main bhuul jaaun tujhe yaa main intizaar karun
tu apne jaane se pahle mujhe bataa kar jaa

Pragya Sharma
Pragya Sharma
Pragya Sharma
Popular Shayari
3 totaldekh kar sitaaron ko mujh ko to ye lagtaa hai
duur aasmaanon mein cigarettein sulagti hain
ishq kyaa hai bas isi ehsaas kaa to naam hai
aag kaa mahsus honaa haath jal jaane ke baa'd
Ghazalغزل
جانے کیا پھر جی میں آئی چل پڑے ہم نے اک سگریٹ جلائی چل پڑے غیب سے آئی تھی ہم کو اک صدا چھوڑ کر ساری خدائی چل پڑے اس سے پہلے روکتے دیوار و در آگ خود گھر کو لگائی چل پڑے آج جانے کا کہیں دل تو نہ تھا بس کسی کی یاد آئی چل پڑے اس قدر تھی رہ گزر سے نسبتیں جب سفر کی بات آئی چل پڑے شب گئے آواز اک آئی ہمیں ہم نے بھی ہمت جٹائی چل پڑے جانتے تھے آخرت کا ہے سفر آ گئی شام جدائی چل پڑے
jaane kyaa phir ji mein aai chal paDe
روز شام ہوتے ہی شمع کا وہ جل جانا رفتہ رفتہ پھر مجھ میں موم کا پگھل جانا مطمئن نہیں کرتا چاہے میرے حق میں ہو ٹھوکریں بنا کھائے یوں مرا سنبھل جانا بھول ایک لمحے کی عمر بھر پشیمانی چھوٹ کر کماں سے یوں تیر کا وہ چل جانا درمیان دونوں کے ہیں تمام اندیشے حادثے کا ہو جانا حادثے کا ٹل جانا محفلوں کی وہ رونق قہقہوں کی وہ گونجیں اور پھر اچانک ہی وقت کا بدل جانا کس قدر طلسمی تھا سگریٹیں سلگتے ہی اس تمام منظر کا اک دھوئیں میں ڈھل جانا اس طلب کو کیا کہئے اس جنوں کا کیا کیجے اک خیال کے پیچھے یوں مرا نکل جانا
roz shaam hote hi shama kaa vo jal jaanaa
میں کہاں تھی کہاں سے کہاں ہو گئی آخرش یہ ہوا میں دھواں ہو گئی دل میں جذبہ تھا جو وہ فنا ہو گیا اک محبت تھی جو داستاں ہو گئی سارے ارمان میرے دھرے رہ گئے ساری کوشش مری رائیگاں ہو گئی مجھ کو دیکھا تو دینے لگی گالیاں میری تنہائی کیا بد زباں ہو گئی تجربہ یہ نیا اس سفر میں ہوا دھوپ میں تپ کے میں سائباں ہو گئی ایک چہرہ نگاہوں سے گزرا ہی تھا ایک تصویر دل میں نہاں ہو گئی راکھ ہوتا گیا رفتہ رفتہ بدن زندگی سگریٹوں کا دھواں ہو گئی
main kahaan thi kahaan se kahaan ho gai
ہو نہ پائیں گے یقیں تو اک گماں ہو جائیں گے یہ کبھی مت سوچنا ہم رائیگاں ہو جائیں گے ہم ابھی تو چپ ہیں لیکن بولنے پر آئے تو جتنے بھی اہل زباں ہیں بے زباں ہو جائیں گے سب سے اچھا ہے کہ اپنا راز خود ہم کھول دیں ورنہ سب کے سامنے اک دن عیاں ہو جائیں گے گر یوں ہی چلتی رہی پیہم خیالوں کی اڑان اڑتے اڑتے ایک دن ہم آسماں ہو جائیں گے اتنی جلدی تو کوئی بھی معجزہ ہوتا نہیں اتنی جلدی ہم ہوا میں گم کہاں ہو جائیں گے پینے والوں کے لئے تو چند پل کا تھا سکون خوف میں تھی سگریٹیں اب ہم دھواں ہو جائیں گے
ho na paaeinge yaqin to ik gumaan ho jaaeinge
کون ہے مجھ میں جو مرتا ہی چلا جاتا ہے روح تک درد اترتا ہی چلا جاتا ہے کوئی منحوس ہوا ہے مرے گھر کے اندر جو سمیٹوں وہ بکھرتا ہی چلا جاتا ہے مرنے والے ہیں کہ جیتے ہی چلے جاتے ہیں جینے والا ہے کہ مرتا ہی چلا جاتا ہے زخم سہمے ہوئے چپ چاپ پڑے رہتے ہیں درد بے خوف ابھرتا ہی چلا جاتا ہے میں نے کوشش تو کئی بار کی روکوں اس کو پھر بھی یہ وقت گزرتا ہی چلا جاتا ہے جس کے بھرنے سے میں بے رنگ ہوئی جاتی ہوں مجھ میں کیوں رنگ وہ بھرتا ہی چلا جاتا ہے کیسا پاگل ہے مرا دل کہ سمجھتا ہی نہیں عشق کرتا ہے تو کرتا ہی چلا جاتا ہے
kaun hai mujh mein jo martaa hi chalaa jaataa hai
پاگل ہوں پوری کی پوری جھکی ہوں اس سے بڑھ کر کیا بتلاؤں کیسی ہوں تیری خاطر کیا کیا سوچا تھا میں نے تیری خاطر کیا کیا سوچا کرتی ہوں راس آتا ہے گڑیوں کا یہ کھیل مجھے اندر سے شاید میں اب بھی بچی ہوں بہتر ہوگا اپنی انا پر قابو رکھ ورنہ میں بھی اپنی ضد کی پکی ہوں ایسا لگتا ہے مجھ کو پی جائے گا یہ جو گہرے پانی سے میں ڈرتی ہوں جب بھی مجھ کو خواب سفر کا آتا ہے اٹھ کر پھر میں نیند میں چلنے لگتی ہوں ایک دھوئیں کا چھلا تیری سگریٹ کا میں اپنی انگلی میں پہنا رکھتی ہوں
paagal huun puuri ki puuri jhakki huun





