SHAWORDS
Pirzada Qasim

Pirzada Qasim

Pirzada Qasim

Pirzada Qasim

poet
6Sher
6Shayari
18Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

12 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

chaand bhi bujhaa Daalaa dil dukhaane vaalon ne

چاند بھی بجھا ڈالا دل دکھانے والوں نے کچھ اٹھا نہیں رکھا دل دکھانے والوں نے ہم نے خستگی پائی دل گرفتگی پائی خیر ہم سے کیا پایا دل دکھانے والوں نے خوب وضع داری ہے زخم تازہ سے پہلے ہم سے حال دل پوچھا دل دکھانے والوں نے بے قرار ہیں آنکھیں کیسے اب لہو روئیں خشک کر دیا دریا دل دکھانے والوں نے سچ کہا سدا دل کو دل سے راہ ہوتی ہے خوب ہم کو پہچانا دل دکھانے والوں نے ان کی وجہ شہرت تو تلخ گفتگو ہی تھی کیوں بدل لیا لہجہ دل دکھانے والوں نے

غزل · Ghazal

ruuh gar nauha-kunaan ho to ghazal hoti hai

روح گر نوحہ کناں ہو تو غزل ہوتی ہے دل کو احساس زیاں ہو تو غزل ہوتی ہے محفل ماہ وشاں میں تو غزل ہو نہ سکی بزم آشفتہ سراں ہو تو غزل ہوتی ہے صرف آنکھوں میں نمی سے نہ بنے گی کوئی بات ایک دریا سا رواں ہو تو غزل ہوتی ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ کسی کی وہ نظر میری جانب نگراں ہو تو غزل ہوتی ہے دھیمے دھیمے سے سلگتے ہوئے جذبات کے ساتھ میرؔ کا طرز بیاں ہو تو غزل ہوتی ہے

غزل · Ghazal

lamha lamha miraa har ik se sivaa jaagtaa hai

لمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہے میں الگ جاگتا ہوں درد جدا جاگتا ہے بخت بھی سوتے ہیں اور گھر کے مکیں بھی لیکن سرحد شب پہ کہیں ایک دیا جاگتا ہے خواب ہو جانے سے پہلے کوئی حرف خوش کام اسی امید پہ یہ ذہن رسا جاگتا ہے ہم پہ ہی خاص ہیں کچھ اس کی عنایات سو اب فتنہ اس شہر میں ہر روز نیا جاگتا ہے اے مرے درد بتا حد سے گزرنا کب ہے تو جو یوں جاگتا رہتا ہے تو کیا جاگتا ہے

غزل · Ghazal

hai jabr vaqt kaa qissa ajab sunaae kaun

ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کون میں یاد اس کو کروں اور یاد آئے کون یہ بات بجھتے دیوں نے کسی سے پوچھی تھی جلے تو ہم تھے مگر خیر جگمگائے کون اسے تلاش تو کرنا ہے پھر یہ سوچتا ہوں زمانہ اور ہے اب زحمتیں اٹھائے کون یہاں تو اپنے چراغوں کی فکر ہے سب کو دیا جلایا ہے سب نے دیے جلائے کون یہاں تو لوگ انہی حیرتوں میں جیتے ہیں کہ تیر کس پہ چلے اور زخم کھائے کون یہاں تو جاگتی آنکھوں میں خواب جاگتے ہیں جو جاگتے ہوں انہیں خواب سے جگائے کون یہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں ملتی مگر یہ بے خبری کی خبر سنائے کون یہاں تو صبح سے پہلے ہی بزم برہم ہے دیا بجھا دے کوئی پر دیا بجھائے کون

غزل · Ghazal

yaad kyaa dast-e-hunar hai ki sanvartaa gayaa main

یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میں اس کو سوچا تو اسے یاد ہی کرتا گیا میں اس کو تہذیب جنوں کہیے کہ مجھ سے پہلے جیسے بکھرے ہیں سبھی لوگ بکھرتا گیا میں نقش کتنے تھے کہ معدوم ہوئے سلسلہ وار اور ہر نقش کے پہلے سے ابھرتا گیا میں ایک تصویر بنائی تھی مکمل نہ ہوئی ایک ہی رنگ لہو رنگ تھا بھرتا گیا میں حرف اقرار ہی کہتا رہا بے خوفی سے یعنی انکار کے آشوب سے ڈرتا گیا میں دامن وقت سے سو حرف ستائش بھی چنے اور الزام سبھی وقت پہ دھرتا گیا میں اپنے اندر کے تلاطم نے رکھا ہے آباد خود ہی اقرار کیا خود ہی مکرتا گیا میں مجھ میں ہر لمحہ فزوں تر ہوا اندوہ جمال اور تصویر کے مانند سنورتا گیا میں ہر نفس بڑھتا گیا اس کی تمنا کا خروش لمحہ لمحہ اسی وحشت میں نکھرتا گیا میں زندگی کوئے ملامت ہے کوئی کیا ٹھہرے اپنی ہی وضع کا میں ہوں سو ٹھہرتا گیا میں

غزل · Ghazal

charaagh huun kab se jal rahaa huun mujhe duaaon mein yaad rakhiye

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے جو بجھ گیا تو سحر نما ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے وہ بات جو آپ کہہ نہ پائے مری غزل میں بیاں ہوئی ہے میں آپ کا حرف مدعا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے غبار ہوں آپ چاہے غازہ بنائیں یا زیر پا بچھا لیں میں کب سے رقصاں ہوں تھک چکا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے بہت ہی شائستگی سے ہر لمحہ ڈوبتی اک صدا کی صورت میں خلوت جاں میں بجھ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے بلا سے یہ راہ شوق میری نہ ہو سکی پر تمہاری خاطر مثال نقش قدم بچھا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

Similar Poets