"qurbaten hote hue bhi faslon men qaid hain kitni azadi se ham apni hadon men qaid hain"

Saleem Kausar
Saleem Kausar
Saleem Kausar
Sherشعر
See all 49 →qurbaten hote hue bhi faslon men qaid hain
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں
kahani likhte hue dastan sunate hue
کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے وہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے
aur is se pahle ki sabit ho jurm-e-khamoshi
اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشی ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں
ham ne to khud se intiqam liya
ہم نے تو خود سے انتقام لیا تم نے کیا سوچ کر محبت کی
a.ina khud bhi sanvarta tha hamari khatir
آئینہ خود بھی سنورتا تھا ہماری خاطر ہم ترے واسطے تیار ہوا کرتے تھے
main khayal huun kisi aur ka mujhe sochta koi aur hai
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
Popular Sher & Shayari
98 total"kahani likhte hue dastan sunate hue vo so gaya hai mujhe khvab se jagate hue"
"aur is se pahle ki sabit ho jurm-e-khamoshi ham apni raa.e ka iz.har karna chahte hain"
"ham ne to khud se intiqam liya tum ne kya soch kar mohabbat ki"
"a.ina khud bhi sanvarta tha hamari khatir ham tire vaste tayyar hua karte the"
"main khayal huun kisi aur ka mujhe sochta koi aur hai sar-e-a.ina mira aks hai pas-e-a.ina koi aur hai"
qurbatein hote hue bhi faaslon mein qaid hain
kitni aazaadi se ham apni hadon mein qaid hain
intizaar aur dastakon ke darmiyaan kaTti hai umr
itni aasaani se to baab-e-hunar khultaa nahin
main kisi ke dast-e-talab mein huun to kisi ke harf-e-duaa mein huun
main nasib huun kisi aur kaa mujhe maangtaa koi aur hai
vaqt ruk ruk ke jinhein dekhtaa rahtaa hai 'salim'
ye kabhi vaqt ki raftaar huaa karte the
saae gali mein jaagte rahte hain raat bhar
tanhaaiyon ki oT se jhaankaa na kar mujhe
aaina khud bhi sanvartaa thaa hamaari khaatir
ham tire vaaste tayyaar huaa karte the
Ghazalغزل
ye log jis se ab inkaar karnaa chaahte hain
یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں وہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیں ہمیں خبر ہے کہ گزرے گا ایک سیل فنا سو ہم تمہیں بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشی ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں یہاں تک آ تو گئے آپ کی محبت میں اب اور کتنا گنہ گار کرنا چاہتے ہیں گل امید فروزاں رہے تری خوشبو کہ لوگ اسے بھی گرفتار کرنا چاہتے ہیں اٹھائے پھرتے ہیں کب سے عذاب در بدری اب اس کو وقف رہ یار کرنا چاہتے ہیں جہاں کہانی میں قاتل بری ہوا ہے وہاں ہم اک گواہ کا کردار کرنا چاہتے ہیں وہ ہم ہیں جو تری آواز سن کے تیرے ہوئے وہ اور ہیں کہ جو دیدار کرنا چاہتے ہیں
