ye kyaa ki baiThaa hai dariyaa kinaar-e-dariyaa par
main aaj bahtaa huaa jaa rahaa huun paani mein

Qasim Yaqub
Qasim Yaqub
Qasim Yaqub
Popular Shayari
4 totalkyaa ho sake hisaab ki jab aagahi kahe
ab tak to raaegaani mein saaraa safar kiyaa
ye jhaank leti hai andar se aarzu-khaana
havaa kaa qad miri divaar se ziyaada hai
dar-e-imkaan ki dastak mujhe bheji gai hai
meri qismat mein to maujud ki daulat nahin hai
Ghazalغزل
شکستہ گھر میں کوئی چیز بھی نہیں پوری کہیں ہوا تو کہیں روشنی نہیں پوری میں تجھ کو دیکھ تو سکتا ہوں چھو نہیں سکتا تو ہے مگر تری موجودگی نہیں پوری انا سنبھالتے دل کھو دیا ہے میں نے وہیں تمہارے سامنے سے واپسی نہیں پوری میں سوچتا ہوں کہ اب کوزہ گر بدل ہی لوں جو مل رہی ہے مجھے بہتری نہیں پوری میں رو رہا ہوں مگر سانحہ بتاتا ہے کہ اس کی آنکھ سے وابستگی نہیں پوری کہیں تو ہو جہاں بچے ہی صرف رہتے ہوں کسی علاقے میں بھی زندگی نہیں پوری
shikasta ghar mein koi chiiz bhi nahin puuri
وادئ غم میں تیرے ساتھ ساتھ بھٹک رہا ہوں میں تجھ کو مری تلاش ہے اور تجھے ڈھونڈتا ہوں میں ہنستا ہوں بولتا بھی ہوں روتا ہوں سوچتا بھی ہوں پورا مزاج آدمی سب کو دکھا رہا ہوں میں اتنا ہجوم آدمی ہے کہ حساب میں نہیں پھر بھی گلہ ہے آنکھ سے کچھ نہیں دیکھتا ہوں میں دیکھتا ہوں میں واقعات سلسلۂ تغیرات صدیوں سے وسط میں بنا شہر کا راستہ ہوں میں موجۂ گرد رہ اٹھا حاصل زندگی لگا قافلۂ حیات کی سعی سے آشنا ہوں میں
vaadi-e-gham mein tere saath saath bhaTak rahaa huun main
با ثمر ہونے کی امید پہ بیٹھا ہوں میں اپنی تقدیر میں بارانی علاقہ ہوں میں حدت لمس مجھے آتش احساس لگا برف آلود ہواؤں کا جمایا ہوں میں میرے کردار کو اس دور نے سمجھا ہی نہیں قصۂ عہد گذشتہ کا حوالہ ہوں میں عمر ہے رسی پہ چلتے ہوئے شعلے کی طرح کھیل میں گیند پکڑتا ہوا بچہ ہوں میں ہنستا ہوں کھیلتا ہوں چیختا ہوں روتا ہوں اتنے متضاد رویوں کا ٹھکانہ ہوں میں ہر نئے پات کی آمد کی خوشی مجھ سے ہے اور ہر جھڑتی ہوئی شاخ کا صدمہ ہوں میں ایسے ماحول کا حصہ ہوں جو میرا نہیں ہے کبھی فریاد سراپا کبھی شکوہ ہوں میں
baa-samar hone ki ummid pe baiThaa huun main
کس مشقت سے مجھے جسم اٹھانا پڑا ہے شام ہوتے ہی ترے شہر سے جانا پڑا ہے میں تجھے ہنستا ہوا دیکھ کے یہ بھول گیا کہ مرے چاروں طرف روتا زمانہ پڑا ہے جمع پونجی ہے مرے جسم میں کچھ آنسوؤں کی یہ مرا دل تو نہیں ایک خزانہ پڑا ہے دیر تک باغ کے کونے میں کوئی آیا نہیں بات کرنے کے لیے خود کو بلانا پڑا ہے دن نے دستک دی تو کوئی بھی نہیں جاگا تھا آج سورج سے مجھے ہاتھ ملانا پڑا ہے خالی جگہوں کی طرف کر کے اشارہ قاسمؔ کیا بتاتے ہو یہاں میرا نشانہ پڑا ہے
kis mashaqqat se mujhe jism uThaanaa paDaa hai
کچھ اور بھی زیادہ سنور کے دکھاؤں گا اے زندگی ترے لیے مر کے دکھاؤں گا طغیانیاں تو رخت سفر ہیں مرے لیے ساحل پہ ایک روز اتر کے دکھاؤں گا کب تک سمیٹ رکھوں شرار جنوں کو میں جنگل کی آگ ہوں تو بکھر کے دکھاؤں گا خواہش سے کب یہ ہاتھ فلک تک پہنچتا ہے جو کہہ رہا ہوں میں اسے کر کے دکھاؤں گا سارا سفر فقط نہیں سائے کے واسطے شاخ و گل و ثمر بھی شجر کے دکھاؤں گا
kuchh aur bhi ziyaada sanvar ke dikhaaungaa





