SHAWORDS
Safi Aurangabadi

Safi Aurangabadi

Safi Aurangabadi

Safi Aurangabadi

poet
3Sher
3Shayari
12Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

6 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

bad-gumaan kyaa qabr mein armaan tire le jaaeinge

بد گماں کیا قبر میں ارماں ترے لے جائیں گے ہم اکیلے آئے ہیں جیسے اکیلے جائیں گے کس قدر ثابت قدم ہیں رہ روان کوئے دوست جائیں گے پھر ان کی کوئی جان لے لے جائیں گے حضرت دل اور پھر جائیں نہ اس کی بزم میں جھڑکیاں دے لے کوئی الزام دے لے جائیں گے تم ستا لو مجھ کو لیکن یوں نہ ہر اک سے ملو ظلم سہہ لوں گا مگر صدمے نہ جھیلے جائیں گے اس گلی میں ڈال دو تا سنبھلیں ٹھوکر کھا کے غیر یوں بھی اک دن خاک میں آنکھوں کے ڈھیلے جائیں گے ہے دعاؤں کا اثر سنگ حوادث ہی اگر اپنے ہاتھوں پھر تو یہ صدمے نہ جھیلے جائیں گے خیر خواہوں راز داروں کی بہت نیت دیکھ لی آج سے ہم اس کی محفل میں اکیلے جائیں گے بے کسی میں کون کس کا ساتھ دیتا ہے صفیؔ ملنے والے ہیں تماشے کے یہ میلے جائیں گے

غزل · Ghazal

tiraa be-muddaaa maange duaa kyaa

ترا بے مدعا مانگے دعا کیا مرض ہے تندرستی میں دوا کیا کہیں کیا کیا کیا ہے ہم نے کیا کیا تجھے اے بے وفا قدر وفا کیا تبسم ہو جواب مدعا کیا کہا کیا آپ نے میں نے سنا کیا کہو آخر ذرا میں بھی تو سن لوں مری نسبت سنا ہے تم نے کیا کیا تمہاری مہربانی ہے تو سب ہے مرا ارمان میرا مدعا کیا نہ دیکھیں وہ تو اپنا گریہ بے سود نہ پوچھیں وہ تو اپنا مدعا کیا چلا تو بھی جو اے دل لینے والے ہمارے پاس پھر باقی رہا کیا ادائیں تم کو بخشیں ہم کو آنکھیں کرے گا اور بندوں سے خدا کیا جو مجھ کو آپ ہی در سے اٹھا دیں کوئی رکھے کسی کا آسرا کیا سمجھتے ہو جو اپنے آپ کو تم اسے سمجھے گا کوئی دوسرا کیا کھلاتے ہو قسم ضبط فغاں پر ذرا سوچو مرض کیا ہے دوا کیا مرے گھر کو تم اپنا گھر نہ سمجھو تو ایسی میہمانی کا مزا کیا صفیؔ خود بینی ٹھہرے جن کا شیوہ نظر آئے گا ان کو دوسرا کیا

غزل · Ghazal

jo husn-o-ishq se amn-o-amaan mein rahte hain

جو حسن و عشق سے امن و اماں میں رہتے ہیں کہاں کے لوگ ہیں وہ کس جہاں میں رہتے ہیں کلام پاک میں ہے ذکر حضرت یوسف یہ حسن و عشق ہر اک داستاں میں رہتے ہیں الٰہی اب سے حسینوں کو مہربان بنا کہ تیرے بندے انہیں کی اماں میں رہتے ہیں تمہیں تو ہو وہ جو درد و الم میں رکھتے ہو ہمیں تو ہیں وہ جو آہ و فغاں میں رہتے ہیں مجھے تو آپ سے مطلب ہے چاند سورج کون وہ ان کو چاہیں گے جو آسماں میں رہتے ہیں کدھر کدھر کے چلے آتے ہیں یہ بے وحدت کہاں کہاں کے تمہارے مکاں میں رہتے ہیں امید رنج الم ضبط درد صبر قلق یہ سب ہمارے دل ناتواں میں رہتے ہیں ہزاروں کام ہیں ایسے بھی دیکھ اے غافل کہ بعد مرگ بھی لوگ اس جہاں میں رہتے ہیں خدا سمجھ لے لگانے بجھانے والوں کو یہ خواہ مخواہ یہاں میں وہاں میں رہتے ہیں اشارے آپ کی ابرو کے کوئی کیا جانے کہ کتنے زہر کے تیر اس کماں میں رہتے ہیں ہماری خاص ترقی ہے خانہ ویرانی کبھی مکاں میں تھے اب لا مکاں میں رہتے ہیں اگر سمجھ ہے تو دل دے کے لطف زیست اٹھا ہزار فائدے اس اک زیاں میں رہتے ہیں خیال دوست میں رہتے ہیں اے صفیؔ جب تک تو اس جہاں میں نہ ہم اس جہاں میں رہتے ہیں

