tum ne hanste mujhe dekhaa hai tumhein kyaa maalum
karni paDti hai adaa kitni hansi ki qimat

Raees Rampuri
Raees Rampuri
Raees Rampuri
Popular Shayari
5 totalsab ke liye savaal ye kab hai ki kyaa na ho
un ko to mujh se zid hai ki meraa kahaa na ho
ab bhi koh-e-tur par goyaa zabaan-e-haal se
hai koi aur us ke jalve kaa tamannaai ki bas
aaj vahshat se miri ghabraa gae vo bhi 'rais'
aaj to khud par mujhe itni hansi aai ki bas
chaudhvin kaa chaand phulon ki mahak ThanDi havaa
raat us kaafir adaa ki aisi yaad aai ki bas
Ghazalغزل
جیسے کوئی ربط نہیں ہو جیسے ہوں انجانے لوگ کیا سے کیا ہو جاتے ہیں اکثر جانے پہچانے لوگ منہ سے بات نکلتے ہی سو گڑھ لیں گے افسانے لوگ بیٹھے بیٹھے بن لیتے ہیں کیسے تانے بانے لوگ دیر و حرم ہی سے دنیا کو ہوش کی راہیں ملتی ہیں دیر و حرم کے نام پہ ہی بن جاتے ہیں دیوانے لوگ کوئی انہیں بھی تو سمجھائے کوئی کچھ ان سے بھی کہے جب دیکھو تب آ جاتے ہیں مجھ کو ہی سمجھانے لوگ حضرت زاہد سمجھا دیں تو توبہ کر لوں میں بھی رئیسؔ بادل کیوں چھا جاتے ہیں جب جاتے ہیں میخانے لوگ
jaise koi rabt nahin ho jaise hon anjaane log
اپنی آنکھیں ہیں اور تمہارے خواب کتنے پر کیف ہیں ہمارے خواب ان کے حق میں بڑا سہارا ہیں دیکھتے ہیں جو بے سہارے خواب حاصل زندگی جنہیں کہئے کچھ ہمارے ہیں کچھ تمہارے خواب یوں ہی بنتے بگڑتے رہتے ہیں گردش وقت کے سہارے خواب ہاں نہ ٹوٹے طلسم خوش فہمی یوں ہی دیکھو رئیسؔ پیارے خواب
apni aankhein hain aur tumhaare khvaab
خود اپنی ذلت و خواری نہ کرنا کسی کم ظرف سے یاری نہ کرنا اگر تم شاد رہنا چاہتے ہو کسی کی بھی دل آزاری نہ کرنا اگر توفیق ہو سچ بولنے کی تو اپنی بھی طرف داری نہ کرنا تمہیں ہم جانتے پہچانتے ہیں کبھی ہم سے اداکاری نہ کرنا کسی کے ساتھ کر لینا عبادت ہر اک کے ساتھ مے خواری نہ کرنا نہ گر جانا رئیسؔ اپنی نظر سے کبھی توہین خودداری نہ کرنا
khud apni zillat-o-khvaari na karnaa
کیا کہیں یہ جبر کیسا زندگی کے ساتھ ہے ہم کسی کے ساتھ ہیں اور دل کسی کے ساتھ ہے زندہ رکھنے کی روایت آستیں کے سانپ کی اک نہ اک ہمدرد بھی ہر آدمی کے ساتھ ہے اپنی اپنی مصلحت ہے اپنا اپنا ہے مفاد ورنہ اس دنیا میں کب کوئی کسی کے ساتھ ہے ہو چکی ہیں مشکلات راہ سب پر آشکار اب جو میرے ساتھ ہے اپنی خوشی کے ساتھ وضع داری کی قسم ہے شہر میں بس اک رئیسؔ دیکھیے جب بھی اسے زندہ دلی کے ساتھ ہے
kyaa kahein ye jabr kaisaa zindagi ke saath hai
دل میں مرے ارمان بہت ہیں اس گھر میں مہمان بہت ہیں آپ زمانے کو کیا جانیں آپ ابھی نادان بہت ہیں ایسے ہی ہنس کر دل رکھ لو ویسے تو ارمان بہت ہیں ہے تو ان کا نام لبوں پر اتنے بھی اوسان بہت ہیں غور کرو گے تو کانٹوں کے گلشن پر احسان بہت ہیں
dil mein mire armaan bahut hain





