"ik saza aur asiron ko suna di jaa.e ya.ani ab jurm-e-asiri ki saza di jaa.e"

Pirzada Qasim
Pirzada Qasim
Pirzada Qasim
Sherشعر
ik saza aur asiron ko suna di jaa.e
اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے یعنی اب جرم اسیری کی سزا دی جائے
shahr talab kare agar tum se ilaj-e-tiragi
شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگی صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو
tumhen jafa se na yuun baaz aana chahiye tha
تمہیں جفا سے نہ یوں باز آنا چاہیئے تھا ابھی کچھ اور مرا دل دکھانا چاہیئے تھا
us ki khvahish hai ki ab log na ro.en na hansen
اس کی خواہش ہے کہ اب لوگ نہ روئیں نہ ہنسیں بے حسی وقت کی آواز بنا دی جائے
gham se bahal rahe hain aap aap bahut ajiib hain
غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں درد میں ڈھل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں
khuun se jab jala diya ek diya bujha hua
خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا پھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہوا
Popular Sher & Shayari
12 total"shahr talab kare agar tum se ilaj-e-tiragi sahab-e-ikhtiyar ho aag laga diya karo"
"tumhen jafa se na yuun baaz aana chahiye tha abhi kuchh aur mira dil dukhana chahiye tha"
"us ki khvahish hai ki ab log na ro.en na hansen be-hisi vaqt ki avaz bana di jaa.e"
"gham se bahal rahe hain aap aap bahut ajiib hain dard men Dhal rahe hain aap aap bahut ajiib hain"
"khuun se jab jala diya ek diya bujha hua phir mujhe de diya gaya ek diya bujha hua"
ik sazaa aur asiron ko sunaa di jaae
yaani ab jurm-e-asiri ki sazaa di jaae
shahr talab kare agar tum se ilaaj-e-tiragi
saahab-e-ikhtiyaar ho aag lagaa diyaa karo
tumhein jafaa se na yuun baaz aanaa chaahiye thaa
abhi kuchh aur miraa dil dukhaanaa chaahiye thaa
us ki khvaahish hai ki ab log na roein na hansein
be-hisi vaqt ki aavaaz banaa di jaae
gham se bahal rahe hain aap aap bahut ajiib hain
dard mein Dhal rahe hain aap aap bahut ajiib hain
khuun se jab jalaa diyaa ek diyaa bujhaa huaa
phir mujhe de diyaa gayaa ek diyaa bujhaa huaa
Ghazalغزل
chaand bhi bujhaa Daalaa dil dukhaane vaalon ne
چاند بھی بجھا ڈالا دل دکھانے والوں نے کچھ اٹھا نہیں رکھا دل دکھانے والوں نے ہم نے خستگی پائی دل گرفتگی پائی خیر ہم سے کیا پایا دل دکھانے والوں نے خوب وضع داری ہے زخم تازہ سے پہلے ہم سے حال دل پوچھا دل دکھانے والوں نے بے قرار ہیں آنکھیں کیسے اب لہو روئیں خشک کر دیا دریا دل دکھانے والوں نے سچ کہا سدا دل کو دل سے راہ ہوتی ہے خوب ہم کو پہچانا دل دکھانے والوں نے ان کی وجہ شہرت تو تلخ گفتگو ہی تھی کیوں بدل لیا لہجہ دل دکھانے والوں نے
ruuh gar nauha-kunaan ho to ghazal hoti hai
روح گر نوحہ کناں ہو تو غزل ہوتی ہے دل کو احساس زیاں ہو تو غزل ہوتی ہے محفل ماہ وشاں میں تو غزل ہو نہ سکی بزم آشفتہ سراں ہو تو غزل ہوتی ہے صرف آنکھوں میں نمی سے نہ بنے گی کوئی بات ایک دریا سا رواں ہو تو غزل ہوتی ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ کسی کی وہ نظر میری جانب نگراں ہو تو غزل ہوتی ہے دھیمے دھیمے سے سلگتے ہوئے جذبات کے ساتھ میرؔ کا طرز بیاں ہو تو غزل ہوتی ہے
