"ham itne pareshan the ki hal-e-dil-e-sozan un ko bhi sunaya ki jo gham-khvar nahin the"

Razi Akhtar Shauq
Razi Akhtar Shauq
Razi Akhtar Shauq
Sherشعر
ham itne pareshan the ki hal-e-dil-e-sozan
ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے
aap hi aap diye bujhte chale jaate hain
آپ ہی آپ دیے بجھتے چلے جاتے ہیں اور آسیب دکھائی بھی نہیں دیتا ہے
ham ruh-e-safar hain hamen namon se na pahchan
ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ
mujh ko paana hai to phir mujh men utar kar dekho
مجھ کو پانا ہے تو پھر مجھ میں اتر کر دیکھو یوں کنارے سے سمندر نہیں دیکھا جاتا
do badal aapas men mile the phir aisi barsat hui
دو بادل آپس میں ملے تھے پھر ایسی برسات ہوئی جسم نے جسم سے سرگوشی کی روح کی روح سے بات ہوئی
ab kaise charagh kya charaghan
اب کیسے چراغ کیا چراغاں جب سارا وجود جل رہا ہے
Popular Sher & Shayari
12 total"aap hi aap diye bujhte chale jaate hain aur aaseb dikha.i bhi nahin deta hai"
"ham ruh-e-safar hain hamen namon se na pahchan kal aur kisi naam se aa ja.enge ham log"
"mujh ko paana hai to phir mujh men utar kar dekho yuun kinare se samundar nahin dekha jaata"
"do badal aapas men mile the phir aisi barsat hui jism ne jism se sargoshi ki ruuh ki ruuh se baat hui"
"ab kaise charagh kya charaghan jab saara vajud jal raha hai"
mujh ko paanaa hai to phir mujh mein utar kar dekho
yuun kinaare se samundar nahin dekhaa jaataa
ham itne pareshaan the ki haal-e-dil-e-sozaan
un ko bhi sunaayaa ki jo gham-khvaar nahin the
ham ruh-e-safar hain hamein naamon se na pahchaan
kal aur kisi naam se aa jaaeinge ham log
aap hi aap diye bujhte chale jaate hain
aur aaseb dikhaai bhi nahin detaa hai
do baadal aapas mein mile the phir aisi barsaat hui
jism ne jism se sargoshi ki ruuh ki ruuh se baat hui
ab kaise charaagh kyaa charaaghaan
jab saaraa vajud jal rahaa hai
Ghazalغزل
rang ab yuun tiri tasvir mein bhartaa jaaun
رنگ اب یوں تری تصویر میں بھرتا جاؤں تجھ پہ رنگ آئے میں جاں سے بھی گزرتا جاؤں وہ دیا ہوں کہ ہواؤں سے بھی ڈرتا جاؤں فرط پندار سے پھر رقص بھی کرتا جاؤں عجب آشوب دیا میرے خدا نے مجھ کو اک تمنائے مسیحائی میں مرتا جاؤں مجھ کو جھٹلاتی رہیں وہ مری منکر آنکھیں اور میں صورت خورشید ابھرتا جاؤں میرے چہرے پہ نہ جاؤ کہ مرا حسن ہے یہ اپنے لکھے ہوئے لفظوں میں نکھرتا جاؤں ایسی تنہائی کا عالم ہے کہ ہر شخص کے پاس اک پذیرائی کی حسرت میں ٹھہرتا جاؤں شوقؔ شاعر بھی ہوں اندیشۂ جاں بھی ہے مجھے روح میں شور کروں لفظ میں ڈرتا جاؤں
na faasle koi rakhnaa na qurbatein rakhnaa