achchhaa hai isi surat-e-haalaat mein rahnaa
اچھا ہے اسی صورت حالات میں رہنا دن شہر میں اور رات مضافات میں رہنا ہر رات ستاروں کو زمیں پر لئے پھرنا ہر صبح کہیں حمد و مناجات میں رہنا اس بھیڑ میں گرد در و دیوار ہے اتنی ممکن ہی نہیں ہاتھ کسی ہات میں رہنا اس شخص کی چاہت بھی عجب ہے کہ ہمیشہ خاطر میں نہ لانا تو مدارات میں رہنا یہ شہر سمندر کے کنارے پہ ہے آباد اس شہر میں رہنا بھی تو اوقات میں رہنا ہم اہل طریقت کی یہی رسم رہی ہے زندان میں یا حلقۂ سادات میں رہنا دکھنا تو سلیمؔ اپنے رویے ہی پہ دکھنا خوش رہنا تو اپنی ہی کسی بات میں رہنا
tujh se baDh kar koi pyaaraa bhi nahin ho saktaa
تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتا پر ترا ساتھ گوارا بھی نہیں ہو سکتا پاؤں رکھتے ہیں پھسل سکتا ہے مٹی ہو کہ ریت ہر کنارا تو کنارا بھی نہیں ہو سکتا اس تک آواز پہنچنی بھی بڑی مشکل ہے اور نہ دیکھے تو اشارہ بھی نہیں ہو سکتا تیرے بندوں کی معیشت کا عجب حال ہوا عیش کیسا کہ گزارا بھی نہیں ہو سکتا اپنا دشمن بھی دکھائی نہیں دیتا ہو جسے ایسا لشکر تو صف آرا بھی نہیں ہو سکتا حسن ایسا کہ چکا چوند ہوئی ہیں آنکھیں حیرت ایسی کہ نظارا بھی نہیں ہیں آنکھیں ویسے وہ شخص ہمارا تو کبھی تھا ہی نہیں دکھ تو یہ ہے کہ تمہارا بھی نہیں ہو سکتا دنیا اچھی بھی نہیں لگتی ہم ایسوں کو سلیمؔ اور دنیا سے کنارا بھی نہیں ہو سکتا
main use tujh se milaa detaa magar dil mere
میں اسے تجھ سے ملا دیتا مگر دل میرے میرے کچھ کام نہیں آئے وسائل میرے وہ جنوں خیز مسافت تھی کہ دیکھا ہی نہیں عمر بھر پاؤں سے لپٹی رہی منزل میرے تو ملا ہے تو نکل آئے ہیں دشمن سارے وقت کس کس کو اٹھا لایا مقابل میرے ابر گریہ نے وہ طوفان اٹھائے اب کے میرے دریاؤں کو کم پڑ گئے ساحل میرے جتنا حل کرتا ہوں اتنا ہی بگڑ جاتے ہیں تو نہیں جانتا اے دوست مسائل میرے عشق میں ہار کے معنی ہی بدل جاتے ہیں تجھ کو معلوم نہیں ہے ابھی قاتل میرے بے انت سفر میرا مقدر ہے سلیمؔ مجھ میں طے کرتا ہے یہ کون مراحل میرے
junun tabdili-e-mausam kaa taqriron ki had tak hai
جنوں تبدیلی موسم کا تقریروں کی حد تک ہے یہاں جو کچھ نظر آتا ہے تصویروں کی حد تک ہے غبار آثار کرتی ہے مسافر کو سبک گامی طلسم منزل ہستی تو رہ گیروں کی حد تک ہے زمانے تو نے غم کو بھی نمائش کر دیا آخر نشاط گریہ و ماتم بھی زنجیروں کی حد تک ہے
tu suraj hai teri taraf dekhaa nahin jaa saktaa
تو سورج ہے تیری طرف دیکھا نہیں جا سکتا لیکن دیکھنے والوں کو روکا نہیں جا سکتا اب جو لہر ہے پل بھر بعد نہیں ہوگی یعنی اک دریا میں دوسری بار اترا نہیں جا سکتا اب بھی وقت ہے اپنی روش تبدیل کرو ورنہ جو کچھ ہونے والا ہے سوچا نہیں جا سکتا اس کی گلی میں جانے سے اسے ملنے سے خود کو روکا جا سکتا ہے پر روکا نہیں جا سکتا کسی کو چاہت اور کسی کو نفرت مارتی ہے کوئی بھی ہو اسے مرتے تو دیکھا نہیں جا سکتا ایک طرف ترے حسن کی حیرت ایک طرف دنیا اور دنیا میں دیر تلک ٹھہرا نہیں جا سکتا