lamha lamha miraa har ik se sivaa jaagtaa hai
لمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہے میں الگ جاگتا ہوں درد جدا جاگتا ہے بخت بھی سوتے ہیں اور گھر کے مکیں بھی لیکن سرحد شب پہ کہیں ایک دیا جاگتا ہے خواب ہو جانے سے پہلے کوئی حرف خوش کام اسی امید پہ یہ ذہن رسا جاگتا ہے ہم پہ ہی خاص ہیں کچھ اس کی عنایات سو اب فتنہ اس شہر میں ہر روز نیا جاگتا ہے اے مرے درد بتا حد سے گزرنا کب ہے تو جو یوں جاگتا رہتا ہے تو کیا جاگتا ہے
hai jabr vaqt kaa qissa ajab sunaae kaun
ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کون میں یاد اس کو کروں اور یاد آئے کون یہ بات بجھتے دیوں نے کسی سے پوچھی تھی جلے تو ہم تھے مگر خیر جگمگائے کون اسے تلاش تو کرنا ہے پھر یہ سوچتا ہوں زمانہ اور ہے اب زحمتیں اٹھائے کون یہاں تو اپنے چراغوں کی فکر ہے سب کو دیا جلایا ہے سب نے دیے جلائے کون یہاں تو لوگ انہی حیرتوں میں جیتے ہیں کہ تیر کس پہ چلے اور زخم کھائے کون یہاں تو جاگتی آنکھوں میں خواب جاگتے ہیں جو جاگتے ہوں انہیں خواب سے جگائے کون یہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں ملتی مگر یہ بے خبری کی خبر سنائے کون یہاں تو صبح سے پہلے ہی بزم برہم ہے دیا بجھا دے کوئی پر دیا بجھائے کون
yaad kyaa dast-e-hunar hai ki sanvartaa gayaa main
یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میں اس کو سوچا تو اسے یاد ہی کرتا گیا میں اس کو تہذیب جنوں کہیے کہ مجھ سے پہلے جیسے بکھرے ہیں سبھی لوگ بکھرتا گیا میں نقش کتنے تھے کہ معدوم ہوئے سلسلہ وار اور ہر نقش کے پہلے سے ابھرتا گیا میں ایک تصویر بنائی تھی مکمل نہ ہوئی ایک ہی رنگ لہو رنگ تھا بھرتا گیا میں حرف اقرار ہی کہتا رہا بے خوفی سے یعنی انکار کے آشوب سے ڈرتا گیا میں دامن وقت سے سو حرف ستائش بھی چنے اور الزام سبھی وقت پہ دھرتا گیا میں اپنے اندر کے تلاطم نے رکھا ہے آباد خود ہی اقرار کیا خود ہی مکرتا گیا میں مجھ میں ہر لمحہ فزوں تر ہوا اندوہ جمال اور تصویر کے مانند سنورتا گیا میں ہر نفس بڑھتا گیا اس کی تمنا کا خروش لمحہ لمحہ اسی وحشت میں نکھرتا گیا میں زندگی کوئے ملامت ہے کوئی کیا ٹھہرے اپنی ہی وضع کا میں ہوں سو ٹھہرتا گیا میں
charaagh huun kab se jal rahaa huun mujhe duaaon mein yaad rakhiye
چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے جو بجھ گیا تو سحر نما ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے وہ بات جو آپ کہہ نہ پائے مری غزل میں بیاں ہوئی ہے میں آپ کا حرف مدعا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے غبار ہوں آپ چاہے غازہ بنائیں یا زیر پا بچھا لیں میں کب سے رقصاں ہوں تھک چکا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے بہت ہی شائستگی سے ہر لمحہ ڈوبتی اک صدا کی صورت میں خلوت جاں میں بجھ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے بلا سے یہ راہ شوق میری نہ ہو سکی پر تمہاری خاطر مثال نقش قدم بچھا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے





