"muD ke tufan ko barha dekha nazd-e-sahil jo mauj le aa.i"
Prem Shankar Goila Farhat
Prem Shankar Goila Farhat
Prem Shankar Goila Farhat
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"shaghl-e-mai fart-e-gham men kya karte is men thi dukht-e-raz ki rusva.i"
muD ke tufaan ko baarhaa dekhaa
nazd-e-saahil jo mauj le aai
shaghl-e-mai fart-e-gham mein kyaa karte
is mein thi dukht-e-raz ki rusvaai
Ghazalغزل
lutf rahegaa ham-nashin zaahid baa-vazu bhi hai
لطف رہے گا ہم نشیں زاہد با وضو بھی ہے آج گھٹا کے دوش پر ساز بھی ہے سبو بھی ہے پیش نگاہ مضطرب حاصل جستجو بھی ہے یعنی وہ شوخ مائل پرسش آرزو بھی ہے عطر فشاں شمیم گل باد صبا لطیف تر تازہ کن مشام جاں گیسوئے مشک بو بھی ہے چنگ بدست نے بہ لب مطرب دلنواز بھی گرم نوا چمن چمن طائر خوش گلو بھی ہے تجھ پہ یہ راز منکشف زاہد خلد جو کہاں حاصل جنت نظر عالم رنگ و بو بھی ہے
jab tabiat sukun se ghabraai
جب طبیعت سکوں سے گھبرائی لے چلا ذوق آبلہ پائی وہ ہوئے مائل مسیحائی موت پھر زندگی سے شرمائی زلف بکھری کہ بس گھٹا چھائی اہل تقوی پہ اک بلا آئی طائر آرزو نے پر تولے صحن دل میں چلی ہے پروائی مڑ کے طوفاں کو بارہا دیکھا نزد ساحل جو موج لے آئی کشمکش وہ جنون و ہوش میں ہے بن گیا حسن بھی تماشائی روح و تن میں ازل سے نسبت ہے پھر بھی ہیں تشنۂ شناسائی شیخ کو خلد و حور کا سودا ہائے یہ لذتوں کی گیرائی مے کدہ کا یہ معجزہ ہے عجیب کفر و دیں میں بھی ہے شناسائی شغل مے فرط غم میں کیا کرتے اس میں تھی دخت رز کی رسوائی دن کو مسجد تو شب کو مے خانہ تجھ سا فرحتؔ ہے کون ہرجائی
dars detaa hai shakebaai kaa
درس دیتا ہے شکیبائی کا وہ ترا زعم مسیحائی کا طائر دید تماشائی کا معترف ہے تری گیرائی کا ہے یہی شرح حدیث آدم زندگی نام ہے رسوائی کا نقص پرواز نظر ہے ورنہ آئنہ ہوں تری یکتائی کا بن گیا راہنمائے منزل وہ بھٹکنا ترے سودائی کا تیری محفل کی فضائے رنگیں نقش جیسے کوئی چغتائی کا بن گیا سوز محبت فرحتؔ اک حریف آتش بینائی کا
taDap kali ki hai ye ishrat-e-numu ke liye
تڑپ کلی کی ہے یہ عشرت نمو کے لئے کہ اضطراب ہے عرفان رنگ و بو کے لئے رموز عرش تو کھل جائیں گے کبھی نہ کبھی حیات وقفہ ہے خود اپنی جستجو کے لئے کچھ اس قدر دل پر شوق بے خبر بھی نہیں مگر بضد ہے وہ انجام آرزو کے لئے چمن میں غنچے ہوئے مائل اذاں جس دم لٹائی صبح نے شبنم وہیں وضو کے لئے شمیم گلشن رضواں بصد نیاز آئی خراج لے کے تری زلف مشکبو کے لئے جگر کا چاک ہی مرہون بخیہ گر کیوں ہو یہ خود ہی رشتۂ سوزن بھی ہے رفو کے لئے ندیم کس کے قدم ہیں یہ زیب کاہکشاں چلا یہ کون کدھر کس کی جستجو کے لئے
ye sahn-o-ravish ye shams-o-qamar ye dasht-o-bayaabaan kuchh bhi nahin
یہ صحن و روش یہ شمس و قمر یہ دشت و بیاباں کچھ بھی نہیں جز اپنی حد پرواز نظر اے دیدۂ حیراں کچھ بھی نہیں ہے مجھ سے وجود ہست و عدم یوں ہست و عدم ہیں لا یعنی یہ زیست کا ساماں کچھ بھی نہیں یہ عمر گریزاں کچھ بھی نہیں اے دست جنوں ہے عار تجھے کیوں میری قبائے ہستی سے میں چاک جگر کا قائل ہوں یہ چاک گریباں کچھ بھی نہیں شامل ہے سرشت انساں میں طول شب غم کا عنصر بھی یہ شام فراق و غم آگیں صبح شب ہجراں کچھ بھی نہیں کینہ ہے تجھے کس دولت سے اس دامن ہستی میں کیا ہے جز وعدۂ رب کون و مکاں اے گردش دوراں کچھ بھی نہیں اک راہ پہ مجھ کو چھوڑ دیا منزل کا پتہ کچھ بھی نہ دیا اس باب کی میں تمہید بنا جس باب کا عنواں کچھ بھی نہیں قسام ازل نے تو بخشی آدم کو متاع عز و شرف اے گردش دوراں یہ تو بتا کیا عظمت انساں کچھ بھی نہیں فطرت ہے مری کچھ اس درجہ مانوس حقیقت اے گلچیں تقریب بہاراں کچھ بھی نہیں تخریب گلستاں کچھ بھی نہیں صہبائے گراں مایہ ہے عطا مداح مئے خود داری ہوں اے جام و سبو کے شیدائی یہ خواہش ارزاں کچھ بھی نہیں کیا شرح نگاہ دوست کروں دیکھا ہی نہیں کچھ اس کے سوا ہوتا ہے عنایت درد بہت اور درد کا درماں کچھ بھی نہیں وہ کشتئ دل ہی ڈوب چکی جو زیست کا حاصل تھی فرحتؔ اب راحت ساحل کچھ بھی نہیں اب شورش طوفاں کچھ بھی نہیں