غزل · Ghazal

kyaa ho taskin jo ho teri sukunat dil mein

کیا ہو تسکین جو ہو تیری سکونت دل میں رہے آغوش میں یا پیار کی صورت دل میں موت چاہوں تو کروں سوز محبت کا علاج کیا رہے گا نہ رہے گی جو حرارت دل میں دل نشیں ہے جو مجھے طالب عزت ہونا چھپ کے بیٹھا ہے کوئی صاحب عزت دل میں دل کو سب لوگ یہ کہتے ہیں خدا کا گھر ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہے تیری امانت دل میں سن رہا ہوں وہ عیادت کے لئے آتے ہیں آج ہے پرسش اعمال کی ہیبت دل میں توبہ توبہ میں سمجھتا تھا کہ دل ہے بیتاب خود وہ بیتاب ہے جس کی ہے سکونت دل میں دل میں رہنے کا تجھے حق تو ہے لیکن اے شوخ کاش ہوتی ترے چہرے کی متانت دل میں جانتے ہیں مری بے راہروی کے اسباب مانتے ہیں مجھے یاران طریقت دل میں ٹھن گئی تھی ترے اخلاق کی بے جا تعریف اب نہ آتا تو یہ آئی تھی شرارت دل میں ہے ابھی تک تو فقط شکوۂ دشمن اے دوست کہیں پیدا نہ ہو کچھ اور شکایت دل میں چاہتا ہوں جسے بن جائے اگر وہ ساقی بڑھتی جائے ہوس کوثر و جنت دل میں ذوق‌ دیدار بھی کیا چیز ہے اللہ اللہ میری آنکھوں میں بصارت ہے بصیرت دل میں کاش من جملۂ آزار محبت نکلے کار فرما نظر آتی ہے جو قوت دل میں ہیں ابھی تک تمہیں دنیا کے مزے یاد صفیؔ عاشقی کرتے ہو رکھ کر یہ ملامت دل میں

غزل · Ghazal

tabiat bujh gai jab se tire didaar ko tarse

طبیعت بجھ گئی جب سے ترے دیدار کو ترسے اگر اب نیند بھی آتی ہے اٹھ جاتے ہیں بستر سے ہمیں معشوق کو اپنا بنانا تک نہیں آتا بنانے والے آئینہ بنا لیتے ہیں پتھر سے زباں سے آہ نکلی دل سے نالہ آنکھوں سے آنسو مگر اک تیری دھن ہے جو نکلتی ہی نہیں سر سے ارے نادان سچا چاہنے والا نہیں ملتا وو لیلیٰ تھی کہ جس کو مل گیا مجنوں مقدر سے ملن ساری بھی سیکھو جب نگاہ ناز پائی ہے مری جاں آدمی اخلاق سے تلوار جوہر سے خدا کی شان مطلب آشنا ایسے بھی ہوتے ہیں بتوں نے بن کے بت سجدہ کرایا پہلے بت گر سے صفیؔ کو مسکرا کر دیکھ لو غصہ سے کیا حاصل اسے تم زہر کیوں دیتے ہو جو مرتا ہے شکر سے

غزل · Ghazal

dil jab se dard-e-ishq ke qaabil nahin rahaa

دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہا اک ناگوار چیز ہے اب دل نہیں رہا وہ میں نہیں رہا وہ مرا دل نہیں رہا اب ان کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا کیا التجائے دید کروں دیکھتا ہوں میں آئینہ بھی ہمیشہ مقابل نہیں رہا اب وہ خفا ہوئے ہیں تو یوں بھی ہے اک خوشی مرنا ہمارے واسطے مشکل نہیں رہا دنیا غرض کی رہ گئی اب اس سے کیا غرض چلئے کہ لطف شرکت محفل نہیں رہا سن سن کے اہل عشق و محبت کے واقعات دنیا کا کوئی کام بھی مشکل نہیں رہا دنیا کے نیک و بد پہ مری رائے کچھ نہیں اب تک ادھر خیال ہی مائل نہیں رہا مجھ سے نہ پوچھو حسرت آرائش جمال آئینہ بن کے ان کے مقابل نہیں رہا اک ناامید کے لئے اتنا نہ سوچئے آزردہ دل رہا بھی تو بے دل نہیں رہا وہ جان لے چکیں تو کوئی ان سے پوچھ لے اب تو کچھ اس غریب پہ فاضل نہیں رہا آیا نہ خواب میں بھی کبھی غیر کا خیال غفلت میں بھی میں آپ سے غافل نہیں رہا بے بندگی بھی اس کی رہی بندہ پروری ملتا رہا اگرچہ میں سائل نہیں رہا وہ ہاتھ ہیں صفیؔ مجھے اک آستیں کا سانپ گردن میں دوست کے جو حمائل نہیں رہا

Similar Poets