہ گل گلشن میں ہے بلبل سمندر میں ابھی تو سیر کو جانا لب دریا وہ سیکھے ہیں ابھی تو دیکھیے کھلتے ہیں کیا کیا گل سمندر میں خیال یار کیوں کر آ گیا طوفان گریہ میں خدا معلوم کس شے کا بنایا پل سمندر میں کبھی گریہ کا طوفاں ہے کبھی حیرت کا سناٹا کبھی بالکل ہوں صحرا میں کبھی بالکل سمندر میں وہ ظالم عاشق آزاری کی پرویںؔ مشق کرتا ہے دکھا کر بلبلوں کو ڈالتا ہے گل سمندر میں

غزل · Ghazal

phailaa huaa hai baagh mein har samt nur-e-subh

پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبح بلبل کے چہچہوں سے ہے ظاہر سرور صبح بیٹھے ہو تم جو چہرہ سے الٹے نقاب کو پھیلا ہوا ہے چار طرف شب کو نور صبح بد قسمتوں کو گر ہو میسر شب وصال سورج غروب ہوتے ہی ظاہر ہو نور صبح پو پھٹتے ہی ریاض جہاں خلد بن گیا غلمان مہر ساتھ لئے آئی حور صبح مرغ سحر عدو نہ موذن کی کچھ خطا پرویںؔ شب وصال میں سب ہے فتور صبح

غزل · Ghazal

bahut din dars-e-ulfat mein kaTe hain

بہت دن درس الفت میں کٹے ہیں محبت کے سبق برسوں رٹے ہیں جنوں میں ہو گیا ہے اب یہ درجہ کہ ہے حالت ردی کپڑے پھٹے ہیں حرم سے واپسی پر میری دعوت ہوئی مے خانہ میں میکش ڈٹے ہیں بہت پیر مغاں ذی حوصلہ ہے شراب ناب کے ساغر لٹے ہیں ریاض و زہد کے جتنے تھے دھبے وہ سارے نقش باطل اب مٹے ہیں تبرک تھے مری توبہ کے ٹکڑے بجائے نقل محفل میں بٹے ہیں الم کے درد کے حسرت کے غم کے مزے جتنے ہیں سارے چٹپٹے ہیں نہیں بے وجہ واعظ رونی صورت یہ حضرت آج رندوں میں پٹے ہیں ہوئے جاروب کش اس در کے پرویںؔ کہ سارے گرد مٹی میں اٹے ہیں

غزل · Ghazal

dil pukaaraa phans ke ku-e-yaar mein

دل پکارا پھنس کے کوئے یار میں روک رکھا ہے مجھے گل زار میں فرق کیا مقتل میں اور گل زار میں ڈھال میں ہیں پھول پھل تلوار میں لطف دنیا میں نہیں تکرار میں لیکن ان کے بوسۂ رخسار میں تھا جو شب کو سایۂ رخسار میں تازگی کتنی ہے باسی ہار میں فرط مایوسی نے مردہ حسرتیں دفن کر دی ہیں دل بیمار میں شاد ہو جاتی ہے دنیا اے روپے کیا کرامت ہے تری جھنکار میں آتش الفت کی دھڑکن بڑھ گئی گر پڑا دل شعلۂ رخسار میں آہ کے قبضہ میں ہے تاثیر یا تیغ ہے دست علمبردار میں نشتر مژگاں کی تیزی کے سبب ایک کانٹا ہے دل پر خار میں آب پیکاں پاس ہے لیکن نصیب پھر بھی خشکی ہے لب سوفار میں خیر ہو پرویںؔ دل مضطر مرا لے چلا پھر کوچۂ دل دار میں

غزل · Ghazal

meri izzat baDh gai ik paan mein

میری عزت بڑھ گئی اک پان میں فرق کیا آیا تمہاری شان میں ان کو دیکھا تو کہا یوں کان میں کیوں خلل ڈالا مرے ایمان میں عاشقی ہے بحر ناپیداکنار کشتئ دل آ گئی طوفان میں ہے یہی پہچان بالی عمر کی بالیاں وہ دو فقط ہیں کان میں تیرے صدقے کے لئے حاضر ہیں سب در سمندر میں جواہر کان میں دے کے دل اس بت کو اپنا کر لیا اس تجارت میں نہیں نقصان میں کیا مے گلگوں سے رونق گھٹ گئی رنگ بلکہ آ گیا ایمان میں اس بت کافر کو سجدہ کر لیا اس سے کیا آیا خلل ایمان میں تم پری کا فخر ہو حوروں کا ناز کاش ہوتے فرقۂ انسان میں اس کے رخساروں پہ ہے خط کی نمود حاشیہ یہ ہے نیا قرآن میں گیسوئے پیچاں ترے رخسار پر سورۂ واللیل ہے قرآن میں عارض تاباں پہ ہے خط کی نمود حبشیوں کی فوج یا ایران میں کہہ دو پیش آیا کرے اچھی طرح چل نہ جائے مجھ میں اور دربان میں وہ کریں ظلم اور تم لب پر نہ لاؤ ورنہ گستاخی ہے ان کی شان میں سنتے سنتے واعظوں سے ہجو مے ضعف سا کچھ آ گیا ایمان میں یوں کہوں گا ووں کہوں گا تھا خیال روبرو کچھ بھی نہ آیا دھیان میں اس کی قدرت سے نہیں پرویںؔ بعید رائی کو پربت بنا دے آن میں

Similar Poets