نہ فاصلے کوئی رکھنا نہ قربتیں رکھنا بس اب بقدر غزل اس سے نسبتیں رکھنا یہ کس تعلق خاطر کا دے رہا ہے سراغ کبھی کبھی ترا مجھ سے شکایتیں رکھنا میں اپنے سچ کو چھپاؤں تو روح شور مچائے عذاب ہو گیا میرا سماعتیں رکھنا فضائے شہر میں اب کے بڑی کدورت ہے بہت سنبھال کے اپنی محبتیں رکھنا ہم اہل فن کو بھی گمنامیاں تھیں راس بہت ہوا ہے باعث رسوائی شہرتیں رکھنا قصیدہ خوانی کرو اور موج اڑاؤ کہ شوقؔ تمام کار زیاں ہے صداقتیں رکھنا
main duniyaa apne andar dekhtaa huun
میں دنیا اپنے اندر دیکھتا ہوں یہیں سے سارے منظر دیکھتا ہوں دیے ہیں رنگ تصویروں کو اتنے کہ اب تصویر بن کر دیکھتا ہوں مرے چہرہ سے نکلا ہے وہ چہرہ کہ آئینہ مکرر دیکھتا ہوں زمیں کا مال و زر کیا دیکھتا میں کہاں میں اتنا جھک کر دیکھتا ہوں وہ لمحہ جو ابھی آیا نہیں ہے ابھی سے اس کے تیور دیکھتا ہوں مجھے اس جرم میں اندھا کیا ہے کہ بینائی سے بڑھ کر دیکھتا ہوں نشاط دید تھا آنکھوں کا جانا کہ اب پہلے سے بہتر دیکھتا ہوں ابھی کچھ مصلحت باقی ہے شاید ابھی تک دوش پر سر دیکھتا ہوں مجھے لوٹا ہے اتنا رہزنوں نے کہ اب خود کو تونگر دیکھتا ہوں میں وہ پامال سہو کوزہ گر ہوں کہ اک گردش برابر دیکھتا ہوں کوئی لوٹا نہیں ہے جانے والا مگر اک خواب اکثر دیکھتا ہوں میں تنہا لڑ رہا ہوں جنگ اپنی سو پیچھے ایک لشکر دیکھتا ہوں کسی سے کوئی اندیشہ نہیں ہے یوں ہی لوگوں کے تیور دیکھتا ہوں عجب کیا ہے کوئی آواز آئے سو میں آواز دے کر دیکھتا ہوں
phir jo dekhaa duur tak ik khaamushi paai gai
پھر جو دیکھا دور تک اک خامشی پائی گئی میں تو سمجھا تھا کہ اک میری ہی گویائی گئی پھر وہی بادل کہ جی اڑنے کو چاہے جن کے ساتھ پھر وہی موسم کہ جب زنجیر پہنائی گئی پھر وہی طائر وہی ان کی غزل خوانی کے دن پھر وہی رت جس میں میری نغمہ پیرائی گئی کچھ تو ہے آخر جو سارا شہر تاریکی میں ہے یا مرا سورج گیا یا میری بینائی گئی تھم گئے سب سنگ سب شور ملامت رک گیا میں ہی کیا جی سے گیا ساری صف آرائی گئی پوچھتی ہے دستکیں دے دے کے شوریدہ ہوا کس کا خیمہ تھا کہ جس میں روشنی پائی گئی
jis pal main ne ghar ki imaarat khvaab-aasaar banaai thi
جس پل میں نے گھر کی عمارت خواب آثار بنائی تھی اس لمحے ویرانی نے بھی اک رفتار بنائی تھی ہم نے ہی مہر کو زہر سے بدلا ورنہ زمیں کی گردش نے دن غم خوار بنایا تھا اور شب دل دار بنائی تھی ٹوٹے دل پلکوں سے سنبھالیں اب ایسے فن کار کہاں ورنہ یہ دنیا جب اجڑی تھی سو سو بار بنائی تھی اپنی راہ کے سارے کانٹے میں نے آپ ہی بوئے تھے ورنہ خواب ازل نے دنیا کم آزار بنائی تھی کوچہ کوچہ ماتم ہوگا گلیوں گلیوں واویلا اس پر پہلے کیوں نہیں سوچا جب دستار بنائی تھی کب تک ایک ہی منظر چنتے اپنی انا کے زندانی آج اسی میں در مانگیں ہیں جو دیوار بنائی تھی
main kahaan aur arz-e-haal kahaan
میں کہاں اور عرض حال کہاں وہ کہاں اور مرا خیال کہاں میں ستارہ نہ تم گلاب ہوئے مل رہے ہیں مگر وصال کہاں آگ سوچوں تو خاک لکھتا ہوں متفق لفظ اور خیال کہاں ہے وفا کا صلہ وفا سچ ہے لیکن ایسی کوئی مثال کہاں مجھ کو پامال عمر کرتے ہوئے جا رہے ہیں یہ ماہ و سال کہاں پوچھتا ہوں جواز کون و مکاں لے گئی جرأت سوال کہاں اسدؔاللہ خاں کی دین ہے یہ شوقؔ تم ایسے خوش خیال کہاں





